Aslam Malik

حماقت کی سزا

لیہ کے پروفیسر صاحب کے بارے میں ان کے دوستوں نے بتایا ہے کہ وہ بہت نیک آدمی ہیں. دراصل ان کا بی ایس کا ایک شاگرد آج کل جزوقتی طور پر آٹا سکیم میں کام کر رہا ہے، اس نے استاد صاحب کو بڑی تعداد میں وہ کوپن لادئیے جو شناختی کارڈ اور استحقاق وغیرہ چیک کرنے کے بعد لوگوں کو دئیے جاتے ہیں تاکہ وہ کوپن دے کر کارکنوں سے آٹے کا تھیلا لے لیں. (بی ایس سسٹم میں اچھے نمبروں کیلئے استاد کی خوشنودی کا حصول بہت ضروری ہے، اس کے بھیانک نتائج نکل رہے ہیں )
پروفیسر صاحب نے وہ کوپن سوچے سمجھے بغیر اپنے قریبی مستحقین میں بانٹ دئیے. جنہوں نے کسی جانچ پڑتال کے بغیر تھیلے بھی وصول کرلیے. جب دیکھا گیا کہ جتنے کوپن جاری کیے گئے ہیں تھیلے ان سے دوگنا نکل گئے ہیں تو کھلبلی مچ گئی . کیمپ سے تھیلے لیکر نکلنے والوں کو راستے سے پکڑ کر پوچھ گچھ کی گئی تو بیسیوں نے بتایا کہ انہیں تو کوپن پروفیسر صاحب یا ان کی اہلیہ سے ملے تھے.
تمام کوپن چیک کیے گئے تو ان میں ایسے کوپنوں کی تعداد بہت زیادہ تھی جو وہاں کے عملے نے نہیں پروفیسر صاحب نے جاری کیے تھے. اتنی شہادتیں مل گئیں تو کیمپ پر ڈیوٹی والے تحصیل دار نے تھانے میں FIR درج کرادی. یہ ایک اہم اور اچھوتی خبر تھی، بیشتر اخباروں میں چھپی. ٹی وی چینلز سے بھی نشر ہوئی. اب بھی ان کی ویب سائٹس پر موجود ہے.
نیت خواہ نیک ہی ہو، جرم تو پروفیسر صاحب سے سرزد ہوا. جعلی نوٹ کسی نے بھی بنایا ہو، اسے چلانے والا پکڑا جاتا ہے.
صدر پاکستان کو سزائے موت بھی معاف کرنے کا اختیار ہے لیکن عارف علوی صاحب ان پروفیسر صاحب کو جانتے ہوں اور بہت نیک سمجھتے ہوں تب بھی میرا خیال ہے پولیس کے زیر تفتیش یا عدالت میں زیر سماعت کیس میں مداخلت نہیں کرسکتے نہ کرنا چاہیے. مقررہ پروسیجر سے بریت ہونی چاہیے.
پروفیسر صاحب جو تکلیف اٹھائیں گے وہ بدعنوانی سے زیادہ حماقت کی سزا ہوگی.
کسی نے لکھا کہ میں شاید پروفیسر کا مخالف ہوں. حالانکہ اس سے پہلے میں نے ان کا نام سنا نہ لیہ شہر دیکھا.
پروفیسر کے خیرخواہ مجھ سے بحث کی بجائے تھانے عدالت کچہری میں ان کا ساتھ دیں. اس شاگرد کو آمادہ کریں کہ تفتیشی افسر کو بیان دے کہ اس نے استاد کو گمراہ کیا.
ایک صاحب نے لکھا ہے اس کالج کے پرنسپل نے بھی تو مالی، چپڑاسی، چوکیدار ٹھیک طرح سے بھرتی نہیں کیے. گویا اب سب اساتذہ کا فرض ہے کہ کچھ نہ کچھ بے قاعدگی ضرور کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں