علی جاوید نقوی

ایک اورلفافہ صحافی مرگیا۔۔

بحث جاری تھی،ڈرائنگ روم میں موجود تمام لوگ ایک ہی بات باربارکررہے تھےکہ صحافی کرپٹ ہوتے ہیں،لفافے لیتے ہیں۔عوام غربت اورمہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں،لیکن بکاؤمیڈیا یہ سب نہیں دیکھارہاکیونکہ لفافے پکڑ لیے ہیں۔میڈیامیں کام کرنےوالوں کی جیبیں نوٹوں سے بھری ہیں۔احمد انھیں سمجھا رہاتھا نہ تو سب صحافی کرپٹ ہیں اورنہ سب کی جیبیں بھری ہیں،میڈیا میں کام کرنیوالے بھی دوسروں کی طرح مسائل کاشکار ہیں۔نیوزچینلزاوراخبارکی پالیسی مالکان بناتے ہیں۔مالکان،پروگرام اینکر اورصحافی میں فرق ہے۔لیکن اس کی آوارنقارخانے میں طوطی کی صداتھی ۔
عیدکی آمد آمد تھی ،لوگوں کی تیاریاں زور وشورسے جاری تھیں ،سوائے ایک احمد کے ۔احمد جس اخبارمیں کام کررہاتھا،وہاں چھ ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی۔احمد کی بیوی ایک اچھی پڑھی لکھی خاتون تھی،ٹیوشن پڑھاکرکسی نہ کسی طرح زندگی کی گاڑی گھسیٹ رہی تھی۔عزیزرشتہ داروں پران کاایک بھرم قائم تھا۔ایک ایک کرکے بیوی کے زیور بک گئے۔پھر گھرکی چیزیں بکنے کی باری آگئی ۔ہرماہ باقاعدگی سے آنے والے بجلی کے بلوں اوربچوں کی فیسوں نے اسے ذہنی کرب میں مبتلا کردیا تھا۔احمد کی طرح اخبار میں کام کرنیوالے اس کے ساتھی دن میں کئی مرتبہ اکاونٹس سیکشن میں جاکرپوچھتے تنخواہ کب آئے گی؟انھیں ایک ٹکا ساجواب مل جاتاجب آئے گی مل جائے گی ۔کئی مرتبہ احتجاج کاپروگرام بنایا،لیکن سفید بالوں والے یہ سوچ کرڈرجاتےاب اس عمرمیں کہاں نوکری کرنے جائیں گے۔ایک طرف عید پرنئے کپڑوں کے لیے بچوں کی فرمائشیں اوردوسری طرف پیٹ کی آگ بجھانے کی بنیادی ضرورت۔کئی ماہ کرب میں گذارنے کے بعد احمد کی ہمت اورآس ٹوٹ چکی تھی ۔کل عید ہے اورجیب میں پھوٹی کوڑی نہیں۔آج گھر میں کھانے کوبھی کچھ نہیں تھا،احمد کےذہن میں کشمکش جاری تھی ،آخرکاراس نے فیصلہ کرہی لیا،روز روز کی اس اذیت سے نجات حاصل کرلی جائے ۔دفترسے واپسی پراس نے خود کوایک تیزرفتارٹرک کے حوالے کردیا،عید کے دن اسےچندہ جمع کرکے قبرمیں اتاردیاگیا۔
احمدکی موت کوبیس سال بیت گئے،اس دوران اوربھی بہت سے لوگوں نے موت کوگلے لگالیا۔احمد کے دوست اقبال کوآج وہ بہت یادآرہاتھا،کل عید ہے،لیکن میڈیا میں کام کرنیوالوں کی جیبیں خالی ،گھرمیں بھی ہے توفقط نام رب کا ۔کچھ خالی پتیلیاں اورچندمٹھی آٹا۔نیوزچینل میں موجود ہرشخص پریشان تھا۔مالکان نے یقین دلایا تھاعید سے چند دن پہلے تنخواہ مل جائے گی،لیکن وہ خود عید منانے سوئٹزرلینڈچلے گئے۔اکاؤنٹس سیکشن کے باہر ایک ہجوم اکٹھاتھا،زیادہ تر کی آنکھوں میں نمی اورچہروں پرپھیلی مایوسی ۔
اقبال نے کچھ دوستوں پرنظرڈالی،انھیں اپنے ساتھ چلنے کااشارہ کیا،ایک کونے میں لے جاکرنوٹوں سے بھرے لفافےایک ایک کرکے ان کے حوالے کیے،کندھے زور سے تھپتھپاتے ہوئے کہاکہ تنخواہ ملتے ہی یہ پیسے واپس کردینا یہ میری عمربھرکی جمع پونجی ہے۔سب دوست اسے احسان مندی کے نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔
سہیل کہاں ہے نظرنہیں آرہا،اقبال نے پوچھا
سہیل بہت سلجھاہوا نوجوان تھا،چند سال پہلے ہی شادی ہوئی تھی ،وہ کئی دنوں سے بچوں کے لیے کھلونے اوربیوی کے لیے سوٹ خریدنے کی پلاننگ کررہاتھا،اس کے لیے اس نے اقبال سے بھی مشورہ کیاتھا۔۔۔۔
سہیل نے گاؤں جاناتھا آج آخری بس کاٹائم پانچ بجے کاتھا،تنخواہ تونہ ملی لیکن وہ گھر چلاگیا ۔وقار بولا
اقبال نے جلدی سے اپنے موبائل فون سے سہیل کانمبرملایا ۔بیل مسلسل جارہی تھی لیکن سہیل نے فون نہ اٹھایا۔چوتھی کوشش پر فون اٹھالیا۔
ہیلو سہیل میں اقبال بول رہاہوں۔۔تم کہاں ہو؟
دوسری طرف سے آواز آئی میں سہیل نہیں بول رہاجس کایہ فون ہے وہ بس کے نیچے آکر مرگیاہے۔آپ بس اڈے پرآجائیں۔
موبائل فون اقبال کے ہاتھوں سے چھوٹ کرنیچے گرگیا۔۔۔
لفافہ پکڑے دوستوں نے گھبرا کرپوچھا کیاہوا؟
اقبال کی آنکھوں سے مسلسل آنسو رواں تھے، بولاکچھ نہیں ہوا، ایک اورلفافہ صحافی مرگیا۔۔۔

کہانی ۔۔علی جاوید نقوی
ایک اورلفافہ صحافی مرگیا۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں