احمد ندیم قاسمی کو مداحوں سے بچھڑے 17 سال ہوگئے

احمد ندیم قاسمی 10جولائی 2006ء کو 90برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے،انہیں تمغہ حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے

معروف ترقی پسند شاعر و افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کی 17ویں برسی منائی جارہی ہے اس سلسلے میں جہانیاں سمیت مختلف شہروں کے ادبی و صحافتی حلقوں میں تعزیتی تقریبات کا اہتمام ہوا، جس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین احمد ندیم قاسمی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ احمد ندیم قاسمی کا آٹھ برس قبل 10جولائی 2006ء کو انتقال ہو گیا تھا۔ معروف ادیب، افسانہ نگار، صحافی اور کالم نگار احمد ندیم قاسمی 20نومبر 1916ء کو پنجاب کے خوبصورت ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے ان کا اصل نام احمد شاہ جبکہ ندیم ان کا تخلص تھا۔ انہوں نے بے شمار کتابیں لکھیں ادب کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی لیکن انہوں نے شاعری اور افسانوں کے حوالے سے ملک گیر شہرت حاصل کی وہ ادبی رسالوں کے علاوہ صحافت سے بھی وابستہ رہے انہوں نے متعدد اخبارات اور رسائل میں بطور مدیر خدمات سرنجام دیں انہوں نے ملک کے معروف اخبارات میں کالم نگاری کے ذریعے معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کی بھرپور انداز میں عکاسی کی۔ احمد ندیم قاسمی پچاس سے زائد کتب کے مصنف تھے ان کا شمار فیض احمد فیض، ساحر لدھیانوی، اور کرشن چندر جیسے اہم شعراء کرام اور ادیبوںمیں ہوتا ہے ان کے شعری مجموعوں میں شعلہ گل، لوح خاک، محیط، دشت وفا، جلال وجمال، رم جھم جبکہ افسانوی مجموعوں میں چوپال، سناٹا، گھر سے گھر تک، برگ حنائی، گرداب، سیلاب، آنچل، آبلے، آس پاس اور درودیوار قابل ذکر ہیں احمد ندیم قاسمی 10جولائی 2006ء کو 90برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ احمد ندیم قاسمی کو تمغہ حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں