imran haider thaim

آصف بھٹّی کا ریسکیو، اصل حقائق

ہائی آلٹیٹیوڈ کوہ پیمائی میں دلچسپی رکھنے والے تمام وہ لوگ جنہوں نے نانگا پربت کے دیامر رُوٹ کو بخوبی سٹڈی کر رکھا ہے وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس رُوٹ پر دو بڑے mountain hazards میں سے ایک کنشوفر وال کو کلائمب/ڈاؤن کلائمب کرنا اور دُوسرا کیمپ 3 سے کیمپ 4 کے درمیان موجود Bazhin Glacier کے بہت بڑے آئس فیلڈ کو چڑھائی یا اُترائی کے دوران عبور کرنا ہے۔ آج سے دو روز قبل ہمارے ہر دلعزیز دوست ڈاکٹر آصف بھٹّی اسی آئس فیلڈ کو عبور کرنے کے دوران مشکل میں پھنس گئے اور پھر turn-around کے دوران ریسکیو کال کی اور یوں ہم سب کو علم ہوا کہ اُنکی جان شدید خطرے میں آ گئی ہے۔ چونکہ آصف بھٹّی ہم میں سے اکثریت کا ہر دلعزیز اور ذاتی دوست ہے اس لیے گزشتہ دو دن سے ہم لوگ شدید ہیجان اور پریشانی کے عالم میں ہیں۔ گو کہ اُن کی قیمتی جان کو بچانے کےلیے ریسکیو آپریشن کی ڈرامے بازی تو فوری شروع ہو گئی لیکن کوئی عملی قدم بالکل نہ اُٹھایا گیا۔ ہمیشہ کی طرح فراڈیہ ٹور آپریٹر کمپنیوں اور ایک نام نہاد ٹورازم کلب سمیت چند فیک ہیروز نے ریسکیو مشن شروع کرنے کے بلند و بانگ دعوے تو ضرور کیے لیکن عملی طور پر کارکردگی محض سستی شُہرت کمانے، سوشل میڈیا لائیکس اور ویوز اکٹھے کرنے اور خُود کو ہیرو ثابت کرنے تک محدود رہی۔ اس دوران آذرربائیجان کا ایک مضبوط اعصاب اور درد مند دل رکھنے والا کوہ پیما جس کا نام اسرافیل عاشورلی ہے، آصف بھٹّی کےلیے فرشتہ بن کر پہنچا جس نے آصف بھٹّی کو کیمپ 4 سے واپس کیمپ 3 کے خطرناک ترین Bazhin Basin کے آئس فیلڈ سے خراب موسم کے باوجود نکال کر کیمپ 3 تک لانے کا عظیم کارنامہ سرانجام دے دیا۔ تمام تر جھوٹی خبریں اور گراؤنڈ ریسکیو ٹیم روانہ کرنے کے جھوٹے دعوے سوشل میڈیا پر پھیلا کر باقی تمام پاکستانی کوہ پیما پورٹرز اور ٹور کمپنیاں نانگا پربت بیس کیمپ سے اپنا سامان لپیٹ کر واپس روانہ ہو چکیں تو آصف بھٹّی کےلیے اللہ کی طرف سے ایک اور مدد آن پہنچی ہے۔ ابھی کچھ دیر قبل میرے بہت اچھّے دوستوں ڈاکٹر آصف خوجہ جو کہ آصف بھٹّی کی سوشل میڈیا ٹیم کے انچارج ہیں اور مُحمّد بلال جو کہ ایک فلکیات دان، لینڈ سکیپ فوٹوگرافر و ٹریکر ہیں اور ریسکیو آپریشن کو الگ انداز سے مانیٹر کر رہے ہیں دونوں نے کنفرم کیا ہے کہ آصف بھٹّی کو ریسکیو کرنے والے آذرربائیجانی کوہ پیما اسرافیل کے پاس فضل علی شمشالی اور سکردو کے یونس علی پر مُشتمل گراؤنڈ ریسکیو ٹیم کیمپ 2 پر پہنچ چُکی ہے اور اسوقت آصف بھٹّی کے ساتھ ہے۔ نانگا پربت کا کیمپ 2 جو کہ کنشوفر وال کے عین اُوپر 6000 میٹر پر ہے، یہاں سے چاروں کوہ پیماؤں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج کنشوفر وال کو ڈاؤن کلائمب کرکے کیمپ 1 تک پہنچنا ہے۔ اسوقت نانگا پربت پر موسم شدید خراب ہے اور ایسے موسم میں کنشوفر وال ڈاؤن کلائمب کرنا موت کے مُنہ میں جانے کے مترادف ہے۔ آپ سب لوگوں سے التماس ہے کہ دُعا کریں کہ کل موسم اتنا سازگار ہو جائے کہ یہ چاروں بہادر سپوت خیریت سے کنشوفر وال کو ڈاؤن کلائمب کرنے میں کامیاب ہو جائیں ۔۔۔ آمین
مُجھے یقینِ کامل ہے کہ unsung heroes کا یہ selfless ریسکیو آپریشن سو فیصد کامیاب ہوگا اور چاروں بھائی زندہ سلامت واپس آئیں گے ۔۔۔ ان شاء اللہ
(پسِ تحریر: ریسکیو آپریشن کی ڈرامے بازی کرنے والوں کو مناسب موقع پر ایک الگ تحریر میں بےنقاب کروں گا)

و ما علینا الا البلاغ ۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں