چوہدری شجاعت کی حکمت بھری بات

را جہ شاہد رشید

سیاست سلسلہ ہے مثبت سوچ و افکار اور سچائی و سربلندی کا‘ سیاست نام ہے ادب و شائستگی‘ علم و دانش و حکمت و حکومت کا‘ سیاست نام ہے تہذیب و تمدن اور تمیز و اخلاقیات کا‘ سیاست نام ہے اعلیٰ علمی ادبی اور خالص اسلامی روایات و اقدار کا۔ انسانیت کی بھلائی‘ شعور کی بیداری اور مساوات و انصاف کے نفاذ کا نام ہے سیاست اور سیاست کام ہے اہل ادب و فکر و فلسفہ‘ اہل عقل و عمل‘ مبلغین‘ دانشوروں اور علما و صوفیا کا۔ کیونکہ سیاست امن ہے‘ ایمان ہے‘ دیانت ہے اور دینیات ہے سیاست‘ عبادت‘ خدمت اور اخلاص و محبت و اخلاقیات ہے سیاست لیکن اب تو چنگیزی ہی رہ گئی ہے بقول اقبال: جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔
صد افسوس کہ سیاست ِ دوراں تو بس تبدیلی کی تال ہے‘ ساتھ چور چور کی تان ہے اور طعنوں گالیوں کے سنگ سنگ ڈاکو ڈاکو کی گردان ہے ‘عہدِ موجود کے افلاطون فواد چودھری فرماتے ہیں کہ جب ہم کہتے ہیں کہ ہر چور ڈاکو کا احتساب ہو تو ن لیگی بھائی بہت برامناتے ہیں جبکہ دوسری جانب ن لیگی لوگ بھی گھڑی چور گھڑی چور کا الاپ فرما رہے ہوتے ہیں۔ ایک ن لیگی ورکر نے مجھے بتلایا کہ ’’ٹیکسلا ورکرز کنونشن میں میرے انتخابی حلقہ کلر‘ کہوٹہ‘ مری ضلع راولپنڈی و اسلام سے دونوں نشستیں ہارنے کے بعد لاہور لے جا کر جتوائے جانے والے MNA شاہد خاقان عباسی نے جب عمران خان کیلئے ’’بے غیر ت وزیر اعظم‘‘ ایسے الفاظ استعمال کیے تو مجھے اچھا نہیں لگا‘‘۔ دنیا بھر میں کیا پیغام گیا کہ پاکستان میں ایک سابق PM دوسرے سابق PM کیلئے کس قدر نازیبا الفاظ بول رہا ہے۔ ظفر اقبال کے الفاظ میں:
بیانات اس طرح کے ہیں ہمارے
محاذ آرائی پیدا کر رہے ہیں
یہ فرمانِ ذیشان بھی سابق PM شاہد خاقان عباسی کا ہے کہ نیب کو ختم کرنے سے ہی جمہوریت مضبوط ہو گی۔ راولپنڈی سے کہوٹہ جانے والی سڑک بالکل ختم ہو گئی ‘ جگہ جگہ نالے اور تالاب کے مناظر نظر آئیں گے‘ سہالہ پھاٹک پہ پُل نہ ہونے کی وجہ سے گھنٹوں ٹریفک رُکی رہتی ہے اور حلقے کے لوگ موصوف کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں ۔ اپنے انتخابی حلقہ اور انتخابات میں ان کی عدم دلچسپی کی وجہ ایک تو شکست کا خوف ہے اور دوسرا موصوف کی مقبولیت کا گرتا ہوا گراف ہے اور اب ان کے حامی تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ شاہد خاقان کے وارنٹ گرفتاری کے پیچھے مریم نواز ہیں۔ کوئی کسی پہ الزام لگانے سے پہلے سوچتا نہیں بولنے سے پہلے تولتا نہیں۔ سابق PM عمران خان تو جیسے الزامات لگانے والی کوئی مشین ہیں ‘ فیکٹری ہیں یا ڈائریکٹری ہیں اور تو اور موصوف نے اپنے محسن سابق سپہ سالار جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ جی کو بھی نہیں بخشا اور ان کیلئے جو الفاظ استعمال کیے ہیں وہ میں لکھ بھی نہیں سکتا۔ کل وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ فرما رہے تھے کہ ہماری حکومت گرانے اور عمران کو لانے میں بھی باجوہ کا ہاتھ تھا۔ الغرض لگ ایسے رہا ہے کہ ہمارے یہاں ماحول ہی الزام تراشی اور بد تمیزی کا بن گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے الزام لگایا ہے کہ جنرل (ر) فیض حمید نے میرے گھر آ کر آفر فرمائی تھی کہ وہ ان کی بات مان لیں تو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ بنا دیں گے اس کے علاوہ محترمہ مریم نواز نے جلسے میں جس طرح ججز کو تصاویر میں دکھایا ہے اور اُن کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے وہ سب سن چکے ہیں۔ سوچنا یہ ہے کہ ہمارا مستقبل کیا ہو گا‘ ملک کا یہ حال تو کبھی نہ تھا‘ مہنگائی کا طوفان آ گیا‘ محرومیاں اور مایوسیاں دیس کی دہلیز پہ بال کھولے سو رہی ہیں‘ ظلم و بد معاشی کا ننگا ناچ جاری ہے‘ قرضوں کی گہری دلدل سے نکلنا محال ہو گیا ‘ غربت ‘ بے روزگاری اور مہنگائی میرے ملک کے سب سے بڑے مسائل ہیں ان ظالموں نے عام آدمی کا خون چوس لیا‘ معیشت تباہ کر دی‘ غریب کی زندگی اجیرن کر کے یہ ’’پھٹیچر‘‘ اپنے مقدمات ختم کراتے رہے اور ملک و قوم کا بیڑہ غرق کر دیا‘ یہ ہے ان سب کی حقیقت کوئی جانے یا نہ جانے کوئی مانے یا نہ مانے۔ ملک ICU میں ہے کاش ہم سب بیدار ہو جائیں باشعور ہو جائیں ملک و قوم کے مفاد کیلئے‘ ہریالی اور خوشحالی کی خاطر خدارا ایک ہو جائیں اتحاد و یک جہتی کی اشد ضرورت ہے۔ بزرگ لیگی لیڈر چوہدری شجاعت حسین فرماتے ہیں کہ ’’نفرت کی سیاست ملک کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے‘ مہنگائی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے بڑھ چڑھ کر کام کیا جائے ’’معیشت مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ملک بحرانوں میں ہے تمام پارٹیوں کی قیادتوں کو ایک ہونا پڑے گا‘‘۔ یہ صد فی صد درست بات ہے‘ چوہدری شجاعت حسین ایک دوراندیش اور زیرک سیاست دان ہیں جنھوں نے تُو تو اور میں میں کے اس ماحول میں ایک حکمت بھری بات کی ہے بلکہ حق بات کی ہے کیونکہ اتحاد‘ اجتہاد اور یک جہتی ہی کامرانی کی کُنجی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں