حماد غزنوی

آئینے سے ڈرتے ہو

آئینے سے ڈرتے ہو

ہمارے ایک دوست ہیں جو ٹی وی ڈرامے بنانے والے ایک بڑے پروڈکشن ہائوس کے مالک ہیں۔ بہت سال ہوئے انہوں نے ایک اور ادارہ اس غایت سے قائم کیا کہ پاکستان میں بننے والے بہترین ڈراموں کو سالانہ ایوارڈدینے کا سلسلہ شروع کیا جائے، اور یہ ایوارڈصریحاً میرٹ پر دیے جائیں تاکہ ڈراما انڈسٹری میں معتبر قرار پائیں۔ایوارڈز کا فیصلہ کرنے کے لئے ہمارے دوست نے جو جیوری مقرر کی اُس کے ’مانیٹرنگ جج‘ کے فرائض انہوں نے اس غرض سے خود سنبھالے کہ ہیرا پھیری کا سرے سے کوئی امکان ہی نہ رہے۔ ایوارڈز کی پہلی تقریب منعقد ہوئی تو حُسنِ اتفاق سے ہمارے دوست کا ڈراما ’میرٹ‘ پر سال کا بہترین ڈراما قرار پایا۔اسٹیج سے جب ان کا نام سال کے بہترین پروڈیوسر کے طور پر پکارا گیا تو وہ بھونچکا رہ گئے۔ایوارڈ لینے کے بعد اپنی مختصر تقریر میں انہوں نے ’ماں کی دعائوں‘ اور’ اللہ کے بے پایاں کرم‘ کا ذکر کیا اور اس دوران وقفے وقفے سے وہ حضرت فرطِ جذبات سے آب دیدہ ہوتے رہے۔اُس مضحکہ پرور تقریب و تقریر کا جب بھی خیال آئے جون بھائی بھی یاد آتے ہیں جوفرماتے ہیں ’’خود ہی اک در پہ میں نے دستک دی….خود ہی لڑکا سا میں نکل آیا‘‘۔
پچھلے ہفتے مسلم لیگ نواز کے جماعتی ’انتخابات‘ منعقد ہوئے۔اخبار میں ’انتخاب‘ جیتنے والے نو منتخب عہدے داران کی ایک تصویر نظر سے گزری، پارٹی صدر شہباز شریف آفتابِ کامرانی کی کرنوں میں نہائے ہوئے، چیف آرگنائزر مریم نواز سرتاپا شاداں و فرحاں اور نومنتخب جنرل سیکرٹری احسن اقبال کا چہرہ ناگہانی مسرت سے تمتمایا ہوا۔خبر کی تفصیل پڑھی تو علم ہوا کہ یہ فاتحین سُنجم سُنجی گلیوں میں خرامِ تمکنت فرما رہے ہیں، یعنی بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔اگر ایک کلاس میں ایک ہی بچہ ہو اور وہ فرسٹ آجائے تو اسے کتنی خوشی ہوتی ہو گی؟اور اگرقدرتِ حق سے ممتحن بھی وہ خود ہو توسبحان اللہ۔ یہ صورتِ احوال فقط مسلم لیگ کی نہیں ہے، سب کی سب جماعتوں میں اتنی ہی جمہوریت ہے، اور جب بھی ان میں الیکشن ہوتے ہیںہمیں وہ ڈراما پروڈیوسریاد آجاتے ہیں جو خود ہی جیوری تھے، خود ہی ایوارڈ کے حقدار، اور خود ہی رقت آمیز لہجے میں کہتے تھے کہ ’اللہ نے بڑی عزت دی ہے۔‘ غور کریں تو یہ تماشا صرف جماعتی الیکشن تک محدود نہیں ہے، یہ ہمارا قومی مزاج ہے، ہمیں کوئی ایوارڈ نہیں دیتا، ہم خود کو ایوارڈ دیتے رہتے ہیں، ہمیں کوئی عزت نہیں دیتا مگر ہم اپنی نظر میں مکرم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ہم نے پاکستان کو ’اسلام کے قلعہ‘ کا ایوارڈ دے رکھا ہے، جب کہ عالمِ اسلام ہمیں ’مسکین‘ پکارتا ہے۔ ہمارا حوصلہ دیکھیے کہ ہم نے عالمِ انسانیت کی تمام معلوم نجاستیں ایک خطہء زمین پر اکٹھی کیں اور اس کا نام پاکستان رکھ دیا۔ملاوٹ میں سب سے آگے، خواتین اور اقلیتوں کی تذلیل کرنے میں سرِ فہرست، عدم برداشت میں عدیم المثال، آئین و قانون کا مضحکہ اُڑانے میںبے نظیر ریاست اگر خود کو ’اسلام کا ناقابلِ تسخیر قلعہ‘ قرار دے تو کیا کہا جا سکتا ہے؟ سر ہی پیٹا جا سکتا ہے۔ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بھی خود کو نمبر ون کا ایوارڈ دے رکھا ہے۔ یاد رہے کہ آج تک دنیا کے کسی معتبر ادارے کی درجہ بندی میں ہمیں یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا، یہ پگ ہم نے خود اپنے سر پر سجا رکھی ہے۔ ہمارے ایک دوست اکثر کہا کرتے ہیں کہ جس انٹیلی جنس ایجنسی نے پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے وہ را، موساد یا سی ائی اے نہیں ہے۔ عدالتوں کا بھی یہی معاملہ ہے، فاضل جج فرماتے ہیں کہ وہ آئین کی خفیف ترین دستک بھی سن لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کراپنی نشست سنبھالتے ہیں، ضمیر کے مطابق فیصلے کرتے ہیں، یعنی خود کو مسلسل ’منصفِ عالی شان‘ کے ایوارڈ سے نوازتے رہتے ہیں۔ اب اس کا کیا کیا جائے کہ حاسد دُنیا نہیں مانتی، بار بار 129ویں پوزیشن کا طعنہ دیتی ہے، ارب پتی ججوں کا تذکرہ کرتی ہے، منصفوں کے پلاٹوں کی کہانی سناتی ہے، اور آخر میں انصاف کے اجڑے ہوئے بے نور مندروں میں داسیوں کے روپ میں پھرتی ساسوں اور نندوں کا ذکرِ خیرکرنے لگتی ہے۔اس ریاست کے طاقچے ایوارڈز کی مورتیوں سے بھرے ہوئے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ تمام مورتیاں خانہ ساز ہیں، خود ہی بنائی گئیں، خود ہی وصول کی گئیں۔ خلقِ خدا کی رائے کی پروا کسی کو نہیں، نہ ریاست کو نہ اداروں کو۔
خلقِ خدا نے کراچی کے بلدیاتی اداروں کے ضمن میں ایک رائے دی تھی، اُس کا کیا بنا؟ واضع اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کا فن کوئی ہم سے سیکھے۔پیپلز پارٹی نے بھی اپنے آپ کو ایک ایوارڈ سے نواز رکھا ہے، آئین کی نگہ بانی کا ایوارڈ، پارٹی قیادت کہتے نہیں تھکتی کہ بھٹو نے بنایا تھا آئین اور زرداری نے کی تھی اٹھارویں ترمیم، بجا ارشاد، لیکن صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ بنوا کر اکثریت کو اقلیت میں بھی تو آپ ہی تبدیل کرتے ہیں، اور اب کراچی میں تو آپ نے حد ہی کر دی۔ویسے ایک ایوارڈ ’ووٹ کو عزت دو‘ والوں کو علی وزیر کی گرفتاری پر بھی ملنا چاہئے۔ایک وفاقی وزیر کل نجی گفتگو میں کہہ رہے تھے کہ ’علی وزیر کو ’انہوں‘ نے پکڑا ہے۔یعنی ہم ہائی برڈ بندوبست کی اگلی قسط دیکھ رہے ہیں۔
خود کو ایوارڈ دینے والی ریاست اور اس کے اداروں سے ایک سوال ہے، اور یہ سوال ہم نہیں پوچھ رہے، یہ سوال یونان کے ساحل پر پاکستان کے شہریوں کی بکھری ہوئی لاشیں پوچھ رہی ہیں۔ــ’’آخر کتنی نسلیں روزگار کی تلاش میں یوں ساحل ساحل بھٹکیں گی؟ آخر اس قوم کے کتنے بچے ہڑپ کرکے اس ریاست کا پیٹ بھرے گا؟ کب تک چلے گا یہ بھنگڑ خانہ؟‘‘
یوں تو ہم محترم ہیں بستی میں
آئینہ تُوتکار کرتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں