Ata ul Haq Qasmi

جیدا سفید پوش

جیدا اگرچہ میرے بچپن کا دوست ہے مگر اسے ساتھ لے کر چلنا شلوار کے نیفے میں بم لے کر چلنے کے برابر ہے، میرے ساتھ اگر کبھی لبرٹی جاتا ہے تو مسلسل خواتین کو ایسی آنکھوں سے دیکھتا ہے جس کا مطلب اسے علم ہو نہ ہو، خواتین کو ضرور ہوتا ہے۔ میں نے اسے کہا یار ویسے تم بہت مذہبی بنتے ہو مگر قریب سے یا دورسے گزرنے والی ہر خاتون تمہاری آنکھوں کے نشانے پر ہوتی ہے، یوں ازروئے شریعت بھولے چوکے سے اگر کسی پر نظر پڑ جائے تو وہ قابل گرفت نہیں، میں نے کہا مگر تم تو خواتین کو مسلسل دیکھ رہے ہوتے ہو۔ جیدے نے جواب دیا عورتیں بھی تو مسلسل گزر رہی ہوتی ہیں، مجھے تو کسی کو دوسری دفعہ دیکھنے کی مہلت ہی نہیں ملتی۔ ایک دفعہ میں اسے اپنے ساتھ جم خانہ کلب لے گیا، میں نے اسے ہدایت کی تھی کہ پائوں میں سلیپر نہیں باقاعدہ شوز پہن کر آنا اور ٹائی بھی باندھنا ضروری ہے۔ چنانچہ میں جب اسے لینے گیا تو شکر ہے اس نے باقاعدہ شوز پہنے ہوئے تھے اور ٹائی بھی باندھ رکھی تھی، مگر یہ ٹائی شلوار کرتے کے اوپر تھی، میں نے اسے دوبارہ اندر بھیجا اور تھینک گاڈ وہ پراپر ڈریس میں واپس آیا۔ رستے میں اس نے مجھ سے پوچھا کیا اس کلب میں انگریزی لباس پہننا ضروری ہے۔ میں نے کہا نہیں قومی ڈریس میں بھی داخلے کی اجازت ہوتی ہے، مگر شلوار کرتے کے ساتھ واسکٹ پہننا لازمی ہے۔ اس نے پوچھا کیا وہاں کھانے سے پہلے حلف بھی اٹھانا ہوتا ہے۔ میں نے کہا بیٹے ابھی تم پنجاب کلب نہیں گئے وہاں تو بعض صورتوں میں شیروانی کے بغیر آپ کو دروازے ہی سے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔
سوری یہ تو میں نے آپ کو بتایا ہی نہیں کہ جیدا اپنے علاقے میں ’’جیدا سفید پوش‘‘ کے نام سے مشہور ہے، وہ دسویں تک میرا کلاس فیلو تھا، اس سے آگے مورخ خاموش ہے تاہم جیدے کا کہناہے کہ اس نے پرائیویٹ طور پر بی اے کا امتحان پاس کیا تھا۔ جیدا صرف دسویں تک میراکلاس فیلو نہیں تھا بلکہ ساندہ کلاں میں وہ میرا ہمسایہ بھی رہا تھا ، محلے میں اس کی کریانے کی دکان تھی جو کافی بڑی تھی اور اس میں تمام ضروریات زندگی دستیاب تھیں، وقت کے ساتھ ساتھ میں کچھ پڑھ لکھ بھی گیا، قحط الرجال کی وجہ سے میرا شمار بھی معززین میں ہونے لگا مگر جیدے سفید پوش سے میری دوستی برقرار رہی اور ہاں سفید پوش اسے اس لئے بھی کہا جاتا تھا کہ وہ ہمیشہ سفید کپڑے پہنتا تھا۔ اس کی شادی کے موقع پر میں نے اسے زبردستی شادی والا خوبصورت جوڑا پہننے پر مجبور کیا۔مجھے اس کا بھولپن بہت پسند تھا۔ مجھ سے پوچھنے لگا شادی والی رات دلہن سے کیا باتیں کی جاتی ہیں۔ میں نے کہا باتیں نہیں کی جاتیں۔ چنانچہ ولیمےوالے دن مجھ سے ملا تو میں نے پوچھا سنائو رات کیسی گزری، بولا تمہاری بھابی نے مجھ سے بات کرنے کی بہت کوشش کی مگر تم نے کہا تھا بات نہیں کرنی چنانچہ میں چپ رہا، جس پر اس نے کہا مجھے بہت نیند آ رہی ہے، بس اس وقت میں نے زبان کھولی اور کہا ’’سو جائو‘‘ چنانچہ وہ سو گئی اور میں بھی سو گیا۔ اب میں اس سے بات کرنا چاہتا ہوں مگر وہ بات نہیں کررہی۔ یہ پرانی بات ہے۔ اب جیدا خیر سے چھ بچوں کا باپ ہے اور آج بھی میاں بیوی فضول یاوہ گوئی کی بجائے صرف کام کی بات کرتے ہیں۔
جیدا سفید پوش اپنے علاقے میں اپنے بھولپن اور صاف ستھرے کردار کی وجہ سے بہت پاپولر ہے چنانچہ اس کے محلے داروں نے اسے ’’چک چکا‘‘ کر 2018ء کے الیکشن میں ایم پی اے کے امیدوار کے طور پر کھڑا کردیا، اسے کسی بھی جماعت نے ٹکٹ نہیں دیا چنانچہ وہ آزاد امیدوار کے طور پر سامنے آگیا، اس کے پاس اپنی پبلسٹی اور کارکنوں کو ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کھلانے کے لئے پیسے نہیں تھے۔ اس کا کسی علاقے میں انتخابی دفتر نہیں تھا، بس اس کے چاہنے والے اسے اپنے کاندھوں پر بٹھائے ایک گلی سے دوسری گلی تک لے جاتے تھے، جہاں وہ تقریر کرتا تھا، اس کی تقریر صرف دو جملوں پر مشتمل ہوتی تھی ’’میرا نام جیدا سفید پوش ہے، مجھے ووٹ دیں کیونکہ میں آپ میں سے ہوں‘‘۔ یہ مختصر تقریر میں نے اسے لکھ کر دی تھی کہ لمبی تقریر میں کہیں وہ پطرس بخاری کے ’’مرید پور کا پیر‘‘ جیسی بونگیاں نہ مار بیٹھتا۔ مختلف گلیوں کے دورے کے دوران اس کی ’’سواری‘‘ بدل جاتی تھی کہ آخر وہ انسان تھے، کوئی کب تک کسی کا بوجھ اٹھا سکتا ہے،قصہ مختصر اسے کل تین ہزار ووٹ ملے، مخالف امیدوار سے اس کے ووٹ صرف ستر ہزار کم تھے، وہ دن اور آج کا دن جیدا سرمایہ دارانہ جمہوریت کے خلاف ہوگیا ہے۔اسے اس مشکل اصطلاح کا علم نہیں، چنانچہ اب وہ خود کو مخاطب کرکے صرف یہ کہتا ہے کہ ’’جیدے اگر تمہارے ’’گِٹوں‘‘ میں جان نہیں تھی تو یہ پنگا کیوں لیا تھا؟‘‘۔
پس نوشت: میں نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں ان بیوروکریٹس کا ذکر کیا تھا جو اپنی پوری سروس کے دوران کرپشن کے قریب بھی نہیں گئے تھے۔ اس حوالے سے میں جو نام بھول گیا ان میں ذوالفقار چیمہ کا نام بھی تھا،میں نے پولیس سروس میں اتنا ایماندار، فرض شناس اور بہادر افسر نہیں دیکھا۔ چیمہ صاحب ہماری تاریخ کے اتنے بڑے انسان ہیں کہ ان پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ کسی زمانے میں گوجرانوالہ ’’کچے کے ڈاکوئوں‘‘ کی پناہ گاہ کی طرح تھا۔ ذوالفقار چیمہ کی وہاں پوسٹنگ ہوئی تو انہوں نے ان کے خلاف بہت بڑا آپریشن کیا اور گوجرانوالہ میں خوف و ہراس کی فضا کا خاتمہ کر ڈالا۔ موصوف ان دنوں شہر میں بغیر حفاظتی بندوبست کے بے خطر گھومتے تھے۔ بہت سے سیاست دانوں کو اپنے علاقے میں ان کی پوسٹنگ پسند نہ تھی کہ یہ ان کی سفارش نہیں مانتے تھے۔ کاش ایسے دس بارہ مزید پولیس افسران ہمارے درمیان ہوتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں