ڈاکٹر صغرا صدف

پاکستان کے لئے باعث اعزاز

پاکستان کے لئے باعث اعزازپاکستان کے لئے باعث اعزاز

احسان شاہد جیسے لوگ ملک و قوم کیلئے اعزاز ہوتے ہیں،جو اپنے عمل سے صرف اپنا نام نہیں اُجالتے،اپنی ذات کو سربلند نہیں کرتے بلکہ اپنی قوم کی پہچان سنوارتے اور جگمگاتے ہیں۔ وہ جانے کتنے برسوں سے دنیا کے خوبصورت اور تہذیب یافتہ شہر لندن میں مقیم ہے جو دنیا بھر کے طالب علموں اور سیاحت کے رسیا لوگوں کا پسندیدہ ترین مقام ہے، ہیرو جیسی شکل والے خوبرو، خوش گلو، شرارتی، ذہین اورا سمارٹ لڑکے کا صرف ظاہری حلیہ بدلا ہے۔ ورنہ وہ اب بھی ایک ایسا پاکستانی نوجوان ہے جو ہر رات ملک کی سلامتی اور ترقی کا خواب پلکوں پر رکھ کر سوتا اور اچھی خبر کی امید کے ساتھ آنکھیں کھولتا ہے۔ اپنی زندگی میں اگر کسی شخص کیلئے تین لفظ خلوص کا پیکر، استعمال کرنا چاہوں تو وہ صرف احسان شاہد ہے جو نہ بے مروتی برتتا ہے اور نہ برداشت کرتا ہے۔
بیس پچیس سال پہلے جب احسان شاہد سے ملاقات ہوئی۔ اس کو صغرا نام سے عقیدت تھی۔ مجھے بہن کہا اور ایسے نبھایا کہ شاید ہی کوئی احساس کا رشتہ اتنی محبت، عقیدت خلوص اور اپنائیت کا عملی مظاہرہ کرسکے۔ ایک بارمیںلندن سے ناروے جا رہی تھی۔لندن میں اکثر میرا قیام احسان کے گھر ہی ہوتا ہے، احسان مجھے ائیرپورٹ چھوڑنے آیا اور میرے ساتھ جہاز تک آگیا۔میں نے پوچھا اب تم جاو، جہاازاُڑنے والا ہے تو کہنے لگا۔ تم پہلی بار ناروے جا رہی ہو، وہاں بہت سخت موسم ہے۔ اتنی سردی میں تمہیں اکیلے نہیں بھیج سکتا، پتہ نہیں میزبان ائیرپورٹ پر آئے بھی ہوں یا نہیں۔ وہ ناروے میرے ساتھ گیا اور شام کی فلائٹ سے واپس آگیا۔لیکن اس کے خدشات یوں درست واقع ہوئے کہ میرےموبائل کی بیٹری ختم ہونے سے میزبانوں سے رابطہ مفقود ہو گیا، بڑی مشکل سے ہم انھیں اور وہ ہمیں ڈھونڈھنے میں کامیاب ہوئے۔
اسی طرح اس کے گھر قیام کے دوران جب میں کالم لکھ کر تصویریں بنا کر اپنے پی اے کوبھیجتی تو وہ کاغذ مجھے پھینکنے نہیں دیتا تھا بلکہ سنبھال کے رکھ لیتا تھا۔اتنے برس بیت گئے کبھی کوئی ایسا دور نہیں گزرا جب وہ مجھ سے یا میری دعائوں سے دور رہا ہو۔ دو تین سال ہم بہن بھائی شدید ناراض بھی رہے مگر دل سے دور نہیں رہے۔ احسان شاہد کی ذات ایک سمندر کی طرح ہے جس کے اندر کئی ایسے جزیرے ہیں۔ جن کے ساحلوں پر کچھ تشنگیاں اور خواب دھرے ہیں۔ جن کی تعبیر اس نے زندگی کامقصد بنا رکھا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ عملی زندگی میں بہت جلد اس نے خود کو انسانیت کی فلاح سے جوڑ کر خیر کے رستے پر قدم رکھ دیا تھا۔ہر معاشرے میں دکھوں کی گہری دھند ہوتی ہے جن میں پھنسے لاچار لوگ مددگار مہربانوں کے منتظر ہوتے ہیں۔احسان شاہد نے لندن جیسے بے باک اور رنگین شہر میں تماشائی بن کر لطف لینے کی بجائے اپنے لئے مددگار فرشتے کا کردار پسند کیا اور پوری دیانتداری سے نبھایا۔ ہم اس کے احسان مند ہیں کہ اس کی بدولت نیک نامی ہمارا تعارف بنی ورنہ وہ بھی ہمارے لوگ ہیں جو اکثر سڑکوں پر نعرے بازی کرتے نظر آتے ہیں اور ایسی ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا کہ پردیس بھی جھیلا اور جہالت بھی کمائی۔ جہاں وہ اپنی تخریبی حرکتوں سے اس ملک کے لوگوں کو بے چین اور متفکر کرتے ہیں وہیں احسان شاہد جیسے لوگ بلاتفریق ہر کمیونٹی کے مسائل حل کرکے انھیں سُکھ بانٹ کر ہم سب کاسر فخر سے بلند کرتے ہیں۔
برطانیہ ایک فلاحی ملک ہے اور کمیونٹی کیلئے فلاحی کام کرنے والوں کی تحسین کرتا ہے۔ حال ہی میں برطانیہ کے بادشاہ کی طرف سے احسان شاہد کو برٹش ایمپائر میڈل کے اعلیٰ اعزاز سے نوازا گیا۔ میں اعزاز پانے والوں کی فہرست دیکھ رہی تھی اس میں سر فہرست احسان شاہد کا نام رقم تھا۔دیگر لوگوں میں تعلیم، کھیل اور سماجی خدمات سرانجام دینے والوں کا تذکرہ تھا لیکن احسان کا اوپن کچن سب سے منفرد لگا، برٹش ایمپائر میڈل صرف اس کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے، پاکستان کا اعزاز ہے کیونکہ پاکستان تواُس کے دل میں بستا ہے۔ وہ بھاگ بھاگ کر لاہوراور میاں چنوں پہنچتاہے۔میاں چنوں اس کی جنم بھومی ہے اور لاہور اسے عطاالحق قاسمی کی وجہ سے عزیز ہے۔ وہ بیک وقت کئی محبتوں کو دل میں بسائے سفر پر رواں دواں رہتا ہے۔ ہر لمحہ فکر کرنے اور متحرک رہنے والا ایسا انسان ہے، کام جس کے نزدیک عبادت کی طرح بھی ہے اور تفریح بھی۔ اس لئے سخت محنت اور بھاگ دوڑ اُسے تھکاتی نہیں بلکہ مزید حوصلہ بڑھاتی ہے۔
پردیس میں رہنے والا ہر فرد ملک کا سفیر ہوتا ہے۔ اُس کا ہر عمل جانچا اور ہر فقرہ تولا جاتا ہے۔ اس کے قول و فعل کی گونج اس کے ملک کی فضاوں تک پہنچتی ہے۔ دعا ہے کہ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی احسان شاہد کی طرح اپنے ہم وطنوں کا بھی احساس کریں اور جس ملک میں رہتے ہیں اس کی تکریم کو بھی مدنظر رکھیں۔ انسانیت کی خدمت کو شعار بنا کرنیک نامی کمائیں تاکہ ان پرجنم دینے والی دھرتی ناز کر سکے۔ آخر میں احسان شاہد کا یہ خوبصورت شعر آپ کی نذز جو اس کا فلسفہ حیات اور یقین کامل کا عکاس ہے
سب کی بگڑی سنوارنے والا کب کسی کو عذاب دیتا ہے
روز محشر حساب کیا لے گا جو مجھے بے حساب دیتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں