Atta-ul-Haq Qasmi

ایک غیر ملکی سیاح کا ’’سفرنامہ ‘‘(مسلسل)

اسلام کی تلخیص
پاکستان میں ماضی کی ایک بہت مشہور فلم ’’سرفروش‘‘ کا یہ ڈائیلاگ بہت مقبول ہوا ’’چوری میرا پیشہ اور نماز میرا فرض ہے ‘‘ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ یہ صرف ایک فلمی ڈائیلاگ نہیں بلکہ یہ اس ’’اسلام‘‘ کی تلخیص ہے جو پورے عالم اسلام میں گزشتہ چند صدیوں سے رائج ہے ۔
سنکی لوگ
پاکستان آنے سے پہلے میں نے پاکستان کےبارے میں جو کچھ پڑھا اس کے مطابق یہ ایک اسلامی جمہوریہ ہے چنانچہ میں نے ہر پاسپورٹ پر ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ لکھا ہوا بھی دیکھا مگر یہاں ایک مذہبی پیشوا سے ملاقات ہوئی تو اس نے کہا ’’یہ ملک اسلامی نہیں ہے ‘‘ ایک سیاست دان نے دوران ملاقات کہا’’یہ ملک جمہوریہ نہیں ہے‘‘ اور فٹ پاتھ پر بیٹھے ایک شخص نے تلخ لہجے میں کہا ’’یہ تو وہ پاکستان ہی نہیں ہے جس کا ہم نے خواب دیکھاتھا ‘‘اس طرح کے سنکی لوگ پاکستان میں کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔
تیز رفتار ترقی
قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں میں بھی مجھے پاکستان جانے کا اتفاق ہوا تھا اس وقت یہ ملک بہت پسماندہ ہوتا تھا لڑائی جھگڑے کے دوران لوگ گراری والا چاقو استعمال کرتے تھے جس کا لیور دبانے پر کڑکڑ کی آواز کے ساتھ چاقو کھل جاتا تھا اور بسا اوقات مدمقابل اس کی آواز سن کر ہی بھاگ جاتا تھا مگر اب تو لوگ جدید ترین اسلحہ استعمال کرتے ہیں میں نے بہت کم ملکوں کو اتنے کم وقت میں اتنی ترقی کرتے دیکھا ہے ۔
اللہ خیر کرے !
پاکستانی قوم عمومی طور پر بہت محب وطن ہے تاہم بہت سے لوگ خصوصاً دانشور طبقہ مجھے حب الوطنی سے عاری لگتا ہے مثلا جب میں پاکستان میں تھا اور ایک روز ایک ریستوران میں بیٹھا کھانا کھا رہا تھا کہ ٹی وی پر اچانک قومی نغمے چلنا شروع ہوگئے جس پر میرے پہلو میں بیٹھا ایک دانشور قسم کا شخص پریشان ہو گیا ۔اس کے بعد قومی ترانہ سنائی دیا اور پھر خاکی وردی میں ملبوس ایک شخص ٹی وی پر آیا اس نے کہا ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ اس پر دانشور قسم کے شخص کے منہ سے بے ساختہ ’’اللہ خیر کرے ‘‘ کے الفاظ نکلے حالانکہ ایک محب وطن کے طور پر اسے قومی نغمے اور قومی ترانہ سن کر خوش ہونا چاہئے تھا ۔
ایک وکھری ٹائپ کا محب وطن
پاکستان میں میری ملاقات ایک خاص قسم کے محب وطن سے بھی ہوئی میں نے اسے اس ضمن میں بلند بانگ دعوے کرتے دیکھا تو پوچھا اگر تمہارے پاس دو فیکٹریاں ہوں تو کیا تم یہ قوم کے نام وقف کر دوگے وہ بولا بے شک کروں گا میں نے کہا اگر تمہارے پاس دو کوٹھیاں اور دو کاریں ہوں تو ’’کہنے لگا‘‘ ایک کوٹھی اور ایک کار قوم کے نام وقف کر دونگا، میں نے پوچھا اگر تمہارے پاس دو بھینسیںہوں تو کیا کرو گے بولا دونوں بھینسیں اپنے پاس رکھوں گا میں نے سوال کیا وہ کیوں ؟اس نے کہا اس لئے کہ میرے پاس دو بھینسیں موجود ہیں۔ پاکستان میں حب الوطنی کی یہ قسم بہت عام ہے۔
شرارتی سامعین
ایک مشاعرے میں ایک صاحب اپنا کلام سنانے آئے ان کا نام حیات تھاجب انہوں نے پہلا شعر پڑھا تو سامعین نے داد دیتے ہوئے کہا ’’واہ حیات واہ‘‘ مگر وہ شاعر صاحب تیسرے چوتھے شعر پر ہی ناراض ہو کر مشاعرے سے واک آئوٹ کرگئے۔ میں نے اپنے دوست سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ لوگ دراصل واہ حیات کے پردے میں شاعر کو ’’واہیات‘‘ کہہ رہے تھے مجھے بہت ہنسی آئی کیونکہ ہمارے ہاں انگریزی میں لفظ واہیات تقریباً ABNOXOIUSکا ہم معنی ہے۔
بکر منڈی
بکر منڈی اس مارکیٹ کو کہتے ہیں جہاں بکرے فروخت ہوتے ہیں ۔ میں ایک دفعہ اپنے ایک دوست کے ساتھ وہاںگیا تھا اس نے کوئی بکرا خریدنا تھا۔ بیچارے بکروں کے مالک تو دبک کر پرے کھڑے تھے جبکہ خود ساختہ دلالوں نے ہمارے گرد گھیرا ڈال لیا یہ دلال صبح سے شام تک یہیں رہتے ہیں۔ ان کی شکلیں اور آوازیں بھی بکروں جیسی ہوگئی ہیں بعض دفعہ تو اتنا مغالطہ ہوتا ہے کہ گاہک کسی دلال کو بکرا سمجھ کر اس کے دانت چیک کرنے لگتا ہے۔
مستعد پولیس
میں جن دنوں پاکستان گیا وہاں دہشت گردی زوروں پر تھی مگر خوش آئند بات یہ تھی کہ پولیس پوری طرح چوکس نظر آئی۔ البتہ ان کا مجرموں کی تلاش کاانداز بہت انوکھا تھا۔ وہ مشکوک افراد کا صرف منہ سونگھتے تھے یا ڈگی کی تلاشی کے دوران اگر انہیں کوئی بوتل وغیرہ نظر آتی تو اسے قبضے میں لے کر تھانے اور بوتل گھر لے جاتے تھے۔ اسی طرح اگر کسی گاڑی یا رکشے میں عورت اور مرد سوار ہوتے تو ان سے نکاح نامہ طلب کرتے تھے۔ پولیس کی اتنی مستعدی کے باوجود دہشت گرد ملک بھر میں دندناتے رہے اور اللہ جانے اس کی کیا وجہ تھی۔
جنگی سازو سامان
پاکستان کے بارے میں میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ اس کے پاس جنگی سازو سامان اس قدر وافر تعداد میں ہے کہ شاید کسی مغربی ملک کے پاس بھی نہ ہو۔ دراصل مجھے ایک لاہوریئے نے بتایا تھا کہ پاکستان کے پاس لاکھوں کی تعداد میں جہاز ہیں جن میںسے دس بارہ لاکھ جہاز تو صرف لاہور میں موجود ہیں وہ تو مجھے بعد میں پتہ چلا کہ یہاں جہاز ہیروئن کے عادی افراد کو کہا جاتا ہے کیونکہ جب انہوں نے بیٹھنا ہوتا ہے تو وہ بالکل جہاز کی طرح تھوڑا تھوڑا نیچے آتے ہیں اور بالآخر کامیاب لینڈنگ کرتے ہیں۔
خداداد صلاحیت
پاکستان نے میڈیکل سائنس میں بہت ترقی کی ہےچنانچہ یہاں ایڈز، کینسر، کڈنی فیلیر، شوگر، بلڈپریشر اور ان دیگر تمام امراض کا تشفی بخش اور مستقل بنیادوں پر علاج کا دعویٰ کیا جاتا ہے جن کا علاج مغرب کے پاس بھی نہیں ہے۔ ان امراض کے پاکستانی معالجوں کے پاس کسی میڈیکل کالج کی کوئی ڈگر ی نہیں ہے۔ اہل مغرب اس خداداد صلاحیت سے محروم ہیں اس میں وہاں کی حکومتوں کا بھی قصور ہے جو ایسی خداداد صلاحیت رکھنے والوں کو جیل بھجوا دیتی ہیں۔
لوٹے
ہم اہل مغرب لوٹے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے کیونکہ یہ ہمارے ہاں نہیں ہوتا جبکہ پاکستان میں یہ برتن انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس کےبغیر کوئی ٹوائلٹ اور پارلیمنٹ مکمل نہیں سمجھے جاتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں