Bilal Ghauri

اِک اور خواب تمام ہوا

خوابوں کے سوداگر آتے ہیں ،تماشا دکھا کر چلے جاتے ہیں ۔کٹھ پتلیوں کا رقص ختم ہونے پرجب پردہ گرتا ہے تو تب یہ عقدہ کھلتا ہے کہ ڈور اُلجھی نہیں اُلجھائی گئی تھی ۔ہر بار یہ خیال آتا ہے کہ اب کوئی کسی شعبدہ باز کی باتوں پر بھروسہ نہ کرے گا۔لیکن پھر کوئی بزعم خود نجات دہندہ ،کوئی جعلی مسیحا اور خوابوں کا سوداگر آتا ہے تو اسکے گرد بھیڑ لگ جاتی ہے ۔ پاکستان کے پہلے فوجی حکمراںایوب خان کے عہد میں جب نواب آف کالا باغ گورنر مغربی پاکستان تھے تو قوم کو ترقی وخوشحالی کا سبز باغ دکھایا گیا۔جب عہد ایوب ختم ہونے کو آیا توحکومت نے Decade of developmentیعنی عشرہ ترقی منانے کا اعلان کردیا۔ اخبارات کو بڑے پیمانے پر اشتہارات جاری کئے گئے اور خصوصی ایڈیشنوں کا اہتمام کیا گیا جس میں ایوب عہد میں زندگی کے مختلف شعبوں خصوصاً معیشت اور آئینی اصلاحات وغیرہ کو اجاگر کیا گیا۔ ان اخبارات میں ایوب خان کی روزانہ آٹھ آٹھ اور دس دس تصاویر شائع ہوتیں۔قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ شروع شروع میں کچھ لوگوں نے ایک معقول حد تک تواس مہم میں دلچسپی کا اظہار کیا لیکن جب یہ سلسلہ حد سے زیادہ دراز ہوتا چلا گیا اور دن رات چاروں طرف یہی ڈھنڈورا پیٹنے کی آوازسنائی دینے لگی تو لوگ اس سے تنگ آکر اُکتاگئے۔رفتہ رفتہ اس کا مذاق اُڑنے لگا اور اس پر طرح طرح کی پھبتیاں کسی جانے لگیں۔
ایک طرف سرکاری خرچ پر جشن منایا جا رہا تھا اور دوسری طرف مہنگائی اور غذائی اجناس کی قلت نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا تھا۔آٹا،چینی ،میدہ اور دالوں کا بحران اس قدر بڑھا کہ کراچی میں بیکریوں نے ہڑتال کردی۔نواب عبدالغفور خان ہوتی ایوب خان کی کابینہ میں وزیر تجارت تھے ،پہلے عوام نے انہیں’چینی چور‘‘کا لقب دیااور پھران کے حوالے سے ایک نازیبا نعرہ زبان زدعام ہوگیا۔معروف قانون دان ایس ایم ظفر کے مطابق حالات خراب ہونے پر ایوب خان نے وزیر تجارت کی قربانی دینے کا فیصلہ کیا اور نواب عبدالغفور ہوتی کو مستعفی ہونے کا کہا مگر زوال کے ان ایام میں ان کے اپنے ہی چنیدہ وزیر نے استعفیٰ دینے سے انکار کردیا۔بہرحال تماشائی اُکتا گئے ،تنگ آگئے تو ایوب خان کےخلاف توہین آمیز نعرے لگنا شروع ہوگئے ۔ستم رسیدہ عوام کیلئے ذوالفقار علی بھٹو قائد عوام کے روپ میں اُبھر کر سامنے آئے تو ’’اسلامی سوشلزم‘‘کا پرچار ہونے لگا۔اس سے پہلے کہ کوئی یہ پوچھنے کی جسارت کرتا کہ ’’اسلامی سوشلزم‘‘کس چڑیا کا نام ہے ’’روٹی ،کپڑا اور مکان ‘‘کے نام سے ایک عام فہم نعرہ تھما دیا گیا۔اس عوامی انقلاب کی گاڑی سیاسی مخالفین کو روندتی ہوئی آگے بڑھنا شروع ہوئی تو نو جماعتی اسلامی جمہوری اتحاد نے انتخابات میں دھاندلی کے اسپیڈ بریکرسے اسے روکنے کی کوشش کی ۔جب کامیابی نہ ملی تو نظام مصطفی کی گہری کھائی کھود دی گئی۔اسلامی سوشلزم کی گاڑی بدترین حادثے کا شکار ہوئی تو ضیاالحق فوجی ٹرک لے کر اسلامی نظام کی شاہراہ پر نمودار ہوگئے ۔ برسہا برس اس ٹرک کی بتی کے پیچھے لگے رہنے کے بعد جمہوریت کی صبح خوش جمال کا سورج طلوع ہوا تو تھکے ماندے مسافروں نے سکھ کا سانس لیا مگر پھروہی کٹھ پتلیوں کا کھیل۔گھسے پٹے نعرے ،بی بی اور بابو کی لڑائی ۔اس دوران میاں نوازشریف نے ’’قرض اُتارو ملک سنوارو‘‘کے سنہرے خواب دکھائے ۔مگر آنکھ کھلی تو پرویز مشرف نامی کمانڈو ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘کی ڈفلی بجا رہا تھا۔روشن خیالی کے علمبردار ڈکٹیٹر نے ملک کو اندھیروں میں دھکیل دیا۔ایک بار پھر جمہوریت بحال ہوئی تو تبدیلی کی آرزو مچلنے لگی ۔عسکری ڈریم کیچرز کی فخریہ پیشکش ’’پروجیکٹ عمران‘‘کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا۔اس بار دنیائے کرکٹ سے شہرت پانے والے عمران خان کو ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا۔پرانے سیاستدانوں کو گھائل کرنے کیلئےاحتساب کاتیر کمان تو تھا ہی مگر اس بار بیانیہ سازی کیلئےجدید ذرائع بروئے کار لائے گئے ۔ پانچویں پشت کی دوغلی ابلاغی جنگ کیلئے انگلیوں کی پوروں سے دشمن کو تہس نہس کرنے والے سپاہی بھرتی کئے گئے۔مگر اس بار کسی ایک نعرے پر اکتفا نہ کیا گیا،یکے بعد دیگرے کئی نعرے متعارف کروائے گئے ۔مثال کے طور پر پہلے قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان بنانے کی بات ہوئی ،پھر ’’نیا پاکستان ‘‘کا نعرہ لگایا گیا۔اس دوران ’’تبدیلی ‘‘ اور’’سونامی‘‘کے استعاروں سے خوابوں کو مزید پرکشش بنایا گیا۔جب اس سے کام نہ چلا تواسلامی ٹچ دیتے ہوئے اچانک ہیٹ سے ’’ریاست مدینہ ‘‘کا کبوتر نکال لیا گیا۔حکومت چلی گئی تو حقیقی آزادی کی جدوجہد شروع کردی گئی ۔یہ آزادی کیا ہے؟کب ،کس سے اور کیسے لینی ہے؟کسی کو کچھ معلوم نہیں۔
اب جب ان سب نعروں اور خوابوں پر نزع کا عالم طاری ہے تو مجھے تحریک انصاف سے وابستہ ان افراد کی فکر ہورہی ہے جو زندگی میں پہلی بار کسی سیاسی جدوجہد کا حصہ بنے ۔اس بات کو نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ گزشتہ چند برس کے دوران تبدیلی کی خواہش میں معاشرے کا وہ طبقہ بھی متحرک اور فعال ہواجو پہلے سیاست سے کوسوں دور رہا کرتا تھا۔گاہے خیال آتا ہے کہ جب ان سے امیدیں،توقعات اور خواب چھن جائیں گے تو نااُمیدی اورمایوسی کے اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے بے منزل مسافر کدھر جائیں گے ؟ یہ سیاسی کارکن اس ملک اور قوم کا اثاثہ ہیں ،کہیں وہ تنہا نہ رہ جائیں ،کسی اور طرف نہ بھٹک جائیں۔یہ بہترین وقت ہے انہیں سمجھانے اور احساس دلانے کاکہ تبدیلی دبے پائوں آتی ہے ۔آپ کا سفر رائیگاں نہیں گیا،یہ جدوجہد لاحاصل نہیں رہی ۔ہر بار جب کوئی شعبدہ باز آتا ہے تو کچھ نہ کچھ سکھا کر جاتا ہے ۔اس بار ہم نے یہ سیکھا کہ جس عطار کے سبب بیمار ہوتے ہیں ،اس کے لڑکے کو مسیحا سمجھ کر دوالینے سے مرض گھٹتا نہیں مزید بڑھتا جاتا ہے۔عطار کیلئے بھی سبق ہے کہ ’لڑکے‘کتنے ہی فرماں بردار کیوں نہ ہوں،اقتدار ملتے ہی گستاخ ہوجاتے ہیں اوربعض سرپھرے’لڑکے‘ تو اقتدار چھن جانے پر سب کچھ جلا کر بھسم کرنے کی ٹھان لیتے ہیں ۔’لڑکوں‘کیلئے یہ نصیحت ہے کہ جب تک ان میں اتفاق نہیں ہوگا’عطار‘من مانی کرتا رہے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں