Adnan Mohsin

کب مری جان سُدھرنے کے لیے زندہ ہیں

کب مری جان سُدھرنے کے لیے زندہ ہیں
ہم ترے عشق میں مرنے کے لیے زندہ ہیں

دشت و دریا کے تھپیڑوں سے الجھنے والے
تیری بستی سے گزرنے کے لیے زندہ ہیں

عدنان محسن

اپنا تبصرہ بھیجیں