Afzaal Rehan

نجات کسے ملے گی؟

کسے معلوم نہیں کہ اس سرزمین حسرت و یاس کا بنیادی مسئلہ تباہ حال معیشت ہے جس نے اس ملک کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں، ہمارا روپیہ ٹکا ٹوکری ہو چکا ہے غربت اور بیروزگاری چہار سو ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔ غریب عوام مہنگائی کی چکی میں بری طرح پس رہے ہیں، لوگوں کی سسکیاں اور آہیں نکل رہی ہیں۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہماری ساری بحثیں ملک و قوم کو اس دلدل سے نکالنے پر مرتکز ہوتیں ،اس حوالے سے مختلف تجاویز بحث کیلئے پیش کی جاتیں تراکیب سوچی جاتیں، اس کی وجوہ پر مکالمے و مباحثے ہوتے کہ اگر ہم اس کھائی میں گرے ہیں تو گراوٹ کے تمامتر عوامل گنوائے جائیں ،اپنی قومی پالیسیوں اور ریاستی ترجیحات کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے مرض کی تشخیص کی جائے کہ قومی معیشت کی ڈوبتی نائو کو اس گرداب سے نکالا جاسکے۔
ہمارے میڈیا میں اس امر پر کھلا مباحثہ ہونا چاہئے کہ ہمارے قومی بیانیے میں کون کونسی ایسی خرابیاں یاخامیاں ہیں جن سے جان چھڑواتے ہوئے ہم اپنے عوام کے دکھوں کا مداوا کر سکتے ہیں۔؟ فی زمانہ کسی بھی مملکت یا ریاست کا اصل ٹارگٹ اپنے عوام کی ترقی، خوشحالی اور خوشی کا حصول ہوتا ہے۔ سماج سے غربت، جہالت، ظلم و بے انصافی یا کسی بھی نوع کے استحصال کا خاتمہ کرتے ہوئے انہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات سے ہمکنار کیا جائے اگر ان کی روٹی روزی کا مسئلہ ہی حل نہیں ہو گا تو آگے بڑھ کر مزید آپ نے کیا کرنا ہے؟
درویش کی نظروں میں ہماری بربادی کی بنیادی وجہ یہ بنی کہ ہماری ابتدائی اٹھان ہی کنفیوژن اور منافرت میں ہوئی۔ ہم نے روز اول ہی سے سائنٹیفک استدلال پر ترجیح دیتے ہوئے اپنی جذباتیت کو اپنی بنیاد بنالیا۔جہاں دیگر اقوامِ عالم جدید سائنٹیفک علوم و فنون اور ٹیکنالوجی میں ترقی کرتے ہوئے آگے سے آگے بڑھتی دکھائی دیں گی وہیں ہم اپنی قوم کو ’’دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو‘‘ کا سبق پڑھا رہے ہونگے۔ ایک وقت میں ٹونیشن تھیوری کے نعرے لگاتے پائے جائیں گے تو دوسرے وقت میں اس کی نفی میں تقاریر کرتے نظر آئیں گے، کبھی اسلامی سوشلزم کے گن گائیں گے تو کبھی جمہوریت کو مذہبی و اسلامی تڑکے لگاتے پائے جائیں گے۔ اور پھر نوبت یہاں تک پہنچے گی کہ مشرق وسطیٰ والے تو واشنگٹن اور نیویارک سے بھی آگے تک ماڈریٹ بننا چاہ رہے ہونگے اور ہم اپنی قوم کو جذباتیت کا نشہ پلاتے ہوئے ریاست مدینہ کے سہانے خواب دکھاتے پائے جائیں گے حالانکہ بیوقوف بننے اور بنانے والوں میں سے کسی کو بھی اس سٹوپیا کی اصل حقیقت کی ابجد کا بھی کچھ شعوری نالج نہیں ہوگا۔
آج ہمارا پیارا سعودی عرب پرنس محمد بن سلمان کی قیادت میں جدیدیت کیلئے جس قدر بے تاب ہے ہم اتنے ہی قدامت پرستی کیلئے پریشان ہیں ،وہ سوائے حرمین شریفین کے اپنے ملک کی تمام مساجدپر ایسی پابندیاں لگا رہے ہیں کہ کہیں بھی کوئی شتر بے مہار نہ ہونے پائے، کیا سعودی عرب کے کسی بڑے سے بڑے عالم یا مفتی کی یہ مجال ہے کہ وہ دیگر مذہبی مراکز تو رہے ایک طرف حرمین شریفین میں بھی جنونیت یا ملیٹینسی کا کوئی سبق پڑھا سکےیا اس نوع کا کوئی درس دے سکے ؟؟آج اگر وہاں ریاست یہ ہدایت جاری فرما رہی ہے کہ خبردار،رمضان شریف میں بھی لائوڈ سپیکر کی آواز سرکاری ہدایت سے اوپر نہ ہونے پائے یا اسے کسی قوم و مذہب کے خلاف منافرت پھیلانے کیلئے استعمال کیا یا مذہب و مساجد کا سیاسی استعمال ہوا ۔KSAمیں کسی بڑے سے بڑے عالم کو بھی اسرائیل اور یہود کے خلاف بھی منافرت پھیلانے کی اجازت نہیں ہے سمجھنے کیلئے یہ مثال ہے ہمارے ان لوگوں کیلئے جو سعودی عرب کو ہمیشہ سے ہمارے ہاں ایک مثال کی صورت پیش کرتے چلے آ رہے ہیں اور اپنے خطبات میں سعودی سماج کو آئیڈیلائز کرتے رہے ہیں، درویش کی گزارش ہے کہ اگر آپ لوگوں نے جدید بھارتی سماج سے کچھ نہیں سیکھنا تو کم از کم سعودی عرب کے سماج سے ہی کچھ سیکھ سمجھ لو۔
درویش پوری ذمہ داری سے یہاں یہ لکھے دیتا ہے کہ یہ ملک پاکستان اب آگے بہتری کی طرف اس وقت تک قطعی چل نہیں سکے گا جب تک آپ لوگ اپنی جنونیت کو لگام نہیں دیں گے، یہودوہنود کے خلاف روایتی منافرتوں کو نہیں بھڑکائیں گے اور انڈیا دشمنی نہیں چھوڑیں گے۔درویش کلمہ پڑھ کر آپ لوگوں کو تنبیہ کی صورت واضح کر رہا ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو کشمیر کا قضیہ ختم کر دو ،بھول جائو کہ کشمیر کوئی ایشو ہے ،اگر مسلمانی کا زیادہ درد اٹھتا ہے تو ایک لبرل سیکولر جمہوری آئین کے زیر سایہ رہنے والوں کی بجائے ان کا سوچئے جو بدترین سوشلسٹ ڈکٹیٹر شپ کے آہنی شکنجوں میں جکڑے ہوئے ہیں جہاں انہیں اپنے عقیدے کی مطابقت میں جینے کی بھی آزادی نہیں مگر وہاں آپ کی جنونیت کے پر جلیں گے۔
لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اپنے کام سے کام رکھیے اپنے عوام کے دکھوں اور بدنصیبیوں کا سوچئے اور انہیں جنونیت کی کھائی میں مزید گرائے چلے جانےسے باز آ جائیے آج زمان پارک میں جناح ثالث صاحب نجات دہندہ بنے نوجوانوں کو جو نشہ پلا رہے ہیں اس کے مضمرات واضح کیجئے کھلاڑ ی صاحب !یہ ملک مزید ایسی جنونیت کا متحمل نہیں ہو سکتا آج اگر دوبارہ آپ کی ویسی ہی حکومت بن بھی جائے جس نے اس ملک کی چولیں ہلا ڈالی ہیں تو جو تھوڑی کمی رہ گئی تھی آپ وہ بھی پور ی کر دو گے۔ ہمارے عوام کو بھی سوچنا چاہئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ملک کی تمام سیاسی و جمہوری قوتیں اس کا ٹارگٹ ہیں مگر طالبانی ذہنیت اس کو بھاتی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں