Naeem Masood

نگران وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی خلاف۔۔۔۔۔۔۔ !

کہتے ہیں پنجاب کے نگران وزیرِ اعلیٰ کی نگران وزارتِ اعلیٰ کی حقیقی طبعی اور طبی زندگی ختم ہو چکی، اور جو چل رہی ہے وہ بونس ہے۔ بہرحال، راقم الحروف کی عدم دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ اُن کے حوالے سے کسی ایک خوبی کی کھوج لگائی نہ کسی ایک ناپختہ کاری ہی کو سپردِ قلم کیا۔ کہنے کو یہ بھی کہا جاسکتا تھا کہ وہ آصف علی زرداری کے صحافتی گیٹ وے ہیں لیکن راقم کے لئے یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی تھی، وہ چوہدریوں کے رشتہ دار ہیں، یقیناً ہوں گے، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ کسی کے نزدیک ان کا میاں عامر محمود سے گہرا تعلق تھا سو ان کے ایک قریبی دوست کے بیٹے کو کم سنی میں نگران وزیر بنایا گیا، پھر کیا ہے؟ مرحوم پرویز ملک خاندان سے تعلق تھا تو ان کا بھائی بھی تو وزیر بنا۔ یہ سب کرائم نہیں، ان کا حق تھا وہ جسے چاہے اپنی ٹیم کا حصہ بناتے۔ جو نام وزارتِ اعلیٰ کیلئے سیاسی پارٹیوں سے آئے ان میں یہی کمال نام تھا ، ریٹائر بیوروکریٹس جب چلتی مشین گن تھے تو انہوں نے کیا کر لیا تھا جو چلے کارتوس ہوکر کچھ کر لیتے؟

فقیر کی کوشش اور خواہش کو چپ ہی بھلی لگتی جب کسی کی پٹاری سے کوئی جمال کمال یا شیش ناگ سا سانپ نہ ملے بہرحال یار لوگوں کا تو معاملہ یہ ہے: خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے ! پس اڑتی ہوئی ملی ہے خبر بزمِ ناز سے کہ نگران وزیرِ اعلیٰ محسن نقوی نے 19 یونیورسٹیوں میں ایک خاص مذہبی گروپ کے وائس چانسلرز لانے کی ٹھان لی ہے۔ کسی نے اپنے فرقہ وارانہ ذوق کو جلا بخشنے کیلئے یہ بےپر کی اڑانے کا تو شوق پورا کرلیا، بعد میں یہ لے اور وہ دے، یہ خبر کوچہ و بازار اور سیل فونوں کی سیر کو نکل گئی۔ کیا کسی کو لگا دیا ؟ کیا کسی نے کوئی ثبوت پایا بھی ؟ پھر ہنگامہ ہے کیوں برپا ؟
اجی ہنگامہ اس لئے برپا ہے کہ محسن نقوی نے کسی سہیل نقوی کو وائس چانسلرز سرچ کمیٹی کا کنونئر بنا ڈالا۔ ارے بھائی ان چار قسم کی کمیٹیوں میں ایک شخص ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی المعروف ZIQ بھی تو ہیں، جنہوں نے شہباز شریف کے وزارتِ اعلیٰ کے دور میں جی بھر ہائیر ایجوکیشن کو تختہ دار پر چڑھایا وہ صاحب تو خود ساختہ طرم خانی کے اس بلند و بالا مقام پر فائز ہیں کہ پورا نیچے دیکھیں تو زمین بوس ہو جائیں کوئی انہیں دیکھنا چاہے تو دیکھنے کی پاداش میں کھڑے کھڑے پیچھے کی جانب جا گرے۔ یہ نفسیاتی مریض کسی کو نظر نہیں آیا جو ماضی میں ہر اچھی بری ایجوکیشن کمیٹی کے کہیں ممبر اور کہیں سرخیل تھے مگر انتہائی ناکام بھی۔ لیکن ڈاکٹر سہیل نقوی سا زیرک شخص جو ڈاؤن ٹو ارتھ ہے اور ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہونے کے علاوہ ایک کامیاب ترین یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی رہا ، اس کیلئے عاقبت نا اندیشوں نے ترکش کے سارے تیر نکال لئے! عمران خان کے تیکھوں کو عارف بٹ اور شہبازشریف کے حواریوں کو ‘نفسیاتی بصیرت’ کے حامل ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا، پھر وہ دو خواتین بھی سرچ کمیٹی میں شامل کرلیں جو ایک ہی ادارے کی پرنسپل رہیں، ہمیشہ آپس کی جنگ کیلئے معروف اور ہائیر ایجوکیشن لیڈر شپ چننے یا رکھنے کے حوالے سے غیر معروف ہیں ۔۔۔ مگر ہمارے یار دور کی کوڑی کیا لائے ، آہ ! شیعہ سُنی جھگڑا۔ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ، یونیورسٹیوں میں پہلے ہی کہیں برادری ازم کا یدھ ہے تو کہیں کرسی کی جنگیں، چلئے ایک گناہ اور سہی کیونکہ سائنس و ٹیکنالوجی اور طب یا انجنئرنگ کی حقیقی روح کی جانب نہ جانے کی ماہر تعلیم، بیوروکریسی اور حکومتوں نے قسم کھا رکھی ہے !

کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو ، کوئی پلیجرزم اور ہراسمنٹ کلچر کیلئے بھی آواز اٹھائے، کوئی یونیورسٹیوں کیلئے سرکاری گرانٹس کی بات کرے، کوئی اس کا بھی تو فکر کرے جامعات میں آننٹرپرنیورشپ کا کلچر اور کمیونٹی سنٹرز ہونے کا اہتمام نہیں، جامعہ گجرات ، اور یو ای ٹی لاہور کے وائس چانسلرز نے یونیورسٹیوں کو تباہ کر دیا کہیں وہ اور یونیورسٹیوں کا بیڑا غرق نہ کریں، فیڈرل میں جو بیوروکریسی اور رانا تنویر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے چناؤ کو اپنے تعصب اور عاقبت نا اندیشی کے سبب عدالتوں کے در پر لے گئے ہیں۔ ایچ ای سی کا اہم عہدہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر عرصہ دراز سے خالی ہے جس کے امور کو شائستہ سہیل نامی سابق بیوروکریٹ نے پیوند خاک کرنے میں کوئی کسر چھوڑی ہے؟ سیاسی بنیادوں پر مش رومز کی طرح غیر معیاری یونیورسٹیوں کو فروغ دیا جارہا ہے، یونیورسٹیوں میں کئی کئی ماہ رجسٹرار ، خازن اور پرو وائس چانسلرز کی تقرریوں کا فکر نہیں ہوتا۔ وائس چانسلرز پرو وائس چانسلرز کا وجود برداشت کرنے کیلئے تیار ہی نہیں جیسے یونیورسٹی قومی ادارہ نہیں خالہ جی کا ویڑا ہے حالانکہ فنانس، ریسرچ اور ایڈمنسٹریشن کے الگ الگ پرو وائس چانسلر ضروری ہیں کہ گلشن کا کاروبار چلے۔ بلکہ دو کے قریب پرو وائس چانسلر تفویض کاری کے بغیر بھی ہونے چاہئیں جو کمیونٹی سنٹر، فنون لطیفہ، اور سٹوڈنٹس کی غیرنصابی سرگرمیوں تک کو دیکھیں! یہ ایجنسیاں کبھی یونیوسٹیوں کی معاون بھی ہوئی ہیں ؟ کبھی ضلعی انتظامیہ نے بھی یونیوسٹیوں کیلئے دل کھولا ہے؟ اجی، یونیورسٹیاں کبھی شعیہ سنی ، پنجابی بلوچ یا آرائیں جٹ اور راجپوت نہیں ہوتیں بلکہ پالیسیاں بنانے والی ، تحقیق کی آماجگاہ ، انڈسٹریل اکانومی اور انڈسٹریل لنکس کا گہوارہ ہوتی ہیں جہاں تحقیقی و تعلیمی سوال اٹھائے جاتے ہیں۔۔۔۔ کبھی طلبہ الیکشن کا بھی سوچ لیں کہ قحط الرجال کا خاتمہ ہو ! پاکستان بھر کی فزکس ، کیمسٹری، زوالوجی ، باٹنی، بائیوٹیکنالوجی، فارماسیوٹیکل سائنسز و دیگر کی لیبارٹریز میں سامان کے بجائے آسیب کے سائے ہیں ! ہے کوئی درد دل رکھنے والا جو اس کا بھی سوچے، 18 ویں ترمیم کے تناظر میں بننے والی صوبائی ایچ ای سیز کے کردار، اظہار اور وقار کا خیال نہ کرنا بھی تعلیمی و تحقیقی گناہ کبیرہ ہے صرف شیعہ سنی پروپیگنڈہ ہی میں نہ پھنسے رہیں!

اپنا تبصرہ بھیجیں