Doctor Ijaz ahmed

مردہ گھوڑا

یہ اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ۔ جب کوئی ادارہ یا فرد اپنی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ مطلب وہ اپناکام پوری تن دہی سے ادا کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ جتنے مرضی مردہ گھوڑے پر چابک مارے جائیں۔وہ ٹس سے مس نہیں ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بہت سےادارے ایسے ہیں جو مردہ گھوڑے کی تعریف پرپورااترتے ہیں۔ آج جس ادارے کی بات کرنے جا رہا ہوں وہ ڈیری کے حوالے سے ہے۔
ہمارے ملک میں آبادی کے لحاظ سے دودھ کی پیداوار کم ہے۔ ویسے تو ہم دنیا میں شاید چوتھے یاپانچویں نمبر پر ہیں دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے ۔ ہمارے ہاں دودھ کے جانوروں کی کمی نہیں ہے۔اور نہ ہی ڈیری فارمرز کی۔لیکن ہم اپنے جانوروں سے دودھ اس شرح سے حاصل نہیں کر پا رہےجیسے دوسرے ممالک کے لوگ اپنے جانوروں سے حاصل کرتے ہیں۔دودھ کی پیداوار کم ہونے سے ڈبہبند دودھ خشک دودھ بیچنے والوں کی چاندی ہو رہی ہے۔ بالائے ستم دودھ کے نام پر ہم اپنے بچوں کوکیمیکل زہر پلا رہے ہیں۔
آج سے تقریبا ایک صدی قبل ہندوستان سے ایک راجہ نےبرازیل کے اس وقت کے ایک بہت بڑے فارمرکو گائے کا ایک جوڑا تحفتا دیا جس کی نسل کو گیر کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ اس فارمر نےاس کی افزائش نسل پر کام کیا اور ایک نئی نسل متعارف کروائی جس کو گیرلینڈو کا نام دیا گیا۔
اسی کی دہائی میں برازیل کی حکومت نے اس کو رجسٹر کیا موجودہ دور میں گینز بک کے ریکارڈمیں اسی نسل کو اعزاز حاصل ہے۔
ہمارے ہاں بھی گائیوں کی بہت سی نسلیں موجود ہیں۔ جس میں ساہیوال نسل ہے۔ چولستانی نسلہے۔ یہ جانور ہمارے ماحول اور موسم سے مطابقت رکھتے ہیں۔ لیکن ان کےدودھ کی اوسط پیداواردنیا کی دوسری نسلوں سے کافی کم ہے۔
ہمارے ڈیری ڈوویلپمنٹ ادارے کو چاہئیے تھا کہ وہ بھی دوسرے ممالک سے کچھ سیکھتے کچھتجربات کرتے بس سارا فوکس ایک نسل ساہیوال پر کر کے لمبی تان سو چکے ہیں۔
ہمارے فارمرز حضرات اپنے تئیں مصنوعی نسل کشی کے ذریعے مختلف تجربات کرتے رہتے ہیں۔کوئی واضح روڈمیپ نہ ہونے کی وجہ سے سب ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔اس کی بڑی وجہ فارمرز کاناخواندہ ہونا ہے۔ زیادہ تر جانور دیہات میں پالے جاتے ہیں لوکل ویٹرنری ٹیکنیشینز امپورٹڈ سیمنکو بول کر لوگوں کی جیبیں خالی کئے جارہے ہیں۔اس ساری صورتحال کی ذمہ داری ڈیری ڈویلپمنٹاور لائف اسٹاک کے کھاتے میں جاتی ہے۔
ان سے سوال پوچھا جانا چاہئے کہ ہم اپنے ملک کی دودھ کی پیداوار پوری کیوں نہیں کر پارہے ہیں؟
ان سے پوچھا جانا چاہئے کہ انہوں نے ایسی نسل تیار کیوں نہیں کی جو ہم دوسروں کے مقابلے میںلا سکتے۔
کیا یہ فیلڈ میں ہر اس فارمرز تک رسائی رکھتے ہیں جو کم از کم دس جانور رکھتا ہو؟
سچائی یہ ہے کہ چھوٹا فارمر ہی آپ کے ملک میں دودھ کی کمی کو پورا کرنے میں معاون ہے۔
کیا یہ ان کو رہنمائی فراہم کرتے ہیں؟
کیا ان کو کوئی نسل کشی یا بیماریوں کے تحفظ کے حوالے سے کوئی امداد بہم پہنچاتے ہیں؟
جب تک ہم اپنے چھوٹے فارمر کو اہمیت نہیں دیں گے۔ سہولیات نہیں دیں گے ہم اپنے بچوں کو دودھکے نام پر زہر پلاتے رہیں گے۔
یہ ادارہ ایک مردہ گھوڑا بن چکا ہے جتنی مرضی چابک مار لیں یہ اٹھنے والا نہیں ہے۔
حکومت کو چاہئے کہ ہر فارمر کو امپورٹڈ سیمن کو پڑھنے اور صیح بریڈنگ لینے کے طریقہ کار سےآگاہ کرے۔ ڈاکٹرز حکومت کی طرف سے بغیر فیس کےدوائیاں مہیا کریں۔ خردبین سے سیمن کیکوالٹی چیک کرنے کا طریقہ سکھائے۔
آج سے اس ادارے کو ٹاسک دیا جائے کہ اپنے ملک کی کوئی اچھی سی بریڈ متعارف کروائی جائےتا کہ دودھ کی پیداوار میں ہم خود کفیل ہو ں۔
مہنگائی سے ہر طبقہ متاثر ہوا ہے لیکن دودھ بیچنے والے ہمیشہ نفع میں رہتے ہیں پر فارمر بیچارےکے ہاتھ کچھ نہیں آتا کیوں کہ گورنمنٹ کی طرف سے ریٹ کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہیںہے۔ مڈل مین اس کمزوری سے فائدہ اٹھا رہےہیں۔
بہت ضروری ہے کہ دودھ کا ریٹ دودھ کی کوالٹی کے ساتھ منسلک کیا جائے دودھ کی کوالٹی کوچیک کرنے کے آلات عام کر دئیے جائیں اور دودھ کا کاروبار کرنے والوں کو پابند کریں کہ وہ دودھ کامعیار چیک کروا کر گورنمنٹ کے نرخ پر خریدوفروخت کرے۔جب تک ہم اپنے ڈیری فارمرز کے مسائل کاادراک نہیں کرتے اخبارات میں اشتہار بازی کر کے ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں