سابق حکومتی دور اور اسی تسلسل کے ساتھ نگران حکومتوں کے قیام کے بعد عوام پر مہنگائی کی برسات جاری و ساری ہے۔ آئے دن کوئی نہ کوئی نیا مہنگائی کا تحفہ نگران حکومت کی جانب سے عوام کودیا جاتا ہے۔یہ سہی کہ نگران حکومت عوام کو جواب دہ نہیں ہوتی کیونکہ وہ عوام کی مرضی کے بغیر مسلط کئے جاتے ہیں۔ ان کو عوام کے غیض و غضب کا سامنا نہیں کرنا ہوتا اس لئے من چاہے فیصلے دھڑا دھڑ کئے جا رہیں ہیں۔چاہے وہ بجلی کے بلوں میں اضافہ ہو، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں میں اضافہ ہو یا پھر اسلحہ لائسینس بنوانا ہو شتر بے مہار کی طرح ان کی فیسیز میں ہو شربا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اور تو اور زرعی زمین پر شنید ہے کہ جو آٹھ ایکڑ تک کا مالک ہے وہ اپنے گوشوارے جمع کروائے گا نہ کروانے کی صورت میں مطلقہ افسر کی صوابدید پر ہو گا کہ وہ کیا جرمانہ عائد کرے گا۔
ان تمام فیصلوں نے عوام کی بے چینی اور اندر ہی اندر پکتے لاوے پر جلتی پر تیل پھینکنے کے مترادف کام کیا ہے۔ ان فیصلوں سے کرپشن میں اضافہ ہو گا وہ خواب کہ ملک کے خزانہ میں اضافہ ہو گا تا حد نگاہ اس کے اثرات نظر نہیں آرہے۔ہم من حیث القوم شارٹ کٹ سوچ پر عمل کرتے ہیں۔
بجلی کے ریٹ بڑھانے پرلوگ دوسرے ذرائع پر سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔ جو عموما غلط بات ہے پر وہ ان کی مجبوری ہے کہ وہ بجلی کا بل جمع کروانے سے قاصر ہیں۔ اس صورت حال میں بجلی چوری میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور اس کام میں شانہ بشانہ محکمہ کے اپنے بندے حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرتے نظر آتے ہیں۔ ریونیو محکمہ کو جانے کی بجائے کسی اور کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔
ٹریفک جرمانوں میں اضافہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے ۔ موٹروے پر تو نہیں پر شہروں کے اندر خاص کر رات کے وقت ٹرکوں کو جیسا روکا ہوتا اس سے دال میں کچھ کالا محسوس ہوتا ہے۔کچھ واقعات رپورٹ بھی ہوئے ہیں کہ ایک مخصوص دوکان سے چالان جمع کروانے پراصرار کرنا یا ایزی لوڈ کروانا وغیرہ
پہلی ہی جس ملک میں ناجائز اسلحہ کی بھر مار ہو اور شریف بندے کو لائسینس فیس کی مد میں اس سے اس کے کپڑے اتروا لینا کہاں کا انصاف ہے؟
یہ فیصلہ بجائے ملکی خزانے میں اضافہ کے ملک میں ناجائز اسلحہ کی فراوانی کا باعث بنے گا ۔ جو لوگ قانونی طریقہ سےاسلحہ لائسینس بنوانا چاہتے ہیں ان کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ پچاس ہزار لائسینس بنوانے کی بجائے وہ ناجائز اسلحہ رکھے گااورپکڑے جانے پر پانچ ہزار سے کام نکلوانا چاہے گا ۔
شنید ہے کہ لائسینس رینئو کروانے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے کہ اس میں بھی فیس میں اضافہ مقصود ہے۔ کہ جس نے لائسینس بنوا کر غلطی کر لی ہے وہ اب ساری زندگی اس کا خمیازہ بھگتے۔ یاد رکھے جتنا آپ ٹیکس کی شرح بڑھاتے ہیں لوگ ٹیکس دینے سے کتراتے ہیں اور ادھر سے ہی پھر کرپشن کا دروازہ کھیلتا ہے گفت وشنید ہوتی ہے اور کہیں نہ کہیں جا کہ معاملہ سیٹل ہو جاتا ہے اور حکومتی خزانہ پھر خالی کا خالی رہ جاتا ہے۔ جتنا آپ ٹیکس کو آسان اور کم سے کم رکھیں گے لوگ بخوشی جمع کروانا شروع کر دیں گے۔
ملک کی اکانومی کا زیادہ انحصار زراعت پر ہے اور زیادہ زراعت میں چھوٹا کسان زیادہ ہے۔ زیادہ تر کسان کو آٹھ ایکڑ تک الاٹمنٹ ہوئی ہے۔ جب ہوئی تھی تب سے اب تک تیسری نسل وجود میں آ چکی ہے اور جائیداد کے بٹوارے کے اصول کے مطابق زمین ٹکڑیوں میں بٹ چکی ہے لیکن کاغذات میں ملکیتی وراثت ایک ہی چلی آرہی ہے۔ سب سے زیادہ دباؤ میں یہ چھوٹا کسان ہے۔ اس کی آپ روزانہ کی اجرت نکالے تو ایک مزدور سے بھی کم نکلتی ہے اس کو بس ایک آدھ مویشی پالنے کا ہی موقع ملتا ہے وہی اس کی کل کائنات ہوتی ہے۔ ٹیوب ویل ڈیزل پر ہوں یا بجلی پر نا قابل برداشت خرچہ اٹھتا ہے۔ ٹریکٹر سے زمین کی تیاری پر الگ خرچہ بیج کی مد اور کھادوں اسپرے وغیرہ کا بہت زیادہ مہنگا ہو جانا اور جب فصل تیار ہو جاتی تو مڈل مین مافیا اس فصل کا پورا ریٹ نہیں دیتا استحصال عام کسان کا ہوتا ہے۔ اب اس پر گوشواروں کا بوجھ لاد دیا گیا ہے تقریبا ہر کسان یہ گوشوارے بھرنے سے نابلد ہے مطلب وکیلوں کی چاندی ہو گی۔ جو اس لائن پر نہیں آئے گا جو پٹوار کلچر پہلے سے جن جپھا ڈالے ہوئے ہیں اس کے چنگل میں آسان شکار بنا دیا گیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہمارے ہمسائے ملک کی طرح جو جاگیریں تھی وہ ختم کر دی جاتی۔ سبھی کو ایک حد تک زرعی زمین کا مالک بنایا جاتا پھر آپ گوشوارے بھی جمع کروا لیتے۔ابھی بھی کوئی ایسی تجویز ہے تو براہ کرم اس کی کم از کم زمین کی حد دو مربع سے اوپر والوں پر لاگو کی جائے۔
یاد رکھے اگر یہ طبقہ جو بہت زیادہ تعداد میں ہے ان کی بے چینی بڑھ گئی اور شاعر کہ اس شعر پر سوچنا شروع کر دیا کہ
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
اس وقت کو سوچتے ہوئے میرے ہاتھ کچھ بھی لکھنے سے کانپ رہے ہیں۔
جب سے نگران سیٹ اپ وجود میں آیا ہے سٹریٹ کرائم چھینا جپھٹی کے واقعات میں اضافہ نظر آرہا ہے ایسے علاقوں سے بھی وارداتیں رپورٹ ہو رہی ہیں جہاں کبھی امن کا گہوارہ ہوتا تھا۔ وجہ لوگ مہنگائی سے تنگ پیٹ بھرنے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس آخری آپشن یہی رہ جاتا ہے جس کو وہ احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ آنے والا وقت مزید الارمنگ ہے۔
