نعیم مسعود

آزمائش کی تپتی دھرتی, ننگےپاؤں اور دائروں کا سفر

جب ہم کہتے تھے، ائرکنڈیشنڈ گاڑی میں فل میک اپ کے ساتھ دھرنے میں شرکت اور “فیملی انجوائے منٹ” کے ڈھکوسلے انقلاب کا پیش خیمہ نہیں ہو سکتے، پھر سوشل میڈیا اور ٹی وی اسکرین کب تک بھرم رکھیں گے؟ مقتدر بھی ایک دن تنگ پڑ جائیں گے تو کیا ہو گا؟ جواباً اپنوں اور بیگانوں نے گالیاں دیں!

جب ہم نے پوچھا کہ شاہ محمود قریشی ، فردوس عاشق اعوان، فواد چوہدری، قاسم سوری، شہریار آفریدی اور امین گنڈا پور یا پرویز خٹک اور سرور خان پہلے کہاں کہاں انقلاب لائے؟ پھر لوگوں نے کہا سردار تنویر الیاس بڑا انقلابی ہے۔ لوگوں نے ہندسوں کے گورکھ دھندے والے اسد عمر کو بھی انقلابی گردانا، ہم نے کہا تھوڑی تاریخ پڑھ لو ____تو پھر اپنوں اور بےگانوں نے گالیاں دیں!

جب ہم نے کہا صرف اپریل 2022 کے بعد کا فرق نہ دیکھو ، 2018 سے پہلے اور اور 2018 تا 2022 تک فرق بھی جانو، اس پر بھی اپنوں اور بےگانوں کا اپنے آپ پر غصہ اترتے دیکھا!

جب عرض کیا سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کہہ رہا ہے آئی ایم ایف ریلیف نہ دے، کےپی سے تیمور جھگڑا حق میں تھے اور پنجاب سے محسن لغاری ششدر ، تو ہم نے کہا کچھ غور کرو___پھر گالیاں اپنوں کی بھی بےگانوں کی بھی!

جب ہم نے کہا وی سی اصغر زیدی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیراعظم کے جلسے رکھ رہا ہے محض چئرمین ایچ ای سی بنائے جانے کے وعدے پر اور قبلہ ثاقب نثار چیف جسٹس ریٹائرمنٹ کے بعد بھی عمران خان کا بڑا اسپورٹر ہے اس لئے کہ اسے صدر بنانے کیلئے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا ہے۔ سنتے ہی ہم سے پھر اپنے اور بےگانے خفا ہوئے!

جب جب ہم کہتے خان کو مقبول لیڈر ہم بھی مانتے ہیں اسے کہئے زرداری صاحب کو بندوق کی شست پر رکھنے کا کہنے، شریف خاندان کو ڈاکو چور کہنے کے بجائے اپنی کارکردگی کا کہے ، پھر ہم ہوئے اور لوگوں کی صلواتیں!

جب یہ کہا سمندر پار والوں کو نہ ورغلائیں ، ان کی اپنی ڈیسینسی کو پناہ بخشنے والے مہذب معاشروں میں تار تار نہ کرائیں ، نتیجہً برے ہمی ٹھہرے اور گالیاں کھا کر بے مزہ نہ ہوئے!

جب ہم کہتے تھے عمران خان اسٹیبلشمنٹ کو سنگ جوڑنے کیلیے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نقارہ بجائے ہوئے ہیں ، محض یہ فرما رہے ہیں مقتدر شہبازشریف کو گود سے اتارے اور مجھے اٹھائے ، ہمارے اس کہنے پر اپنے خفا تھے اور بےگانے بھی ناخوش!

جب ہم کہتے تھے کاکول اکیڈمی سے ٹی وی اسکرین تک اور فیس بک سے فیک بک تک عمران خان کو آخری امید ثابت کرنے والے عشرے کے درمیان ہی میں امید بدل لیتے ہیں اور ہم سب زبانی کلامی امید سے ہو جاتے اس تاریخ کے اوراق پر کندہ چالیں دیکھو تو لوگ کہتے ، تم یہ ، تم وہ ! اور جواب ملتا نواز شریف کو بھی تو وہی لائے۔ ہم جب کہتے مماثلت تو خود ہی بتا رہے پھر فرشتہ اسے کیوں بنا رہے ہو ؟ جواباً پھر وہی ہرزہ سرائی!

ہم نے جب کہا مسجد نبوی کے صحن اور جمالِ گنبدِ خضرا تک میں سیاست سے تم دامن گیر رہے، اس شور و غل اور بازگشت کا حساب بھی ہو سکتا ہے ، تو وہ ہمیں سچ کی تلقین کا سبق پڑھاتے رہے جن کا لیڈر ازخود تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹا خود تاریخ نے ثابت کیا تاہم اس کے جواب میں ننگی گالیاں بول اور لکھ کر ہمیں انعام ہوئیں! اور آج ہر نیلسن منڈیلا ایک مختصر پریس کانفرنس کے این آر او کی فضا میں ڈیڑھ ہفتے ہی میں اڑان بھر رہا ہے، گالیاں پھر بھی قید نہیں!

ہم کہتے تھے جب کہ آنے والے ڈیپوٹیشنر کو جو وکٹیں گرانے کی اصطلاح سے دل کو باغ باغ کیا جارہا ہے اس ابتدائیے کا جب اختتامیہ آیا تو جانے والو کی جانیاں دیکھ کر انہیں پھر لوٹا گردانا جائے گا، ایک شور جو اٹھایا جائے وہ فقط دل ہی جلایا جائے گا ، اور ہاتھ کچھ نہ آئے گا ! اس پر جو تحسین ملی وہ بھی گالیوں کے سوا کچھ نہ تھا ، ہم دیکھتے رہ جاتے کہ گالی دینے والوں میں اپنے زیادہ تھے اور بےگانے کم، دوست یہاں کم تھے اور بھائی بہت_ہائے برادران یوسف!
سب خیر ہے، سب مایا ہے، اور سب سیاست__
آخر کوئی تو وجہ ہوگی، تخلیق کرنے، پالنے پوسنے والا، پروان چڑھانے اور اقتدار تھمانے والا بھی تنگ آگیا ، ان گالیوں سے، ان بےتکی تالیوں سے ، اور ان عجیب و غریب اختر شماریوں سے!

مگر وہ جو غریب کے بچے بھگت رہے ہیں اس میں عمران خان کے بچے تو شامل نہیں ہیں، اس کے تو سب بچے جائز ٹھہرے جبکہ ہم اور ہمارے بچے ان نفرتوں میں سوتیلے ٹھہرے یا آزمائش کی تپتی دھرتی پر ننگے پاؤں سے دائروں کے سفر میں ہیں!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں