Adnan Mohsin

شکستِ خواب

آنکھ کے نیم وا دریچے پر
نیند نے دستِ مرمریں رکھا
اور اِک دل فریب دستک دی
کوئی سنتا تو دیکھنے آتا

بارہا دستکوں سے اکتا کر
اُس نے بے اِذن جھانکنا چاہا
پھر جو جھانکا تو آنکھ کے اندر
تیری یادوں کا ایک میلہ تھا
وحشتیں محوِ رقص پھرتی تھیں
رتجگے ہر طرف تماشائی
ایک آنسو میں قید تنہائی

آنکھ کے نیم وا دریچے سے
ایک ساعت میں دیکھ کر سب کچھ
نیند پھر بے مراد لوٹ آئی۔ ۔ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں