Ahmad nadeem qasmi

‏احمد ندیم قاسمی کا یومِ وفات

احمد ندیم قاسمی پاکستان کے ضلع خوشاب میں 20 نومبر 1916 کو پیدا ہوئے۔ تین سال کی عمر میں والد پیر غلام نبی کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے نتیجہ میں بچپن میں ان کو شدید مشکلات اور محرومیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انھوں نے میٹرک کا امتحان 1930 میں شیخو پورہ کے گورنمنٹ ہائی اسکول سے پاس کیا ۔اسی زمانہ میں انھوں نے شاعری شروع کردی تھی۔مولانا محمد علی جوہر کی وفات پر ان کی پہلی نظم روزنامہ سیاست میں شائع ہوئی تھی۔ 1934 سے 1937 تک ان کی غزلیں اور نظمیں روزنامہ انقلاب اور روزنامہ زمیندار میں شائع ہوتی رہیں اور انھوں نے نوجوانی میں ہی غیر معمولی شہرت حاصل کر لی۔1935 میں انھوں نے بی اے کا امتحان پاس کیا اور تلاش معاش میں لاہور چلے گئے۔یہاں ان کی ملاقات اپنے وقت کے اہم ادیبوں اور شاعروں ،اخر شیرانی،صوفی غلام مصطفی تبسّم، منٹو اور کرشن چند سے ہوئی۔ 1935 سے انھوں نے کہانیاں لکھنی شروع کر دی تھیں ان کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ “چوپال” 1935 میں شائع ہوا جبکہ پہلا شعری مجموعہ “دھڑکن”1942 میں منظر عام پر آیا۔۔ 1950 اور 1970 کے عشروں میں وہ کئی بار گرفتار کئے گئے۔1958 میں انھیں سرکاری ادارے مجلس ترقی ادب کا سکریٹری جنرل مقرر کیا گیا۔1968 میں حکومت پاکستان نے انھیں “تمغہ ء حسن کارکردگی” سے اور 1980 مین ملک کے سب سے پڑے سیویلین ایوارڈ ” نشان امتیاز” سے نوازا۔2006 میں دمہ کے عارضہ میں ان کا انتقال ہوا۔

اک محبت کے عوض ارض و سما دے دوں گا
تجھ سے کافر کو تو میں اپنا خدا دے دوں گا

تو جو بدلا تو زمانہ بھی بدل جائے گا
گھر جو سلگا تو بھرا شہر بھی جل جائے گا

انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا
دیکھا نکل کے گھر سے تو جھونکا ہوا کا تھا

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

میں وہ شاعر ہوں جو شاہوں کا ثنا خواں نہ ہوا
یہ ہے وہ جرم جو مجھ سے کسی عنواں نہ ہوا

بزمِ انساں میں بھی اک رات بسر کر دیکھو
ایک بار اپنی زمیں پر بھی اتر کر دیکھو

دلوں سے آرزوئے عمر جاوداں نہ گئی
کوئی نگاہ پسِ گردِ کارواں نہ گئی

طلوعِ صبح نے چمکا دئے ہیں ابر کے چاک
ندیمؔ یہ مرا دامانِ مدعا ہی نہ ہو

میری محدودِ بصارت کا نتیجہ نکلا
آسماں میرے تصور سے بھی ہلکا نکلا

جانے کہاں تھے اور چلے تھے کہاں سے ہم
بیدار ہو گئے کسی خوابِ گراں سے ہم

ہم دن کے پیامی ہیں مگر کشتۂ شب ہیں
اس حال میں بھی رونقِ عالم کا سبب ہیں

مجھ کو نفرت سے نہیں پیار سے مصلوب کرو
میں بھی شامل ہوں محبّت کے گنہ گاروں میں

شعور میں، کبھی احساس میں، بساؤں اسے
مگر، میں چار طرف بے حجاب پاؤں اسے

مداوا حبس کا ہونے لگا آہستہ آہستہ
چلی آتی ہے وہ موجِ صبا آہستہ آہستہ

اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی
کوئی پہچان ہی باقی نہیں ویرانوں کی

دعویٰ تو کیا حسن جہاں سوز کا سب نے
دنیا کا مگر روپ بڑھایا تری چھب نے

جب ترا حکم ملا ترکِ محبت کر دی
دل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دی

ہم کبھی عشق کو وحشت نہیں بننے دیتے
دل کی تہذیب کو تہمت نہیں بننے دیتے

یوں تو اس جلوہ گہہ حسن میں کیا کیا دیکھا
جب تجھے دیکھ چکے کوئی نہ تجھ سا دیکھا

اپنا تبصرہ بھیجیں