Atta-ul-Haq Qasmi

لاہور میں سہ روزہ ادبی میلہ

لاہور ایک طویل عرصے سے علم و ادب کا مرکز مانا جاتا ہے مگر گزشتہ کئی برسوں سے کوئی مختلف الجہات،نمایاں ادبی ،ثقافتی میلہ منعقد نہیں ہواتھا۔ اب صاحبان ذوق کے لئے ایک اچھی خبر ہے اور وہ یہ کہ شہر میں ’’عشق آباد‘‘ ویب سائٹ کے زیر اہتمام الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں سہ روزہ لٹریری فیسٹیول جشن جون ایلیا منعقد ہو رہا ہے جس کا افتتاحی اجلاس آج 26 مئی کو تین بجے سہ پہر منعقد ہو رہا ہے۔ مہمان خصوصی نگران وزیر اطلاعات عامر میر ہوں گے۔ صدارتی پینل میں ملک بھر کی نامور شخصیات شامل ہیں۔
جشن جون ایلیا میں ادب و ثقافت اور حالاتِ حاضرہ کے حوالے سے کئی سیشنز رکھےگئے ہیں اور یوں آنےوالے تین دنوں میں لاہور اور دوسرے شہروں کے صاحبان ذوق مختلف موضوعات پر اکابرین ادب و ثقافت و صحافت کے خیالات سے بہرہ ور ہوں گے۔ اس جشن میں اظہار خیال کرنے والوں کی فہرست توبہت طویل ہے، فی الحال آپ یہی جانیں کہ اس میں محفل موسیقی اورکُل پاکستان مشاعرہ بھی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ اکابرین کے ساتھ خصوصی نشستوں کے پروگرام بھی رکھے گئے ہیں، جن سے کچھ نام جو مجھے یاد آ رہے ہیں ان میں اصغر ندیم سید، انور مقصود، افتخار عارف، کشور ناہید، سہیل وڑائچ، حامد میر، حماد غزنوی، عارفہ سیدہ زہرا، کامران شاہد، ڈاکٹر علی عثمان قاسمی اور دیگر اہل علم شامل ہیں۔ یہ صرف چند نام ہیں جو مجھے یاد آ رہے ہیں ورنہ اس فہرست میں وہ سب لوگ شامل ہیںجنہیں لوگ سننا اور دیکھنا چاہتے ہیں۔ ماضی میں اس طرح کے جشن منانے میں چیئرمین الحمرا آرٹس کونسل اور کراچی آرٹس کونسل کے احمد شاہ سرفہرست رہے ہیں۔ فیصل آباد اور اسلام آباد میں بھی اس حوالے سے بہت عمدہ فیسٹیول منعقد ہوئے۔ مگر منتظمین بہت جلد تھک ہار کر پیچھے ہٹ گئے۔ البتہ احمد شاہ ثابت قدمی سے اس محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اب ممتاز شاعر عباس تابش پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اترے ہیں۔ وہ صرف شاعر ہی نہیں ادب و ثقافت کی مختلف جہتوں پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ ایک تجربہ کار ٹیم بھی ہے، انہوں نے نوجوان نسل کے مستعد کارکنوں کو بھی اپنے ساتھ ملایا ہے۔ اس کے علاوہ پوری دنیا میں ادبی تقریبات منعقد کرانے والوں سے ان کے دیرینہ تعلقات ہیں اور وہ ان تقریبات میں خودبھی شرکت کرتے رہے ہیں، چنانچہ مجھے یقین ہے کہ ان کا دیدنی تجربہ اور ان کا جوش و ولولہ اس سہ روزہ جشن جون ایلیا کو یاد گار بنانے میں ممد و معاون ثابت ہوگا۔
میرے نزدیک اس وقت پوری قوم شدید ذہنی کھنچائو کا شکار ہے ، ادب ایک ایسی چیز ہے جو ذہنی دبائو کو بھی کم کرتا ہےاور اظہار کے لئے مثبت راہوں کی نشاندہی کرتا ہے، چنانچہ ان دنوں اس نوع کی تقریبات کی خصوصاً بہت ضرورت تھی۔ لوگ آئیں گے، اپنی پریشانیوں کا مثبت حل تلاش کریں گے، دانشوروں سے مکالمہ کریں گے، کچھ ان کی سنیں گے، کچھ اپنی سنائیں گے اور یوں ایک نہ ختم ہونے والی اداسی میں ایک وقفہ آئے گا اور اس کا ماحصل بالآخر ایک دیرپا مثبت راہوں کی طرف لے جانے والا ہوگا۔ تاہم ایک فیسٹیول یہ تمام نتائج حاصل نہیں کرسکے گا بلکہ ہمیں اس طرح کی تقریبات کی متواتر اور مستقل ضرورت ہے تاکہ ہم منفی سوچوں سے نجات حاصل کرسکیں۔ اگر ہمارے ملک میں ادب و ثقافت کے فروغ کا کوئی ادارہ ٹھوس بنیادوں پر کام کر رہا ہے تو پھر اسے اپنے منشور پر پہلے سے زیادہ تندہی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ میں حکومت سےگزارش کروں گا کہ ایسے کسی ادارے کے علاوہ پاکستان میں جو چھوٹے چھوٹے ادبی حلقے بھی اپنے اپنے دائرے میں کام کر رہے ہیں، حکومت ان کی بھی سرپرستی کرے۔ یہ کام اگر پوری سنجیدگی کے ساتھ کیا جاتا ہے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستانی قوم کی راہوں میں کانٹے بچھانے والے ناکام ہوں گے اور بہاریں ہمارا استقبال کر رہی ہوں گی۔
چلیں اب ہم گفتگو کا یہ سلسلہ ختم کرتے ہیں اور ان رستوں کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں جہاں مایوسی کی باتیں نہیں ہوں گی اور اگر بظاہر کوئی مایوسی کی بات ہوگی بھی تو اس کی تہہ میں سے امید ہمیں جھانک رہی ہوگی۔ اب دانش، موسیقی اور شعر و ادب کی سہ روزہ محفلیں آپ کا انتظار کر رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں