Akmal Soomro

آرٹیفیشل انٹیلیجنس: پی ٹی آئی بیانیوں کی جنگ کیسے لڑے گی؟

سوشل میڈیا کے بڑے پلیٹ فارم، فیس بُک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور یو ٹیوب کو کمپنیاں مکمل طور پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور الگورتھم کے تحت کنٹرول کرتی ہیں۔ مواد کی تشہیر، یہ مواد دوسروں تک پہنچانے یا دکھانے کے پیچھے اسی تکنیک کا استعمال کیا جاتا ہے۔

مواد کو کنٹرول کرنے کا مقصد، بنیادی طور پر اپنے کاروبار کو وسعت دینا اور کمپنیوں کی جانب سے مختلف طریقوں سے دولت کمانا ہے۔ آپ دیکھیں اگر آپ کے فیس بک فرینڈ 5000 ہیں یا آپ کے 10 ہزار سے زائد فالورز ہیں، اب ان تمام فرینڈز کی پوسٹ آپ اپنی فیڈ میں نہیں دیکھ سکتے، صرف 10 فیصد افراد کی پوسٹیں آپ کی فیڈ میں نظر آتی ہیں باقی 90 فیصد مواد تک آپ کی رسائی بذریعہ الگورتھم ہوتی ہے۔

تحریک انصاف سے متعلق مواد اب الگورتھم کے ذریعے سے کنٹرول کیا جارہا ہے، یو ٹیوب اور فیس بُک میں ملازمتیں کرنے والے افراد بتا رہے ہیں کہ حکومت پاکستان کی جانب سے ان کمپنیوں کو اپروچ کیا گیا ہے اور تحریک انصاف سے متعلق شیئر ہونے والے مواد کی تشہیر کو تکنیکی بنیادوں پر قابو میں رکھنے کے لیے غیر سرکاری طور پر پیسے بھی ادا کیے گئے ہیں، اب اس میں کتنی صداقت ہے اس پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا سوشل میڈیا ونگ انتہائی کمزور ہے جبکہ مسلم لیگ نواز کا سوشل میڈیا ونگ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ماہرین کے مقابلے میں بے بس نظر آتا ہے۔ چنانچہ، بڑوں نے یہی فیصلہ کیا کہ معلومات تک رسائی کو تکنیکی بنیادوں پر کنٹرول کرنا ضروری ہے لہذا وہ آپشن استعمال کی گئی ہے جو غالباً تحریک انصاف کے گمان میں نہیں تھی۔

تحریک انصاف پر کنٹینٹ یا مواد کی پروڈکشن کرنے والے افراد اس وقت ذہنی پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ ان کی ویڈیوز اور کنٹینٹ کی ریچ میں 70 فیصد تک کمی آگئی ہے۔ اس کمی کی وجوہات تک پہنچنے میں یہ افراد قاصر نظر آتے ہیں۔ تحریک انصاف کا ہدف رہا کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے سے اپنے بیانیوں کو نوجوانوں تک بار بار پہنچائے لیکن انھی پلیٹ فارم کو ہی کنٹرول کر لیا گیا ہے۔

پاکستان کے مرکزی دھارے کا میڈیا، پہلے ہی انتہائی کنٹرول مواد کی تشہیر کر رہا ہے اور میڈیا بدترین سینسر شپ کے عہد سے گزر رہا ہے اور ایسی سینسر شپ کہ خود میڈیا ہاؤسز بھی اس پر بات کرنے سے گریزاں ہیں حتیٰ کہ آزادی صحافت کے بڑے بڑے چیمپئن بھی پنجرے میں قید کر دیے گئے ہیں اور آوازوں کو ایسا دبایا گیا ہے کہ متبادل زاویوں کو نمایاں جگہ ہی نہیں دی جارہی۔ ملک کے گیارہ میڈیا مالکان کو کنٹرول کر لیں اور پھر 24 کروڑ عوام کی رائے پر اثر انداز ہوں۔

دوسری جانب سوشل میڈیا کے یہ عالمی ادارے، دراصل ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں اور ملٹی نیشنل کمپنیاں، دولت کے حصول کیلئے ہمیشہ استحصالی منصوبوں کو نافذ کرتی ہیں۔ رائے سازی بنانے کا اختیار، اب ان کمپنیوں کے کنٹرول میں ہے، ہمیں وہی مواد نظر آئے گا جو کمپنی چاہے گی اور اگر ڈیجیٹل مواد تک رسائی محدود سے محدود ہوتی چلی گئی تو ڈیجیٹل جنریشن کے اذہان مزید سکڑتے چلے جائیں گے جو یقیناً قومی سطح پر استحصالی قوتوں کو مزید طاقت ور بنائیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں