Ali Moeen Nawazish Pakistani columnist

سینڈوچ میکر

متحدہ عرب امارات میں ایک بین الاقوامی فوڈ چین کے اشتہار نے دسمبر 2022میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ دیگر کئی ممالک کی طرح جو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں اور جن کی یہ دولت2050 تک ختم ہونے کا اندیشہ ہے، وہ اِس بات پر توجہ دے رہے ہیں کہ جب اُن کا تیل اور گیس ختم ہو جائے گا تو اُن کا مستقبل کیا اور کیسا ہوگا؟
ابھی تک اِن تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک میں غیر ملکی باشندوں سے مقامی لوگوں کے برعکس بہت زیادہ کام لیا جاتا ہے، اُن میں لاکھوں پاکستانی بھی شامل ہیں جو نہ صرف وہاں محنت مزدوری کرتے ہیں بلکہ چند اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز ہیں۔ تیل کی دولت سے مالا مال یہ ممالک اپنے تمام مقامی باشندوں کو ایک عالی شان نہ بھی سہی تو ہر ایک کو اچھی زندگی ضرور فراہم کرتے ہیں۔ بالخصوص متحدہ عرب امارات اپنے عوام کا بہت اچھےطریقے سے خیال رکھتی ہے۔ مقامی باشندے وہاں اگر کوئی نوکری کرتے بھی ہیں تو وہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر ہی اپنی خدمات سر انجام دیتے ہیں۔
اب مگر جیسے جیسے ان ممالک میں تیل کے ذخائر کم ہوتے جا رہے ہیں تو وہاں لوکلائزیشن کی مہم چلنا شروع ہو گئی ہے۔ اُن ممالک میں کام کرنے والی کمپنیوں کو اس بات کا پابند بنایا جا رہا ہے کہ وہ اپنی ورک فورس میں ایک مخصوص حصہ مقامی آبادی کا بھی رکھیں۔ سعودی عرب میں اس مہم کا ایک خاص نام’’سعودی زیشن‘‘رکھا گیا ہے تاکہ اُن کے شہری صرف تیل کی دولت پر انحصار کرنے کے بجائے ملکی معیشت میں تعمیری کردار ادا کر سکیں۔
جس فوڈ چین کا کالم کی ابتدا میں ذکر کیا گیا ہے، اُس نے اپنے اشتہار میں ایک سینڈوچ میکر کی نوکری کا اشتہار دیا تھا اور یہ نوکری صرف اماراتیوں کے لیے مخصوص کی گ گئی تھی کیونکہ مذکورہ فوڈ چین نے لوکلائزیشن کا دو فیصد کا ہدف پورا کرنا تھا۔اس اشتہار کے بعد متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا اور ویسے بھی ایک تہلکہ مچ گیا اور اس نوکری کو اماراتیوں نے اپنی شان میں گستاخی خیال کیا۔ اس قدر بھرپور عوامی ردِ عمل کے بعد امارات کے پبلک پراسیکیوشن آفس نے مذکورہ فوڈ چین کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دے دیا۔ اس ردِ عمل کے بعد متحدہ عرب امارات میں ایک نئی بحث یہ بھی چھڑ گئی ہے کہ کیا اماراتیوں کے لیے صرف سرکاری نوکریاں ہی رہ گئی ہیں، جہاں اُنہیں بے شمار سہولتیں فرام کی جاتی ہیں لیکن وہاں بیٹھے وہ ملکی معیشت کی بہتری میں کوئی خاطر خواہ حصہ نہیں ڈالتے۔
اس کے بر عکس سعودی عرب کے وزیر محنت غازی الغو سیبی نے ، جوکہ لندن میں سعودی عرب کے سفیر بھی رہ چکے ہیں، کچھ عرصہ قبل نہ صرف ایک فوڈ چین کا پورا یونیفارم پہن کر اپنے ہاتھوں سے برگر بنا کر لوگوں کی خدمت میں پیش کیے تھے بلکہ اُن کے آرڈرز بھی لیے تھے۔ اُن کی اس سرگرمی کا مقصد سعودی عرب کے عوام کو یہ سمجھانا تھا کہ نہ تو کئی کام چھوٹا ہوتا ہے اور نہ ہی آپ ملکی معیشت میں تعمیری کردار ادا کرنے والے کسی کام سے بالاتر ہیں۔
پاکستان میں بھی ہم نے محنت کشوں کو مختلف طبقات میں تقسیم کر رکھاہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں کا مزدور طبقہ بیرون ملک کے باشندے نہیں بلکہ ہمارے اپنے ملک کے غربت کی چکی میں پسنے والے عوام ہیں۔ ہمارا جو متوسط طبقہ ہے وہ چاہتا ہے کہ ڈگری کے حصول کے ساتھ ہی متعلقہ شعبے میں مہارت حاصل کیے بغیر ہی اُسے بھاری تنخواہوں والی نوکریاں میسر آ جائیں۔ پھر ہمارے ہاں قابل لوگوں کو بھی آگے بڑھنے کے کم مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، اسی لیے یہ طبقہ بیرونِ ممالک جانے کو ترجیح دیتا ہے جہاں اُنہیں ترقی کے بھرپور مواقع میسر ہوتے ہیں۔ ملک میں اچھی سرکاری نوکریوں کے حصول کے لیے جو سی ایس ایس کا نظام متعارف کروایا گیا ہے وہ دنیا کی اچھی سے اچھی یونیورسٹی میں داخلے سے بھی مشکل ہے لیکن اگر نظام ٹھیک ہوتا تو ہماری بیوروکریسی اور ملک دونوں کا یہ حال نہ ہوتا۔ یہاں اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے عہدوں پر فائز شخصیات اوران کی ترجیح محض راتوں رات ٹک ٹاک پر مشہور ہونا ہے ۔ ان سب اور دیگر وجوہات اور رجحانات کی وجہ سے ہماری ورک فورس ملکی معیشت کی بہتری میں کوئی تعمیری کردار ادا نہیں کر پاتی۔گوکہ ترقی یافتہ ممالک میں کسی بھی کام کو کم تر نہیں سمجھا جاتا۔ وہاں بڑی سے بڑی کمپنی کے اعلیٰ افسر نے بھی کبھی نہ کبھی کسی فوڈ چین میں سینڈوچ یا برگر میکر کی نوکری کی ہی ہوتی ہے۔ اس سے جہاں اُس معاشرے میں لاتعلقی کا عنصر ختم ہوتا ہے وہیں ایک دوسرے کے کام کو کم تر سمجھنے کا رجحان بھی کم ہے اور چھوٹے سے چھوٹا کام کرنے والے کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
آنے والے دنوں میں نئے معاشی رجحانات کی وجہ سے نہ صرف ہمیں اپنے عوام کو ہنر مند بنانا ہے بلکہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق اُن کی فنی تربیت بھی کرنی ہے۔ ہمارا المیہ مگر یہ ہے کہ ہماری تعلیم یافتہ افرادی قوت کے نخرے تو اماراتیوں سے بھی زیادہ ہیں ورنہ وہ ملکی ترقی میں خاطر خواہ کرداد ادا کرتے نظر نہ آرہے ہوں۔ روز بروز سکڑتی معیشت اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ بائیس کروڑ آبادی والا ملک ہونے کے باوجود ہم ابھی تک اپنی ضرورت کی اشیا بھی خود نہیں بنا پا رہے۔اگر ہم معیشت کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی افرادی قوت کی صحیح تربیت اور پھر استعمال کی منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ اگر سعودی عرب جیسا امیر ملک اپنی افرادی قوت کو بہتر بنانے اور استعمال کرنے کی ضرورت کی حقیقت سے آگاہ ہےتو یہ ہمارے لیے زیادہ اہم ہے۔ پوری دنیا ہم سے کہہ رہی ہے کہ اپنے گھر کوان آرڈر کرو لیکن ہم نے ہمیشہ انکار کیا اور ہمارے موجودہ معاشی بحران اور دوست ممالک کی ہماری مدد میں عدم دلچسپی اور تاخیر کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں