افضال ریحان

قیادت کیلئے صلاحیت ؟؟

قیادت کیلئے صلاحیت

دنیا جہاں میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان کو دیگر تمام مخلوقات پر عظمت و برتری اس کی عقل و شعور کی وجہ سے حاصل ہے، اسی خصوصیت کی بنیاد پر ہی انسان اشرف المخلوقات قرار پایا ہے اور پھر ان تمام انسانوں میں جو جتنا زیادہ باشعور ،ذہین و فطین یا معرفت و دانائی میں بلندی پر ہو گا اتنا ہی قابل احترام اور مقدس گردانا جائے گا۔ اس کے برعکس جو شخص عقل و خرد سے پیدل یا فاتر العقل ہو گا اسے کسی معزز و برتر ذمہ داری پر فائز کرنا تو دور کی بات ہے کوئی اپنا ڈرائیور رکھنا بھی قبول نہیں کرے گا کہ مبادا کسی حادثے کا شکار بنا ڈالے۔ معروف یونانی فلاسفر افلاطون نے قدیم زمانے میں قیادت پر فائز ہونے والے کے لئے ’’مدبر‘‘ہونے کی شرط لازم قرار دی تھی اور آج اکیسویں صدی کی ترقی یافتہ اقوام بھی اپنی قیادت پر فائز ہونے والے کیلئے دیگر خوبیوں کے ساتھ اعلیٰ شعوری صلاحیتوں کو لازم خیال کرتی ہیں اور قریباً ان سب کے دساتیر میں فاتر العقل ہو جانے والے کو برتر عہدہ کیا عام ذمہ داری سے بھی فوری طور پر ہٹائے جانے کا اہتمام یا طریق کار موجود یا رقم ملے گا۔
اقبال مسلمانوں کی ظاہر پرستی پر ناک بھوں چڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
گدا گر ہو اور بال ہوں سر کے لمبے
مسلمان اس کو ولی جانتے ہیں
یعنی وہ اعلیٰ شعوری و علمی خصوصیات تلاش کرنے یا انہیں ترجیح دینے کی بجائے کسی کے ظاہری حلئے یا دکھائی دیتی شخصیت پر فریفتہ ہو جاتے ہیں ۔درویش نے اپنی نوعمری میں اپنی آنکھوں سے ایک بابا جی کو دیکھا ہے جو زندگی میں پہنچنے والے کسی بڑے صدمے کے باعث دماغی توازن کھو بیٹھے تھے اور فاتر العقل ہو گئے تھے اس لمبے بالوں والے ننگ دھڑنگ بابا جی کا نام ’’گاما حیات‘‘ تھا وہ مریدکے کی گلیوں بازاروں میں جدھر سے گزرتے اکثر لوگ بالخصوص بچے اِدھر اُدھر بھاگنے لگتے کہ مبادا وہ کوئی نقصان پہنچا دیں کیونکہ انہیں جب دورہ پڑتا تھا تو وہ تشدد بھی کر ڈالتے تھے ،تنہا بیٹھے بھی وہ اکثر خود کلامی کرتےاس ناچیز نے بارہا سنا ،اس بابا جی کی شخصیت کو سمجھنے کی اس ناچیز نے بچپنے میں کئی بار کوشش بھی کی سچ تو یہ ہے کہ وہ قطعی ایک پاگل آدمی تھا جس سے صرف ہمدردی ہی کی جاسکتی تھی ۔کاش یہ عاجز اس وقت اس قابل ہوتا کہ اس بدنصیب کو مینٹل اسپتال یا پاگل خانے پہنچا سکتا بہرحال اس بے کسی میں ایک روز یہ بابا جی گاما حیات ایک جگہ مردہ حالت میں پائے گئے تو کچھ دکانداروں نے یا خدا بہتر جانتا ہے ان لوگوں کے کیا مقاصد تھے کہ انہوں نے جی ٹی روڈ کی ایک انتہائی بارونق سرکاری .جگہ پر اس کی تدفین کرنے اور مزار بنانے کا فیصلہ کیا،

جس کے پاس کسی ایسی ہی سوچ کے تحت اس قبضہ گروپ نے سرکاری زمین پر پہلے ہی ایک مسجد تعمیر کی ہوئی تھی، اب مسجد کے ساتھ مزار بن جانے سے وہ رونقیں لگیں کہ آج کی نسل کے خوش عقیدہ لوگ وہاں منتیں مانتے اور چڑھاوے چڑھاتے ہیں اور کیا سماں بندھتا ہے۔ ناچیز اس وقت بہت چھوٹا تھا لیکن یہ سوچتا تھا کہ بابا گاما حیات کو بڑے قبرستان میں لے جا کر دفن کیوں نہیں کیا گیا؟ یہ بابا جی چونکہ شہر کے اس کاروباری علاقے میں خوب گھوما کرتے تھے یہی وجہ تھی کہ ان کا جنازہ ہمارے شہر مرید کے کی تاریخ کا سب سے بڑا جنا زہ تھا اور شاید اس کا ریکارڈآج تک سید ملنگ شاہ اور سید ولایت شاہ صاحبان کے جنازے بھی نہیں توڑ سکے ہیں ۔
عرضِ مدعا یہ ہے کہ ہمارے لوگ کسی کو پسند کرنے یا ہیرو بنانے کے لئے اس کی علمیت ،صلاحیت یا قابلیت سے زیادہ شاید ظاہری وضع قطع یا بول چال کو دیکھتے ہیں، ان کا کسی کو ہیرو یا ولن بنانے کا پیمانہ کیا ہے ؟درویش کو شاید اصلیت تک ہنوز رسائی نہیں ہو پائی ،کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کس کی کون سی ادا ان کے دل کو لبھا لے جائے ۔دل لگی کی اس پرکھ میں ایک چیز جسے حقیقت کہنا چاہئے بڑی دلچسپ ہے، وہ یہ کہ ہمارے لوگ پاک فوج سے بھی بڑی محبت رکھتے ہیں یہ اسی اپنائیت کا اثر ہے کہ وہ اپنے فوجی بھائیوں کی بہت سی زیادتیوں کو بھی پی جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں