Ali Zaryoun Poetry

اسی لئے تو مجھے سُن کے طیش آیا ہے

اسی لئے تو مجھے سُن کے طیش آیا ہے
تمھارا حال کسی اور نے بتایا ہے !

مجھے بتا ! مرا بھائی شہید کیسے ہوا ؟
تُو اُس کا یار تھا ! تُو کیسے بچ کے آیا ہے ؟

اگرچہ تیغ اٹھانے کی بھی اجازت تھی
ترے فقیر نے دستِ ُدُعا اُٹھایا ہے

ابھی یہ زخم کسی پر نہیں کُھلا میرا
ابھی یہ شعر کسی کو نہیں سنایا ہے !

علی زریون

اپنا تبصرہ بھیجیں