Mazhar Barlas journalist

مشکل ترین حالات کی تصویر

پاکستان جن اندرونی اور بیرونی مشکلات سے دوچار ہے ان کی تصویر بڑی بھیانک ہے۔اس دوران ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ٹی ٹی پی پر بعد میں بات کروں گا پہلے ابرار ندیم کی طرف سے بیان کردہ ایک سچائی پر بات کرلی جائے۔اس سے معاشرے کا وہ عکس سامنے آئے گا جو لوگوں کی زندگیوں پر بیت رہا ہے ۔اس سے آپ کو اندازہ ہوسکے گا کہ معاشرے کا سفید پوش طبقہ کس قدر پریشان کن حالات سے گزر رہا ہے۔ابرار ندیم پنجابی کے خوبصورت شاعر ہیں اور مجھے اس لئے بھی پیارے ہیں کہ وہ میری دھرتی کی منفرد آواز ہیں۔ ابرار ندیم جیسے میٹھے آدمی کے کہنے پر تو ویسے ہی لکھ دینا چاہئے مگر اب تو انہوں نے نعرہ مستانہ بلند کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ ’’ریڈیو پاکستان
کیا آواز کی دنیا کے درخشندہ ستاروں
کےلئے ابھرے گی کوئی توانا آواز،
ریڈیو پاکستان کے سابق کنٹرولر ہوم سرفراز خان کی وال سے یہ تحریر نقل کررہا ہوں کہ
’’ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز‘‘
میری طرح بہت سارے لوگوں نے اپنی خواہش اور خوشی سے ریڈیو پاکستان کو ملازمت کیلئے اپنایا تھا۔ یہ آج سے 34 سال پہلے کی بات ہے، بے روزگاری کا عفریت اس طرح سے منہ کھولے نہیں کھڑا تھا۔میری طرح بہت سے ساتھی دوسری کسی نوکری کی آفر چھوڑ کر اس عظیم ادارے سے وابستہ ہوئے تھے اور آج یہ لوگ جب اپنی جوانی اور صلاحیتیں پوری ایمانداری کے ساتھ اس ادارے کو دے کر ریٹائر ہوئے ہیں تو ان کو 4 سال سے نہ تو کیمیوٹیشن دی جا رہی ہے اور ظلم یہ کہ گزشتہ 2 ماہ سے یہ سفید پوش طبقہ پنشن سے بھی محروم ہے ، ارباب اختیار الیکشن کے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ لوگوں کو آٹا لینے کی لائنوں میں لگا دیا گیا ہے۔ میں کوشش کرتا رہتا ہوں کہ نہ صرف سیاسی بلکہ کسی بھی قسم کی اختلافی پوسٹ سے احتراز کروں مگر آج اپنے ایک سینئر ریٹائرڈ ساتھی کے میسج نے یوں سمجھیں کہ رلا دیا ، اہل دل کیلئے یہ میسج پوسٹ کر رہا ہوں۔ ماں جیسی ریاست کے وارث اور مقتدر لوگ شاید کچھ ترس کھائیں،وہ کہتےہیں کہ ہائر اتھارٹیز کو بتا دینا کہ ہم نے اپنے زیورات(جو اپنی بچیوں کی رخصتی کیلئے بنا رکھے تھے) بیچ دیئے ہیں ،بچوں کی دومہینے کی فیس اور گھر کا دو مہینے کا کرایہ ادا کر دیا ہے تا کہ ہم سفید پوش لوگ اپنی عزت بچا سکیں ، بس ہمیں یہ بتا دیں کہ عید سر پر ہے ، بچے انتظار کر رہے ہیں ہمارے نئے کپڑے بنیں گے؟ بچیاں کہہ رہی ہیں ہماری چوڑیاں اور مہندی لے کر آئیں…..بس یہ بتا دیں کہ ہم اپنے بچوں سے اور کتنا جھوٹ بولیں…..ان کو اور کیا دلاسہ دیں…..؟“
یہ ان لوگوں کے حالات ہیں جنہوں نے طویل عرصے تک ایک قومی ادارے میں خدمات انجام دیں،اگر خدمات کا یہی صلہ ہے تو پھر بہت سے انوکھے سوالات جنم لیتے ہیں کیا ہمارے ارباب بست و کشاد میں اتنا حوصلہ بھی نہیں کہ وہ لوگوں کے درد کو محسوس کرسکیں ،یاد رکھئے یہ درد کچھ ہفتوں میں سسکیوں میں بدل جائے گا اور پھر سسکیاں آہوں میں تبدیل ہو جائیں گی،یہ بھی یاد رکھئے کہ آہوں سے نفرت جنم لیتی ہے اور اگر اس نفرت میں بھوک شامل ہوجائے تو پھر کھیت کا ہر خوشہ گندم جلا دیا جاتا ہے،راکھ کے ڈھیر پیٹ کی آگ کو نہیں بجھاتے،جلے ہوئے کھیتوں کا رخ تو پرندے بھی نہیں کرتے،پتہ نہیں اس ملک سے دشمنی کون کررہا ہے ، وطن عزیز کی پارلیمان میں بیٹھے ہوئے چند خاندانوں کے نکمے چراغ پورے ملک کے چراغوں کو گل کرنے پر تلے ہوئے ہیں،ہاں انہیں اقتدار چاہئے ، ان کیلئے تیار ہونے والے کھانوں کیلئے خواہ لوگوں کی ہڈیوں کا ایندھن ہی کیوں نہ جلانا پڑے،بادشاہوں کے کیاکہنے ہیں، زہر کھانے کو پیسے نہیں مگر بیرونی دوروں پر کروڑوں خرچ ہوجاتے ہیں ،دوعملی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے،مجھے تو ان لوگوں پر بھی حیرت ہے جو ظلم کے حق میں بہت بولتے ہیں،جن کے قلموں کی روشنائیاں کسی اور سمت کی گواہی دے رہی ہیں،افسوس صد افسوس ایسے تمام لوگوں پر جو مظلوموں کے حق میں کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں،جن کی زندگیاں ظالموں کی شانیں بیان کرتے گزر گئیں کہ
’’اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں‘‘
اگر اطلاعات کی وفاقی وزیر کو اپنے پارٹی رہنماؤں کے انٹرویوز کروانے سے کچھ فرصت ہو تو وہ ریڈیو پاکستان میں طولانی خدمات انجام دینے والے وطن پرست خدمت گاروں کی خبر لیں لیکن یہ کام کون کرے گا اقتدار کے جاہ و جلال کے رستے میں ہوس کی کئی رکاوٹیں ہوتی ہیں ،زاہد فخری یاد آگئے کہ
برباد ہیں سارے کوئی آباد نہیں ہے
کوئی بھی تو اس دور میں دلشاد نہیں ہے
قاتل کو بھی ڈر سے کوئی قاتل نہیں کہتا
پر کاٹنے والا بھی تو صیاد نہیں ہے
اک طول حکومت کیلئے تخت نشیں نے
سر کتنے اتارے ہیں اسے یاد نہیں ہے
وہ جس کے دروبام فلک بوس ہیں فخری
اس قصر کے نیچے کوئی بنیاد نہیں ہے
جس ملک میں حالات اس قدر مخدوش ہوں،جہاں غربت کے ڈیرے ہوں،دھوپ کے تھپیڑوں میں آٹے کا شور ہو اور شب کے آنگن میں سسکیوں اور آہوں کی روانی ہو،جہاں نفرت کے سائے ہوں،بھوک دندناتی ہو،بے روزگاری عام ہو،لسانی اور صوبائی تعصب کے ساتھ فرقہ واریت کی آگ ہو تو پھر وہاں دشمن وار کرتا ہے،کچھ ایسا ہی معاملہ ٹی ٹی پی کا ہے اسی لئے تحریک طالبان پاکستان نامی تنظیم ہمارے پیارے وطن کیلئے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے یہ نام نہاد تنظیم حالات کی چنگاری سے مستفید ہونے کیلئے تیار ہے ، لوگوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ٹی ٹی پی جس اسلامی معاشرے کا تصور پیش کرتی پھر رہی ہے اس کا حقیقی اسلامی معاشرے سے کوئی تعلق ہی نہیں، بس یوں سمجھ لیجئے کہ اس طرح کی تنظیمیں معاشرے میں غیر قانونی اور غیر اسلامی روایات کورواج دینے کی کوشش کرتی ہیں ، ان کے پس پردہ مقاصد کچھ اور ہی ہوتے ہیں اسی لئے پاکستان کے سیکورٹی ادارے ہر وقت ایسی تنظیموں سے نمٹنے کیلئے تیار رہتے ہیں اور اسی لئے پورے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ٹی ٹی پی اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوگی،ویسے بھی پاکستان میں لوگوں کی اکثریت جمہوریت کی خواہاں ہے پاکستانی لوگ قانون کی حکمرانی کے خواہشمند ہیں ،پاکستانی کسی بھی طرح کی لاقانونیت کے سامنے ڈٹ جائیں گے بقول زاہد فخری
جو اس کے پار ہے منظر دکھا کے چھوڑوں گا
میں درمیان کا پردہ ہٹا کے چھوڑوں گا
جو کاغذوں پہ مری موت روز لکھتا ہے
میں اس کی سرخ لکیریں مٹا کے چھوڑوں گا

اپنا تبصرہ بھیجیں