Mubashir Zaidi

بابا کی سچی باتیں

بابا گھر سے نکلتے ہوئے کبھی نہیں کہتے تھے کہ میں جارہا ہوں۔ نہ یہ بتاتے تھے کہ کہاں جارہے ہیں اور کب واپس آئیں گے۔
امی کو بابا کی یہ بات پسند نہیں آتی تھی۔ میں نے بعد میں چھوٹے ماموں میں بھی یہی عادت دیکھی۔ شاید اس دور میں مرد ایسی ہی طبیعت کے ہوتے تھے۔ ماموں تو اتنے مزے کے آدمی تھے کہ دفتر سے نکلے اور جہاز میں بیٹھ کر اسلام آباد پہنچ گئے۔ بیوی بچے انتظار کرتے حیران ہوتے رہتے تھے کہ دیر ہوگئی، ابھی تک کیوں نہیں آئے۔
بابا کے مشاغل کی تفصیل نہیں بتاسکتا۔ ابھی اتنا حوصلہ نہیں ہے۔ ہے تو سہی لیکن تفصیل سے لکھنے کو وقت کا جتنا خزانہ چاہیے، وہ مجھ غریب کے پاس ابھی نہیں ہے۔ بس یہ کہ بابا رات کو دیر سے آتے۔ کبھی نہ آتے۔ بینک کی ملازمت میں دوسرے شہروں میں بھی رہے۔
امی بے حد حساس تھیں۔ شاید وہ شادی سے پہلے ہی شدید ڈپریشن میں مبتلا تھیں۔ شوہر کی، ان کے خیال میں، لاپرواہیاں تباہ کن ثابت ہوئیں۔ ان کا ڈپریشن وقت کے ساتھ بڑھا۔ وہ، اور ہم، اور رشتے دار اس کا ذمے دار بابا کو سمجھتے تھے۔
میں خود شدید اینگزایٹی میں مبتلا ہوں۔ آج سے نہیں، بچپن سے۔ لیکن یہ حقیقت جاننے میں، اسے تسلیم کرنے میں اور پھر علاج پر قائل ہونے میں بعض اوقات پوری عمر لگ جاتی ہے۔
خوش قسمتی سے امی کو بہت اچھے ڈاکٹر ملے جنھوں نے اپنی سی کوشش کی لیکن ڈپریشن ایک حد تک ہی کم کیا جاسکتا ہے۔ بیشتر لوگ نہیں جانتے کہ اس کے اسباب بیرونی کم اور اندرونی زیادہ ہوتے ہیں۔ ان سے سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ہم سب کو ایک ولن درکار ہوتا ہے۔ امی کے ولن بابا تھے۔
میں امی کا بیٹا تھا۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ باپ بیٹے کا درست تعلق یہی ہے کہ ان میں کشیدگی رہے۔ اس اعتبار سے میرا اپنے بیٹے کے ساتھ ایب نارمل تعلق ہے۔ میں اس کا عاشق ہوں۔ وہ زبان سے نہ کہے لیکن عمل ایسا ہی ہے۔
امی کے انتقال کو پندرہ سال ہوچکے ہیں۔ مجھے اینگزائٹی کو سمجھنے، قبول کرنے اور پھر علاج کرتے ہوئے سات آٹھ سال ہوگئے۔ اب سوچتا ہوں کہ اینگزائٹی اور ڈپریشن کے مریض کے ساتھ گزارہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ میاں بیوی میں سے غلط کوئی نہیں ہوتا لیکن صورتحال کا ادراک، سمجھوتا، برداشت اور علاج نہ کیا جائے تو رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ کم از کم دل ضرور ٹوٹتے ہیں۔ بابا اور میری بیوی نے غیر معمولی برداشت کا مظاہرہ کیا۔
بابا سے میرا لو ہیٹ کا ریلیشن رہا۔ ہیٹ یعنی نفرت تو نہیں لیکن کھنچاو رہا۔ اس کے باوجود میرے بچپن سے ان کے انتقال تک ہم دوست رہے۔ بابا مجھ سے ایسی باتیں کرجاتے تھے جو قریبی دوستوں سے کرنے کے لیے بھی ہمت چاہیے۔ جوانی کی باتیں، نادانی کی باتیں۔ ایسے مشورے بھی دیے جن کی توقع ہم دوستوں سے کرسکتے ہیں۔
بابا کو پرائز بونڈ خریدنے کا شوق تھا۔ وہ خود کہتے تھے کہ ان کے ہاتھ میں چھینڈ ہیں۔ چھینڈ یعنی سوراخ۔ وہ پیسہ سنبھال نہیں سکتے تھے۔ خیر، میرا بھی یہی حال ہے۔ بابا پرائز بونڈ نہ خرید پاتے تو پرچیاں خرید لیتے۔ یہ ان کے دفتر کے پاس بولٹن مارکیٹ میں ملتی تھیں۔ شاید پرائز بونڈ کی قیمت سے دس فیصد پر۔ بونڈ لگ جائے تو ایجنٹ پورے پیسے دے دیتا تھا۔ نہ لگے تو ایک قرعہ اندازی کے بعد آپ کا پیسہ گیا۔ بابا نے ہزاروں روپے ان پرچیوں میں برباد کیے۔ ان کا یہ رویہ مجھے بالکل جواریوں والا لگتا تھا۔
ایک واقعہ میں کبھی لکھ چکا ہوں کہ ان کے پاس ایک نمبر کے پانچ بونڈ تھے۔ سیریز الگ ہوتی ہیں لیکن ایک نمبر کے کئی بونڈ ہوتے ہیں۔ انعام لگ جائے تو پانچ گنا رقم ملتی ہے۔ بابا کو پیسوں کی ضرورت پڑی تو وہ پانچ بونڈ دفتر میں ایک ساتھی کو بیچ دیے۔ قسمت دیکھیں کہ اگلی قرعہ اندازی میں وہ پہلا انعام لگ گیا۔
یہ نوے کی دہائی کی ابتدا کا ذکر ہے۔ ایک ہزار کے بونڈ پر پہلا انعام پانچ لاکھ تھا۔ پچیس لاکھ انعام ملا تو بابا کے اس کولیگ نے استعفا دے دیا۔ بابا کو اس سے پہلے انعام کی آرزو تھی۔ بعد میں زندگی بھر وہ بونڈ ہاتھ سے نکلنے کا افسوس رہا۔
میں نے بابا کی زندگی میں بہت پیسے کمائے اور انھیں دیے بھی۔ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کی الماری سے ڈیڑھ لاکھ کے بونڈ نکلے۔ چھوٹے بھائی نے انھیں پانچ حصوں میں تقسیم کیا اور سب کو ایک ایک حصہ دے دیا۔ میں امریکا آتے ہوئے وہ بونڈ ساتھ لے آیا کیونکہ ان سے بابا کی خوشبو آتی ہے۔
چند دن پہلے نہ جانے کیوں خیال آیا تو ان بونڈز کے نمبر ویب سائٹ پر چیک کیے۔ ان میں ایک بونڈ پر انعام نکلا ہوا تھا۔ نہ میں پاکستان جاوں گا، نہ وہ انعام لوں گا۔ لیکن بس خیال آتا ہے کہ بابا کی زندگی میں یہ بونڈ لگ جاتا تو اچھا ہوتا۔
بابا بہت حوصلے والے تھے۔ سخت مشکل میں بھی ان کے حواس بحال رہتے تھے۔ غم یا بیماری انھیں پریشان نہیں کرسکتی تھی۔ انھیں ہارٹ اٹیک ہوا تو بڑے تایا اور میں انھیں جناح کارڈیو اسپتال لے گئے۔ وہاں ان کے ڈوبتے دل کو بچانے کے لیے شاک لگائے گئے۔ تایا نے بتایا کہ ان سے وہ منظر نہ دیکھا گیا۔ لیکن جب بابا کی طبیعت سنبھل گئی اور مجھے ان سے ملنے کی اجازت ملی تو وہ بالکل کمزور نہیں لگے۔ میں سولہ سترہ سال تھا۔ دو ہفتے ان کے ساتھ اسپتال میں رہا۔ کارڈیو میں مریض بہت تیزی سے آتے جاتے ہیں۔ بابا کے دائیں بائیں مریض صبح شام مرتے رہے اور بابا مجھ سے ایسے باتیں کرتے رہے جیسے ہم کسی تھیٹر میں ڈراما دیکھ رہے ہوں۔ واقعی وہ صحت مند ہوکر گھر آئے اور مزید پچیس سال جیے۔
لیکن پھر ایک دن آیا جو میری زندگی کے بدترین ایام میں سے ہے۔ بھائی کے ولیمے کی شب ان کی طبیعت میں بے چینی تھی۔ میں نے طے کیا کہ صبح انھیں اسپتال لے جاوں گا۔ گھر آکر پوچھا کہ ابھی اسپتال چلیں۔ انھوں نے منع کردیا کہ ٹھیک ہوں۔ میں بیوی بچوں کے ساتھ اپنے گھر آگیا۔ بھائی نے بتایا کہ وہ دلہن کو چھوڑ کے سارا وقت بابا کے پاس بیٹھا باتیں کرتا رہا۔مجھے سوئے ہوئے ایک دو گھنٹے ہوئے ہوں گے کہ اس کا گھبرایا ہوا فون آیا، جلدی آئیں، بابا کی طبیعت بگڑ رہی ہے۔ میں جس حال میں تھا، ویسے ہی بھاگا۔ پانچ منٹ میں وہاں پہنچ گیا۔ ہم بابا کو گاڑی میں لٹا کے قریب ترین اسپتال پہنچے۔ وہ ایسے کراہ رہے تھے کہ میں ٹبا اسپتال تک نہ لے جا سکا جہاں ان کا علاج چل رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ قریبی اسپتال میں ابتدائی ٹریٹمنٹ کے بعد شفٹ کردیں گے۔ لیکن اس اسپتال میں آکسیجن والی ایمبولینس نہیں تھی۔ ڈاکٹرز نے کہا کہ آکسیجن کے بغیر شفٹ نہیں کرسکتے۔ انچولی کے اطراف ہر وقت ایدھی، جے ڈی سی، چھیپا کی ایمبولینسیں کھڑی رہتی ہیں۔ قریب پاس چھ اسپتال ہیں۔ میں سب جگہ مارا مارا پھرا، کہیں کسی کی ایمبولینس میں آکسیجن کی سہولت نہیں تھی۔ وہ صرف میت گاڑیاں تھیں۔
میں نے امن ایمبولینس کو فون کیا اور ہم اس کا انتظار کرنے لگے۔ میں بابا کے پاس کھڑا تھا جن کا سانس ٹھیک نہیں چل رہا تھا۔ ڈاکٹرز ان کا بیڈ گھسیٹ کے آئی سی یو میں لے جانے لگے تو بابا نے میری طرف دیکھ کر کہا، اچھا بھئی، میں چلا۔
میں دھک سے رہ گیا۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ تھا لیکن بابا کے الفاظ نے مجھے ہلادیا۔ یہ شخص کبھی گھر سے نکلتے ہوئے نہیں کہتا تھا کہ میں جارہا ہوں۔ آج کیا ہوا؟ کیا اب یہ جارہے ہیں؟ کیا انھیں احساس ہوگیا ہے کہ وقت رخصت ہے؟ یہ احساس کس قدر تکلیف دہ ہے۔
ایک نرس نے مجھے بابا کی انگوٹھیاں دیں تو میرے آنسو نکل آئے۔ چند منٹ بعد ڈاکٹر نے اندر بلایا جہاں بابا بے دم ہوچکے تھے۔ میں نے سانس کی ڈور ٹوٹتے ہوئے دیکھی۔
امی کبھی کبھار ہی خواب میں آتی ہیں۔ بابا اکثر دکھائی دیتے ہیں۔ وہ خوش نظر آتے ہیں۔ مجھے بھی ان کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔
کبھی آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتا ہوں تو بابا نظر آتے ہیں۔ کبھی کھنکھارتا ہوں تو لگتا ہے کہ بابا کھنکھارے ہیں۔ کبھی کبھی اپنے لہجے پر بابا کا گمان ہوتا ہے۔ یہ ہیلوسینیشن نہیں ہے۔ لیکن شاید عمر بڑھنے کے ساتھ بیٹا باپ کی نقل بنتا جاتا ہے۔
مجھے بابا کے حد سے زیادہ سچ بولنے کی سمجھ نہیں آتی تھی۔ ان کی بہت سی باتوں کو سیریس نہ لینے اور پیسہ نہ سنبھالنے پر غصہ آتا تھا۔ ان کے شہر شہر گھومنے اور مجھ پر ساری ذمے داری ڈالنے پر تلملاتا تھا۔
آج میرا بیٹا مجھ سے کہتا ہے کہ اتنا سچ کیا کریں گے؟ وہ اس قدر سنجیدہ ہے کہ میری غیر سنجیدگیوں کو حیرت سے دیکھتا ہے۔ میں بھی بابا کی طرح پیسہ نہیں سنبھال سکا۔ آج خود بیوی بچوں سے دور ایک چھوٹے سے شہر میں چھوٹی سی ملازمت کررہا ہوں اور بیٹے پر گھر کی ذمے داری ڈالی ہوئی ہے۔
ممکن ہے کہ آج میرا بیٹا مجھے غلط سمجھتا ہو لیکن ایک دن وہ میری عمر کو پہنچے گا اور جان لے گا کہ اس کا باپ کن مشکلات سے نبردآزما تھا، کن ذہنی کیفیات سے گزرا تھا اور کیا ارادے رکھتا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ جان لے گا۔ کیونکہ مجھے بھی بہت سال لگے لیکن بابا کو جان گیا، ان کے بعد سہی لیکن ان کو ٹھیک ٹھیک پہچان گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں