ارشد اسدی الحسینی

عظمت اہل بیتؑ کی ایک زندہ سند

سورۃ آل عمران ۔ 61
فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللہِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ۞
🍁ترجمہ🍁
(اے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اس معاملہ میں تمہارے پاس صحیح علم آجانے کے بعد جو آپ سے حجت بازی کرے تو آپ ان سے کہیں کہ آؤ ہم اپنے اپنے بیٹوں، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر مباہلہ کریں (بارگاہِ خدا میں دعا و التجا کریں) اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔ (یعنی ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوں کو، ہم اپنی عورتوں کو بلائیں تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنے نفسوں کو بلائیں تم اپنے نفسوں کو پھر اللہ کے سامنے گڑگڑائیں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں)۔ ۔
🌻تفسیر🌻
شیعہ اور سنی مفسرین اور محدثین نے تصریح کی ہے کہ اٰیہٴ مباہلہ ٴ “اہل بیتِ رسولؑ” کی شان میں نازل ہوئی ہے اور رسول (صلی الله علیه و آله وسلم) جن افراد کو اپنے ہمراہ وعدہ گاہ کی طرف لے گئے تھے وہ صرف ان کے بیٹے امام حسن(علیه السلام) اور امام حسین (علیه السلام)، ان کی بیٹی فاطمہ زہرا (علیه السلام) اور حضرت علی علیہ السلام تھے ، اس بناء پر آیت میں ” ابنائنا “ سے مراد صرف امام حسن (علیه السلام) اور حسین (علیه السلام) ہیں ۔ ” نسائنا “ سے مراد جناب فاطمہ (علیه السلام ) ہیں اور ” انفسنا “ سےمراد صرف حضرت علی علیہ السلام ہیں ۔ اس سلسلے میں بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں ۔ اہلسنت کے بعض مفسرین جو بہت کم تعداد میں ہیں اس سلسلے میں وارد ہونے والی احادیث کا انکار کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مثلاً موٴلفِ ”المنار“ نے اس آیت کے ذیل میں کہا ہے :۔
یہ تمام روایات شیعہ طریقوں سے مروی ہیں ۔ اس کا مقصد معین ہے ۔ انہوں نے ان احادیث کی نشر و اشاعت اور ترویج کی کوشش کی ہے ، جس سے بہت سے علماء اہل سنت کو بھی اشتباہ ہو گیا ہے ۔ لیکن اہل سنت کی بنیادی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے تو وہ نشاندہی کرتی ہیں کہ ان میں سے بہت سے طریقوں کا شیعوں یا ان کی کتابوں سے ہر گز کوئی تعلق نہیں اور اگر اہل سنت کے طریقوں سے مروی اِن احادیث کا انکار کیا جائے تو ان کی باقی احادیث اور کتب بھی درجہٴ اعتبار سے گر جائیں گی ۔ اس حقیقت کو زیادہ واضح کرنے کے لئے اہل سنت کے طریقوں سے کچھ روایات ہم یہاں پیش کریں گے ۔
📚 قاضی نو ر اللہ شوستری اپنی کتاب ِ نفیس ” احقاق الحق “ کی جلد سوم طبع جدید صفحہ ۴۶ پر لکھتے ہیں : ”مفسرین اس مسئلے میں متفق ہیں کہ ”ابنائنا“ سے اس آیت میں امام حسن (علیه السلام) اور امام حسین (علیه السلام) مراد ہیں ، ”نسائنا“ سے ”حضرت فاطمہ (علیه السلام) مراد ہیں اور ’’انفسنا“ میں حضرت علی (علیه السلام) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے “۔اس کے بعد کتاب مذکور کے حاشیہ پر تقریباً ساٹھ بزرگانِ اہل سنت کی فہرست دی گئی ہے جنہوں نے تصریح کی ہے کہ آیت مباہلہ اہل بیت ِ رسولؐ کی شان میں نازل ہوئی ہے ۔ ان کے نام اور ان کی کتب کی خصوصیات صفحہ ۴۶ سے لے کر صفحہ ۷۶ تک تفصیل سے بیان کی گئی ہے ان شخصیتوں میں سے یہ زیادہ مشہور ہیں ۔
📚۱۔ مسلم بن حجاج نیشاپوری ۔ موٴلف صحیح مسلم جو نامور شخصیت ہیں اور ان کی حدیث کی کتاب اہل سنت کی چھ قابل اعتماد صحاح میں سے ہے ملاحظہ ہو مسلم ، ج۷، ص ۱۲۰۔ طبع مصر زیر اہتمام محمد علی صبیح۔
📚۲۔ احمد بن حنبل نے اپنی ” مسند“ میں لکھا ہے ملاحظہ ہو جلد۱، صفحہ ۱۸۵ طبع مصر ۔
📚۳۔ طبری نے اپنی مشہور تفسیر میں اسی آیت کے ضمن میں لکھا ہے دیکھئے جلد ۳، ص ۱۹۲، طبع میمنیہ۔ مصر۔
📚۴۔ حاکم نے اپنی” مستدرک “ میں لکھا ہے ، دیکھئے جلد ۳ ، ص ۱۵مطبوعہ حیدر آباد دکن ۔
📚۵۔ حافظ ابو نعیم اصفہانی ،کتاب ”دلائل النبوة“ ص ۲۹۷، مطبوعہ حیدر آباد دکن ۔
📚۶۔ واحدی نیشاپوری ، کتاب ”اسباب النزول “ ،ص ۷۴،طبع ہندیہ ۔
📚۷۔ فخر رازی ، نے اپنی مشہور تفسیر کبیر میں لکھا ہے ، دیکھئے جلد ۸ ، ص ۸۵، طبع بہیہ ، مصر۔
📚۸۔ ابن ایثر ، ” جامع الاصول “ ، جلد ۹، ص ۴۷۰ ، طبع سنة المحدیہ ، مصر۔
📚۹۔ ابن جوزی ، ”تذکرة الخواص“ ، صفحہ ۱۷، طبع نجف ۔
📚۱۰۔ قاضی بیضاوی ، نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے ، ملاحظہ کریں جلد۲ ، ص ۲۲ طبع مصطفیٰ محمد ، مصر ۔
📚۱۱۔ آلوسی نے تفسیر ” روح المعانی “ میں لکھا ہے دیکھئے جلد سوم، ص۱۶۷، مطبوعہ منیر یہ ۔ مصر۔
📚۱۲۔ معروف مفسر طنطاوی نے اپنی تفسیر ” الجواہر “ میں لکھا ہے، جلد ۲، ص۱۲۰۔ مطبوعہ مصطفیٰ البابی الحلبی، مصر۔
📚۱۳۔ زمخشری نے تفسیر ” کشاف“ میں لکھا ہے ، دیکھئے جلد۱ ، ص ۱۹۳، مطبوعہ مصطفیٰ محمد ، مصر۔
📚۱۴۔ حافظ احمد ابن حجر عسقلانی “، الاصابة“، جلد ۲ ، ص ۵۰۳، مطبوعہ مصطفی محمد ، مصر۔
📚۱۵۔ ابن صباغ ، “فصول المہمّہ”، ص۱۰۸، مطبوعہ نجف ۔
📚۱۶۔ علامہ قر طبی ، “الجامع الاحکام القرآن” ،جلد ۳، ص ۱۰۴، مطبعہ مصر ۱۹۳۶۔
” غایة المرام “ میں ” صحیح مسلم “ کے حوالے سے لکھا ہے :۔
ایک روز امیر شام نے سعد بن ابی اقاص سے کہا : تم ابو تراب،( علی (علیه السلام)) کو سب و شتم کیوں نہیں کرتے ۔ وہ کہنے لگا ۔
جب سے علی (علیه السلام) کے بارے میں پیغمبر کی کہی ہوئی تین باتیں مجھے یاد آئی ہیں ، میں نے اس کام سے صرف نظر کر لیا ہے ۔ ان میں سے ایک یہ تھی کہ جب آیت مباہلہ نازل ہوئی تو پیغمبر نے صرف فاطمہ (علیه السلام) حسن (علیه السلام) اور حسین(علیه السلام) اور علی (علیه السلام) کو دعوت دی ۔ اس کے بعد فرمایا” اللھم ھٰولاء اہلی“ (یعنی — خدایا ! یہ میرے نزدیکی اور خواص ہیں ) ۔
📚تفسیر کشاف کے موٴلف اہل سنت کے بزرگوں میں سے ہیں ۔ وہ اس آیت کے ذیل میں کہتے ہیں ۔
” یہ آیت اہل کساء کی فضیلت کو ثابت کرنے کے لئے قوی ترین دلیل ہے “۔
شیعہ مفسرین ، محدثین اور موٴرخین بھی سب کے سب اس آیت کے ”اہل بیت “کی شان میں نازل ہونے پر متفق ہیں چنانچہ
📚”نور الثقلین“ میں اس سلسلے میں بہت سے روایات نقل کی گئی ہیں ۔ ان میں سے ایک 📚کتاب ”عیون اخبار الرضا “ ہے ، اس میں ایک مجلسِ مناظرہ کا حال بیان کیا گیا ہے ۔ جو مامون نے اپنے دربار میں منعقد کی تھی ۔ اس میں ہے کہ امام علی(علیه السلام) بن موسیٰ رضا (علیه السلام) نے فرمایا :۔
خدا نے اپنے پاک بندوں کو آیت مباہلہ میں مشخص کردیا ہے اور اپنے پیغمبر کو حکم دیا ہے : ”فمن حاجّک فیہ من بعد ماجاء ک من العلم فقل “
اس آیت کے نزول کے بعد پیغمبرؐ علی (علیه السلام) ، فاطمہ (علیه السلام)، حسن (علیه السلام) اور حسین (علیه السلام) کو اپنے ساتھ مباہلہ کے لئے لے گئے اور یہ ایسی خصوصیت اور اعزاز ہے کہ جس میں کوئی شخص اہل بیت (علیه السلام) پر سبقت حاصل نہیں کر سکا اور یہ ایسی منزلت ہے جہاں تک کوئی شخص بھی نہیں پہنچ سکا اور یہ ایسا شرف ہے جو اس سے پہلے کو ئی حاصل نہیں کرسکا ۔(۱)
📚تفسیر ”برہان “، ” 📚بحار الانوار“ اور 📚تفسیر ” عیاشی “ میں بھی اس مضمون کی بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں جو تمام اس امر کی حکایت کرتی ہیں کہ مندرجہ بالا آیت ” اہل بیت ؑ“ کے حق میں نازل ہوئی ہے ۔
📚۱۔ نور الثقلین جلد ۱، صفحہ ۳۴۱ ،
📚 “برھان” جلد ۱، صفحہ ۲۹۰ ،
📚تفسیر “عیاشی” جلد ۱، صفحہ ۱۷۷ ،
📚”بحار” طبع جدید جلد ۲۰ صفحہ ۵۲ اور جلد ۱۶، صفحہ ۶۵۲۔
————————
التماس دعا

اپنا تبصرہ بھیجیں