Mubashir Zaidi

اخباری اور اصولی شیعہ

اہل تشیع، یعنی رسول اللہ کے بعد دوسرے خلفا کے مقابلے میں حضرت علی کو خلافت کا حقدار سمجھنے والوں کے متعدد گروہ ہیں۔ آپ فرقہ کہہ لیں۔ ان میں اثنا عشری، اسماعیلی، بوہرہ، نصیری زیادہ مشہور ہیں لیکن اور بھی ہیں۔ ماضی میں درجنوں تھے۔
اہلسنت اور اہل تشیع کا ذکر کرتے ہوئے اکثر ایسے گروہوں کے نام گول کردیے جاتے ہیں جو معروف معنوں میں نہ سنی تھے، نہ شیعہ۔ مثلا خوارج۔ آج بھی ان کی تعداد لاکھوں میں ہے اور عمان میں تو حکومت بھی انھیں کی ہے۔
اثنا عشری کو ایک وحدت خیال کیا جاتا ہے اور عام شیعہ بھی یہی سمجھتا ہے کہ تمام اثنا عشری ایک ہیں۔ لیکن رفتہ رفتہ ان میں دراڑیں پڑرہی ہیں اور اختلافات سامنے آرہے ہیں۔ یہ اختلافات آج پیدا نہیں ہوئے، صدیوں پرانے ہیں لیکن حال میں ان میں تیزی آئی ہے۔
میں ان اختلافات کا ذکر نہیں کررہا جو ایران کے حوزہ علمیہ قم اور عراق کے حوزہ علمیہ نجف کے درمیان رہے۔ ابھی پچاس ساٹھ سال پہلے تک اثنا عشری شیعوں کا صرف ایک آیت اللہ العظمی ہوتا تھا اور سب اس کی تقلید کرتے تھے۔ اس وقت نجف اشرف کا درجہ شیعوں کے ویٹی کن کا تھا۔ لیکن انقلاب ایران سے پہلے ہی تقسیم شروع ہوگئی اور آیت اللہ خمینی کی تہران واپسی کے بعد معاملہ بدلتا چلا گیا۔ بہرحال میں مجتہدین کی تفریق پر بات نہیں کررہا۔
اثنا عشری میں حالیہ دور میں جو دراڑ پڑی ہے اور خلیج گہری ہورہی ہے، وہ اصولی اور اخباری شیعوں کے درمیان ہے۔ اصولی اور اخباری شیعہ کون ہوتے ہیں؟
اصولی شیعہ وہ ہیں جو اصول دین اور فروع دین کے قائل ہیں اور مجتہدین کی تقلید کرتے ہیں۔ تمام آیت اللہ اور مجتہدین، چاہے ان کا تعلق قم سے ہو یا نجف سے، سب اصولی ہیں۔
ان کے ہاں اجتہاد کا راستہ کھلا ہے۔ جب کسی عام شیعہ کو کوئی رہنمائی درکار ہوتی ہے تو وہ اس مجتہد سے رجوع کرتا ہے، جس کی تقلید کرتا ہے۔ اس رہنمائی کو، ہم جانتے ہیں کہ فتوی کہا جاتا ہے۔
اخباری شیعہ غیر مقلد ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تقلید جائز نہیں، اجتہاد جائز نہیں، فتوی دینا جائز نہیں۔ اس معاملے میں وہ بنیاد پرست اور سخت گیر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ قرآن کو عام شخص نہیں سمجھ سکتا۔ قرآن کو صرف اہلبیت سمجھ سکتے تھے اور خدا کے کلام کو صرف وہی سمجھاسکتے تھے۔ چنانچہ آیات کا وہ مطلب نہیں، جو عام انسان پڑھ کے سمجھے بلکہ وہ مطلب ہے جو آئمہ نے بیان کیا۔
جیسے اہلسنت کی حدیثوں کی چھ کتابیں مشہور ہیں، ویسے اہل تشیع کی چار کتابیں ہیں جنھیں اصول اربعہ کہا جاتا ہے۔ ان میں رسول اللہ نہیں بلکہ آئمہ کی حدیثیں یا روایات درج ہیں۔ ان کے علاوہ بھی کئی کتابیں ہیں۔ مثلا علامہ مجلسی نے بحار الانوار کے نام سے ایک سو دس جلدوں کی کتاب مرتب کی جس میں لاکھوں حدیثیں ہیں۔ ان میں ایسی ایسی گمراہ کن اورجاہلانہ حدیثیں شامل ہیں کہ کسی ہوش مند انسان کے لیے انھیں تسلیم کرنا دشوار ہے۔
اصولی کہتے ہیں کہ ان کے مجتہدین، یعنی برسوں کی تعلیم کے بعد کسی مقام پر پہنچنے والا عالم ہی درست غلط حدیث یا روایت کی تمیز کرسکتا ہے۔ عام شخص کو اس معاملے میں رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اخباری کہتے ہیں کہ انھیں مجتہدین کی رہنمائی درکار نہیں۔
اصولی سمجھتے ہیں، کم از کم کہتے یہی ہیں کہ آج جو قرآن ہمارے پاس ہے، یہی اصل ہے۔ اس میں کوئی تحریف نہیں ہوئی۔ اخباری سمجھتے ہیں کہ اس میں سے اہلبیت کی شان میں آیات نکالی گئی ہیں یا آگے پیچھے کردی گئی ہیں۔
اصولیوں اور اخباریوں میں دو معاملات باعث نزاع ہیں۔ ایک تو اجتہاد اور تقلید کا ہے۔ دوسرا نماز میں تشہد پر سخت اختلاف ہے۔ اصولی کہتے ہیں کہ نماز میں صرف شہادتین یعنی اللہ اور رسول کی شہادت ہے۔ اخباری شہادت ثالثہ پر اصرار کرتے ہیں یعنی حضرت علی کی شہادت بھی شامل کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ جب شیعوں کے کلمے میں شہادت ثالثہ ہے، اذان میں ہے تو نماز میں کیوں نہیں۔ اس معاملے پر دونوں گروہوں کے پاس روایات ہیں۔
میرے خاندان کے بہت سے لوگ اخباری ہیں یا ہوچکے ہیں۔ ان میں میرے تایا مولانا بوعلی شاہ بھی شامل تھے۔ وہ آیت اللہ خمینی کے فلسفہ ولایت فقیہہ کے سخت خلاف تھے اور یہ ہرگز نہیں مانتے تھے کہ بارہویں امام نے کبھی کسی سے ملاقات کی ہے، جیسا بحارالانوار اور بہت سی کتابوں میں روایات درج ہیں۔
میں شیعیت کے دائرے میں اصولی نقطہ نظر کو درست سمجھتا ہوں لیکن تایا کے موقف سے متفق ہوں۔ وہ بہادر انسان تھے اور کھلے عام اپنے موقف کا اظہار کرتے تھے۔ اس کی پاداش میں ان پر شیعوں ہی نے قاتلانہ حملہ کیا اور سر پر کلہاڑیاں ماریں۔ ان کا سر تو پھٹا لیکن عمامہ ہونے کی وجہ سے گہرے زخم نہیں آئے۔ جان بچ گئی لیکن بہت عرصہ اسپتال میں رہے اور بعد میں بولنے میں مشکلات پیش آتی تھیں۔
مجھے اخباری شدت پسند ہونے کی وجہ سے نصیریت کی طرف جاتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ وہ آئمہ کو خدائی صفات کا مظہر اور حضرت علی کو رب سمجھتے ہیں جنھوں نے ساری کائنات کا انتظام سنبھالا ہوا ہے۔ اخباریوں اور نصیریوں کے خیالات اصولیوں میں بھی سرایت کرگئے ہیں اور میں نے عام شیعوں کو ان سے متاثر دیکھا ہے۔
اثنا عشری شیعوں کا تیسرا گروہ، یا ان سے ملتا جلتا تیسرا گروہ اہل قرآن شیعہ کا ہے۔ وہ حضرت علی کو تمام صحابہ سے افضل تو سمجھتے ہیں لیکن دوسرے عقائد میں شیعوں سے مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ مثلا وہ امام مہدی کے وجود کے قائل نہیں۔ وہ تقلید کو حرام لیکن اجتہاد کو جائز گردانتے ہیں۔ ان کے بہت سے عقائد اہلسنت بلکہ وہابیوں والے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں