محمد ارشد جیلانی

فلاحی ریاست نظام امدادباہمی سے ہی ممکن ہے !

اخوت اور بھائی چارہ اسلامی معاشرے کا اہم جزو ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں ہم آہنگی اور اتحاد برقرار رکھنے کیلئے مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ کی ضرورت پر بہت زور دیا ہے۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہے ’’بے شک تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں۔‘‘ اس طرح قرآن نے اخوت کو جزو ایمان بنا دیا ہے قرآن حکیم اور سنت پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے معلوم ہو جائے گا کہ اخوت کا اولین مقصد اسلامی معاشرے کے اندر تعاون اور امدادباہمی کا جذبہ پیدا کرنا ہے ۔ امدادباہمی معاشرے میں انسان کی زندگی پر کئی طرح سے اثر انداز ہوتی ہے اور یہ فرد کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ بڑے بڑے سماجی مفکرین امدادباہمی کو انسانی بہبود کے فروغ کے لیے بہت زیادہ اہمیت دیتے آئے ہیں ۔ ان میں سے بعض مفکرین کا خیال ہے کہ امدادباہمی کے بغیر انسانی زندگی برقرار نہیں رہ سکتی ۔ انسان نہ اکیلا رہ سکتا ہے اور نہ اپنی بنیادی ضروریات اکیلا پوری کر سکتا ہے ۔ موجودہ دور کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو دیکھا جائے تو امدادباہمی اور تعاون کی ضرورت کا شدت سے احساس ہونے لگتا ہے ۔ امدادباہمی اور تعاون معاشرہ کی بنیاد ہے اور انسانی زندگی کی بقاء اور ترقی کو جاری رکھنے کے لئے یہ بہت ضروری ہے ۔ امدادباہمی کا جذبہ یقیناََ اسی وقت دلوں میں جاگر ہوتاہے جب ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے اخوت ، انصاف و رواداری اور رحم دلی پیدا ہوتی ہے ۔ خود غرضی اور نفسانفسی انسان کو اپنی ذات میں محصور کر دیتی ہے ۔ امدادباہمی کے عمل دخل کے بغیر زندگی کے کسی بھی میدان میں کامیابی و سرخروئی کے جھنڈے سے نہیں گاڑے جا سکتے ۔ آج ہمارے وطن کو ایسے افراد کی ضرورت ہے جو پاکستان کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے باہمی مدد کے اصول کو اپنائیں۔ ایسی فرسودہ رسوم جو ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح جڑ پکڑ چکی ہیں اور جن پر ہم لاکھوں روپے بلاوجہ ضائع کرتے ہیں اگر انہیں مثبت رخ دے دیا جائے تو کئی بھوکوں کا پیٹ بھر سکتا ہے ، کئی بیمار شفا یاب ہو سکتے ہیں ، بیشمار جاہل صاحب علم ہو سکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر قومی معیشت کو مستحکم بنایا جا سکتاہے ۔ ہماری غیرت مندی اور خود داری کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آپس میں مل کر ملکی وسائل کو بروئے کار لائیں ۔ ہماری شناخت پاکستان سے ہے اور پاکستان کی بقاء کا انحصار ہماری اجتماعی و مشترکہ جدوجہد پر موقوف ہے ۔ قرار داد پاکستان کی منظوری کے بعد سات برس کی قلیل مدت میں پاکستان کا معرض وجود میں آجانا قائداعظم کے تدبروفراست ، معاملہ فہمی اور اسلامیان برصغیر کے ایمان و ایقاں اور تنظیم کا اعجاز تھا لہٰذا ہم قائداعظم کے بتائے ہوئے اصول، ایمان ، اتحاد اور تنظیم پر کار بند ہو کر پاکستان کو ایک مہتم بالشان اسلامی فلاحی مملکت بنا سکتے ہیں ۔ بشرطیکہ ہم میں وہی جوش و جذبہ جو تحریک پاکستان کے دوران مسلمانوں میں تھا، اپنے اندر بیدار کر لیں اور ایمان، اتحاد اور تنظیم کی وہی روایت زندہ کر لیں تو زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی اور ترفیع کا موثر اہتمام کر سکتے ہیں۔ چنانچہ پاکستان کو روشن خیال ، اسلامی ، فلاحی اور جمہوری مملکت بنانے اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے اسی عزم و ارادے اور جوش و جذبہ کی ضرورت ہے ۔ جس کا مربوط تحریک پاکستان کے دوران ہوا اور جس کے باعث ناممکن کو ممکن کر دکھایا ۔ پاکستان کی عظمت و سرفرازی اس میں ہے کہ اس باسیوں میں اسلامی اخوت کا سچا رشتہ ہو۔ وہ ایک دوسرے کیلئے پیار و محبت کا جذبہ رکھتے ہوں۔ اپنی مدد آپ اور باہمی تعاون کے جذبہ سے سرشار ہوں اپنی تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں اجتماعی فلاح کے اسباب پیدا کرنے کے لئے وقف کر دیں ۔ اگر ہم یقین ، اتحاد اور تنظیم کا دامن مضبوطی سے تھام لیں تو علم وفن اور ایجاد و خراح میں یکتا ہو سکتے ہیں۔ تعمیر اور پیداوار کے عمل کو جاری رکھنے نتیجہ خیز بنانے پر قادر ہو کر پاکستان کو ایک مضبوط اور خوش حال ملک بنا سکتے ہیں ۔ البتہ ترقی کی راہ پر ڈالنے کیلئے کٹھن اور منظم جدوجہد کی ضرورت ہے جس کے لازم ہے کہ ہم میں کامل یک جہتی ہو اور ہمارا دامن ہر نوع کے کیلئے تحریک امدادباہمی کا سہارا ناگزیر ہے۔ یہ پاکستان کی ترفیع اور ترقی کیلئے لازمے کا درجہ رکھتی ہے ، کیونکہ اسکی بنیاد ، مساوات ، اخوت جمہوریت اتحاد اور تنظیم پر استورا ہے ، لہٰذا تحریک کا دامن تھام کر ہم تعمیر وطن کے لئے جس ہنز اور مہارت کی ضرورت ہے اس سے بہرہ ور ہو سکتے ہیں تو پھر سوچ کس بات کی ہے ، آگے بڑھئے اور قائداعظم کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے تحریک کے پرچم تلے صف آرا ہو جائیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں