محکمہ زراعت پنجاب نے مون سون کے دوران ؎کپاس کی بہتر نگہداشت کیلئے سفارشات جاری کر دیں

ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کپاس کی فصل میں زیادہ پانی کھڑا ہونے سے جڑوں کے سانس لینے اور خوراک بننے کا عمل متاثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے گڈیاں اور ٹینڈے گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔زیادہ بارشوں کے بعد اگر کھیت سے زایدہ پانی نکالنا ممکن نہ ہو تو کھیت کے دونوں کناروں پر تقریباً10فٹ لمبا،6 فٹ چوڑا اور 5 فٹ گہرا گڑھا کھود کر پانی اس میں منتقل کر لیں۔ کاشتکار زیادہ بارشوں کی صور ت میں کھیتوں سے پانی شفٹی پمپ کی مدد سے نکاسی کریں تاکہ اضافی پانی کھیت میں زیادہ دیر کھڑا نہ رہے۔ اس کے علاوہ جڑی بوٹیوں کا موثر تدارک کیا جائے اوروتر آنے پر ہاتھ سے گوڈی کریں او ر ہل چلائیں یا شیلڈ چڑھا کر بوقت ضرورت گلائیفوسیٹ بحساب 1500 سے 2000 ملی لیٹر فی100 لٹر پانی سپرے کریں۔ کپاس کے کاشتکاربارش کے بعد یوریا 2 کلو گرام+ پوٹاشیم نائٹریٹ 200 گرام+بوریک ایسڈ(17 فیصد)300 گرام+ زنک سلفیٹ(33فیصد)250گرام اور میگنشیم سلفیٹ300گرام کو100لٹر پانی میں حل کر کے ہفتہ کے وقفے سے دوبار سپرے کریں۔بارش کے بعد ایک بوری یوریا پا امونیم نائٹریٹ فی ایکڑ ریجر کے ساتھ استعمال کریں۔یاد رکھیں،کپاس کے کھیت میں اگر بارش کا پانی 48 گھنٹے کھڑا رہے تو پودے مرجھانا شروع ہو جاتے ہیں۔اسلئے پانی کی نکاسی کا فوری بندوبست کریں۔بارش کے بعد زیادہ نمی کی وجہ سے سبز تیلے کا حملہ زیادہ ہو سکتا ہے اس لئے کاشتکار کپاس کی پیسٹ سکاؤٹنگ پر خصوصی توجہ دیں۔اگر ضرررساں کیڑوں کا حملہ نقصان کی معاشی حد سے زیادہ ہو جائے تو محکمہ زراعت(توسیع) کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے سپرے کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں