Muhammad Khan Abro

مصنوعی ذہانت یا معاشرتی موت

اس جدید ترقی کے دور میں جہاں جدت نے ہمیں فائدہ پہنچایا ہے، وہاں بے تحاشہ نقصان کا بھی سامنا ہے۔ فیکٹریوں کے قائم ہونے کے بعد جس طرح یہ دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہوئی اس پر لکھنے کے لیے کئی صفحات درکار ہیں، اور اسی طرح اس صدی میں جہاں انسان نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں جس انداز سے ترقی کی ہے اور اس ترقی کے ثمرات بھی مل رہے ہیں کیوں کہ اس ترقی نے انسانوں کی زندگیاں بدل دیں ہیں، مگر آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی آمد کے ساتھ، ماہرین تعلیم کو بے مثال چیلنجز کا سامنا ہے، اب سرقہ اور ڈیجیٹل دھوکہ دہی کا سراغ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی بڑی تعداد کو کاپی اور پیسٹ کی عادت تھی، اور اب مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ٹولز آنے کے بعد پہلے سے ہی تخلیقی طور پر دیوالیہ نسل مزید پستی کی طرف جارہی ہے۔ آج کا طالب علم یو یا نوجوان وہ ریسرچ سے دور بھاگ رہا ہے جب پکا پکایا کھانا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے زریعے مل رہا ہے تو وہ کیوں ریسرچ کی طرف جائیں گے ؟ انٹرنیٹ پر سرچ انجنوں کی وجہ سے ان کے مشکل سوالات کو جلد حل کرنے کے عادی، ChatGPT جیسی آرٹیفیشل انٹیلیجنس ایپس نے انہیں تخلیقی کاموں میں اپنے دماغ کو استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے کی گئی تحقیق کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل میں اعتماد کا فقدان دیکھا جارہا ہے۔ طالب علم ہی نہیں اساتذہ بھی آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر بھروسہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جس کی نتیجہ میں اصل تعلیمی قدر اور قابلیت کا اندازہ لگانے میں ناکام رہتے ہیں۔اس کے علاوہ مشکل سوالات حل کرنا پڑھیں تو اکثر طالب علم ناکام ہورہے ہیں کیوں کہ ان کا تمام کام یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کر رہی ہے جب انھیں کوئی مشکل کام خود کرنا پڑے تو وہ ناکام ہوتے دکھائی دیے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو ان مسائل پر گفت و شنید کرنی ہوگی تاکہ اس مسئلے کو کوئی حل ڈھونڈا جا سکے۔ اساتذہ کو کو حکمت عملی وضع کرنی ہو گی تاکہ طلب و طالبات کو اپنی سوچ اور استدلال کی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کا موقع ملا اور وہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو کم سے کم استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ریسرچ اور اپنے علم اور دماغ کا استعمال کریں۔ جب طالب علموں کو سب آن لائن مل جایا گا تو وہ مزید علم کی جستجو کیوں کریں گے ؟ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کھ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہمارے اساتذہ کو چاہئے کہ طالب علموں کو یہ کام سونپا جائے اس کے بعد ان کا ٹیسٹ کیا جائے تاکہ اندازہ ہوسکے کہ طالب علم میں کتنی صلاحیت ہے یا آیا اس سے سارا کام اور ہوم ورک آن لائن مکمل کر لیا ہے۔ پہلے سے کوشش کی جائے کہ اسائنمنٹ یا ہوم ورک کو اساتذہ کی موجودگی میں اور تمام ڈیجیٹل وسائل کی عدم موجودگی میں مکمل کروایا جائے تاکہ طالب علموں میں اپنا صلاحیت اور دماغ استعمال کرنے کی عادت پیدا ہو۔اس مشق سے طالب علموں میں اپنی تخلیقی صلاحیت کو استعمال کرنے کے لیے سالمیت پیدا ہوگی۔ اور اس سے طالب علموں کی حقیقی علمی قدر اور گہرائی کا جائزہ لینے میں بھی مدد ملے گی. ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو اپنی طرف سے، کسی بھی تخلیقی کام کو اپنے طور پر پورا کرتے وقت اخلاص کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور بغیر کسی ڈیجیٹل سہارے کی مدد سے اپنا کام خود کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے اور یہ عادت تب بھی آئے گی جب نوجوان کتابوں سے دل لگائیں گے۔ اور جب طالب علم آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے بجائے اپنے علم اور دماغ کا سہارا لیتے ہوئے اپنا کام مکمل کرتا ہے تو اس شدت سے اپنی بے ساختہ فنی صلاحیتوں پر فخر محسوس ہوتا
ہے کیوں کہ بیچ لگانے والا ہی ایک بیچ سے ملنے والے پھلوں کی چاشنی کا مزہ محسوس کرسکتا ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آپ کا کام حد درجے بہترین ہوکر سامنے آتا ہے جس بہتر کرنے کے لیے آپ کو مزید کام نہیں کرنا پڑتا اور یہ آپ کو آپ کی مرضی کے نتائج دیتی ہے جس سے آپ ایک ایسے نشے کا عادی ہوجاتے ہیں جو آپ کے دماغ کی صلاحیتوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سن کر دیتا ہے۔ آئیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو اس نشے دور کریں، انھیں پابند کریں کہ وہ اپنا زیادہ وقت لائبریری میں گزاریں تاکہ علم کے سمندر میں اتر کر انھیں کسی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا سہارا نہ لینا پڑے، آئیں اپنے آنے والی نسل کو اس نشے سے بچائیں کیوں کہ جن قوموں میں ریسرچ اور تخیلیق کی موت ہوجائے وہ کبھی ناکامی کے سمندر سے باہر نہیں آسکتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں