Atta-ul-Haq Qasmi

پلیز ہوش کا دامن تھامیں!

کیا اچھا ’’ویلا‘‘ تھا جب یار لوگ کسی جگہ اکٹھے ہوتے، سیاست پر ہلکی پھلکی گفتگو ہوتی، اختلاف رائے بھی ہوتا، کبھی کبھار ہلکی پھلکی تلخی بھی ہو جاتی لیکن اس کا دورانیہ چند منٹوں سے زیادہ نہ ہوتا اور اس تلخی کے دوران بھی فریقین اخلاقی حدود کراس نہیں کرتے تھے اور اس کے کچھ ہی دیر بعد دوبارہ آپس میں شیر وشکر ہو جاتے۔ لطیفے چلتے، ادبی سماجی صورتحال پرگفتگو ہوتی، ساتھ ساتھ چائے کے دور بھی چلتے رہتے اور شام کو ،کچھ لوگ آدھی رات کو گھروں کو لوٹتے۔ ان رات گئے واپس گھر جانے والوں کے ساتھ ان کےگھر والے جو سلوک کرتے اس کا بیان چنداں ضروری نہیں۔ ان پردہ نشینوں میں سرفہرست میرا نام آتا ہے۔ ان دنوں کافی ہائوس سیاست میں عملی کردار ادا کرنے یا محض دلچسپی رکھنے والوں کا ’’ہیڈ کوارٹر‘‘ ہوتا تھا۔ یہاں اس دور کے صف اول کے سیاسی کارکن اور دانشور شام کو اکٹھے ہوتے، گپ شپ کرتے، ملکی اور عالمی سیاسی اتار چڑھائو پر گرما گرم تبصرے اور حاشیہ آرائیاں ہوتیں اور جب رات گہری ہو جاتی تو یہ لوگ گھروں کولوٹتے۔ ان میں ہمارے بہت پیارے حبیب جالب بھی تھے۔ ایک روز رات گئے حبیب جالب نے مولانا عبدالستار نیازی سے کہا مولانا میرے والد آپ کے بہت بڑے مداح ہیں، میری خواہش ہے کہ یہاں سے اٹھ کر آپ میرے ساتھ گھر چلیں۔ مولانا مان گئے۔ حبیب جالب نے اپنے گھر کی کنڈی کھڑکائی تو ان کے والد باہر آئے۔ جالب نے انہیں مخاطب کرکے کہا ،’’آپ روز مجھ سے پوچھتے تھے کہ میں ساری رات کن لفنگوں کے ساتھ ہوتا ہوں، تو میں ان کے ساتھ ہوتا ہوں،سوچا آپ سے بھی ملا دوں‘‘ مولانا تو اس تعارف پر ہنس پڑے مگر جالب کے والد مولانا کی اس اچانک آمد پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔
اب آپ اس سے اندازہ لگا لیں، جالب رند مشرب اور سوشلسٹ اور مولانا زاہد خشک اور اسلامی نظام کے داعی۔ مگر آپس میں اختلافات کے باوجود محبت، دوستی اور بے تکلفی۔ پاکستان میں یہ صورتحال پانچ سال پہلے تک برقرار تھی مگر اس کے بعد سے صورتحال بالکل بدل گئی ہے۔ اب اختلاف کا ایک ہی مطلب ہے اور وہ مطلب ہے ذاتی دشمنی، جس کے نتیجے میں گھٹیا سے گھٹیا الزام اور گالی گلوچ کوایک دوسرے کے ’’مقدر‘‘ میں لکھ دیا جاتا ہے، اس بدزبانی اور جھوٹے طومار کا آغاز بذات خود پی ٹی آئی کے عمران خان نے کیا اور اس کے اندھا دھند پیروکاروں نے اس کے ہر ’’دشنامی معرکہ‘‘ پر سہ غزلیں کہنا شروع کردیں اور یوں ملک کو خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ پی ٹی آئی والوں نے اختلاف رکھنے والوں کو پٹواری کا نام دے رکھا ہے اور پٹواری انہیں یوتھیاکہتے ہیں۔میرے فیس بک فرینڈز میں ’’پٹواری‘‘ اور ’’یوتھیے‘‘ دونوں شامل ہیں۔ اب پٹواریوں کا لب و لہجہ بھی تبدیل ہو چکا ہے، ان کے منہ میں بھی جو آتا ہے وہ کہہ ڈالتے ہیں مگر میں دونوں گروہوں میں سے اگر کوئی مخالف کے حوالے سے ایسی پوسٹ فارورڈ کرے، جو فنی نوعیت کی ہو اور جسے دیکھ کر دل میں کدورت کی بجائے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہو، میں وہ آگے دوستوں کو فارورڈ کردیتا ہوں تاکہ اختلاف رکھنے والوں کو نفرت اور دشنام کا پیغام بھیجنے کی بجائے باہمی رواداری اور مل جل کر رہنے کا پیغام دیا جائے۔
میں موجودہ صورتحال سے سخت آزردہ ہوں، پرانی دوستیاں دشمنیوں میں تبدیل ہو رہی ہیں، رشتوں کا تقدس پامال ہو رہا ہے، امن و آشتی کی بجائے فضا کوزہر آلود کیا جارہا ہے۔ اس وقت پاکستان کے بیرونی دشمن بہت خوش ہیں، انہیں اب ہمارے خلاف کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں، ان کا کام ہم خود رضا کارانہ طور پر کر رہے ہیں اور ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ جو لوگ اس پلاننگ کے پیچھے ہیں ان کا منتہا و مقصود یہی ہے کہ یہ ملک انارکی کی لپیٹ میں آئے اور اسے خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچانے کے بعد سب تباہی اور بربادی یہ خود کریں گے۔ میں ایک بار پہلے بھی یہ لکھ چکا ہوں کہ جب خانہ جنگی کا بگل بجتا ہے اس کے بعد جرائم پیشہ عناصر میدان میں کود پڑتے ہیں اور یہ دیکھےبغیر کہ کون کس نظریے کا ہے، ان کے گھروں پر حملے کرتے ہیں، لوٹ مار کرتے ہیں، قتل و غارت گری کرتے ہیں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری کرتے ہیں۔ اس کے بعد کسی کے ہاتھ میں کچھ نہیں آتا، حکومت بے بس ہو جاتی ہے، سیاسی پارٹیاں بے اثر ہوکر رہ جاتی ہیں اور دفاعی ادارے اس پیچیدہ صورتحال میں اپنے فرائض بھرپور طور پر انجام نہیں دے پاتے۔
اور مجھے آخر میں اپنے لوگوں سے صرف یہی عرض کرنا ہے کہ خدارا اختلاف کو اختلاف کی حد تک ہی رہنے دیں، آپ بے شک نیک نیت ہوں اور پورے خلوص سے فضا کو زہر آلود کر رہے ہوں مگر یاد رکھیں اپنی بھڑکائی ہوئی آگ میں ہمیں خود ہی جلنا پڑے گا۔ ان دنوں انڈین میڈیا جس طرح بغلیں بجا رہا ہے وہ ہماری آنکھیں کھولنے کیلئےکافی ہے۔ پلیز ، پلیز، پلیزہوش سے کام لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں