maqsood anwar

” ایورنیو سٹوڈیو ملتان روڈ لاہور

تحریر مقصود انور

پاکستان میں نگار خانوں کی مختصراً تاریخ
تقسیم سے قبل بمبئی ، کلکتہ اور مدراس کے علاوہ لاہور میں بھی ہندی/اردو اور پنجابی فلمیں بنتی تھیں۔ لاہور میں کل آٹھ فلم سٹوڈیوز ہوتے تھے جن کے مالکان سبھی ہندو سیٹھ ہوتے تھے۔ تقسیم کے بعد ہونے والے فسادات میں کوئی ایک بھی فلم سٹوڈیو اپنی اصلی حالت میں نہیں بچا تھا۔ ان میں سے ‘پردھان سٹوڈیو’ ، ‘ناردرن سٹوڈیو’ اور ‘امپریل سٹوڈیو’ مکمل طور پر تباہ و برباد ہوگئے تھے۔ ان کا بچا کھچا سامان ہندو مالکان اپنے ساتھ بھارت لے گئے تھے۔ ان کے علاوہ جو پانچ فلم سٹوڈیوز کسی نہ کسی حالت میں باقی بچے ، ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:

شوری فلم سٹوڈیوز

1945ء میں ملتان روڈ لاہور پر قائم ہونے والا پہلا فلم سٹوڈیو ، اداکارہ مینا شوری کے ہندو شوہر فلمساز اور ہدایتکار روپ کے شوری نے اپنے نام پر بنوایا تھا جو سو کنال اراضی پر مشتمل تھا۔ یہ فلم سٹوڈیو لاہور میں بننے والی ریکارڈ توڑ پنجابی فلم منگتی (1942) کی کمائی سے بنا تھا جو مسلسل ایک سال تک چلنے والی برصغیر کی پہلی گولڈن جوبلی پنجابی فلم تھی۔ اس کی ہیروئن ممتاز شانتی تھی جس کی ہندی/اردو فلم قسمت (1943) برصغیر کی سو ہفتے سے زائد چلنے والی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم تھی۔ فلم منگتی (1942) کے ہیرو ہمارے نامور ہدایتکار مسعودپرویز تھے۔ یہ فلم سٹوڈیو 1947ء کے فسادات میں جلا دیا گیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد میڈم نورجہاں اور ان کے شوہر شوکت حسین رضوی کو لاہور میں الاٹ ہونے والے ریجنٹ سینما اور ایک کوٹھی کے علاوہ ‘شوری سٹوڈیو’ بھی تھا جس کا نام ‘شاہ نور سٹوڈیو’ رکھا گیا تھا۔ جائیداد کی تقسیم کے خاندانی جھگڑوں کے عمل سے گزرنے کے باوجود اس کا کچھ حصہ اب بھی چل رہا ہے۔
پنچولی فلم سٹوڈیوز 1
اپر مال پر نہر کے کنارے واقع اس نگار خانے کے مالک سیٹھ دل سکھ پنچولی تھے جن کے کریڈٹ پر گل بکاؤلی (1939) ، یملاجٹ (1940) اور چوہدری (1941) جیسی بڑی بڑی پنجابی فلمیں تھیں اور جن کی کمائی سے یہ فلم سٹوڈیو بنا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ نگار خانہ ، گلوکارہ ملکہ پکھراج کو الاٹ ہوا تھا جنہوں نے اس کا نام ‘ملکہ سٹوڈیو’ رکھ دیا تھا۔ اس کے بعد اس کو کرایہ پر دیا جاتا تھا اور مالکان اور نام بدلتے رہے ، جیسے کہ ‘ کوآپریٹو سٹوڈیو’ یا ‘جاوداں سٹوڈیو’ وغیرہ۔ یہ سٹوڈیو بند ہونے کے بعد اب ایک رہائشی علاقہ اپر مال سکیم کہلاتا ہے۔

پنچولی فلم سٹوڈیوز 2

1936ء میں مسلم ٹاؤن لاہور میں نہر کے کنارے تعمیر ہونے والا یہ فلم سٹوڈیو بھی سیٹھ دل سکھ پنچولی کی ملکیت تھا جو قیام پاکستان کے بعد دیوان سرداری لال کے پاس رہا جنہوں نے یہاں بطور فلمساز ، پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) بنائی تھی۔ دیوان کے بھارت جانے کے بعد یہ فلم سٹوڈیو ، اداکار ، فلمساز اور ہدایتکار نذیر کو الاٹ ہوا تو اس کا نام ‘پنجاب آرٹ سٹوڈیو’ رکھا گیا تھا جہاں پاکستان کی پہلی پنجابی فلم پھیرے (1949) بنائی گئی تھی۔ 1954ء میں آغا جی اے گل نے اس سٹوڈیو کو کرایہ پر حاصل کیا اور نام ‘ایورنیو سٹوڈیو’ رکھا۔ اسی سٹوڈیو میں بلاک باسٹر فلم دُلابھٹی (1956) بنائی جس کی کمائی سے ملتان روڈ پر جدید ‘ایورنیو سٹوڈیو’ قائم کیا۔ پھر یہ سٹوڈیو باری ملک نے کرائے پر لیا اور یہاں یکے والی (1957) جیسی ایک اور بلاک باسٹر فلم بنائی۔ اس فلم کی کمائی سے انہوں نے بھی ملتان روڈ لاہور پر اپنا ذاتی ‘باری سٹوڈیو’ قائم کرلیا تھا۔ اس کے بعد فلمساز اور ہدایتکار اشفاق ملک نے یہ نگارخانہ کرایہ پر لیا۔ انہوں نے بھی بندروڈ پر اپنی ذاتی اراضی خرید کر ‘اے ایم سٹوڈیو’ قائم کیا تھا جو 1990ء میں بند ہوا تھا۔ ‘پنچولی سٹوڈیو 2’ کو بعد میں ‘بوبی سٹوڈیو’ کا نام بھی دیا گیا تھا اور 1980ء میں مکمل طور پر بند ہوگیا تھا
۔
لیلا مندر فلم سٹوڈیوز

فیروزپور روڈ پر واقع یہ فلم سٹوڈیو قیام پاکستان کے بعد ‘سکرین اینڈ ساؤنڈ سٹوڈیو’ کے نام سے سٹوڈیو اور لیبارٹری انچارج تصدق حسین ریاض اور شفیع اعجاز کو الاٹ ہوا تھا۔ اس فلم سٹوڈیو میں پہلی بار فلم گل بکاؤلی (1961) کے رنگین گانوں کی پروسیسنگ کی گئی تھی اور مغربی پاکستان کی پہلی مکمل رنگین فلم اک دل دو دیوانے (1964) بھی بنائی گئی تھی۔ 1985ء تک یہ فلم سٹوڈیو چلتا رہا تھا۔

سٹی فلم سٹوڈیوز

میکلورڈ روڈ لاہور پر واقع ریجنٹ سینما کے عقب میں ‘سٹی سٹوڈیو’ ، قیام پاکستان کے بعد بھی قائم رہا جسے رتن سینما کے مالک چوہدری عید محمد کو الاٹ کیا گیا تھا۔ یہ فلم سٹوڈیو 1980ء تک چلتا رہا تھا۔
قیام پاکستان کے بعد قائم ہونے والے فلمی نگارخانوں میں آغا جی اے گل کے ‘ایورنیو سٹوڈیو’ کے علاوہ فلمساز باری ملک نے فلم یکے والی (1957) کی کمائی سے ملتان روڈ لاہور پر 92 کنال اراضی پر مشتمل ‘باری سٹوڈیو’ قائم کیا تھا۔ شباب کیرانوی نے فلم مہتاب (1962) کی کمائی سے ملتان روڈ لاہور پر ہی واقع ‘شباب سٹوڈیو’ قائم کیا تھا۔ فلم وعدہ (1957) فیم فلمساز اور ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد نے اپنے نام پر ‘ڈبلیو زیڈ سٹوڈیو’ وحدت روڈ لاہور پر بنایا تھا۔ 1971ء میں فلم بدنام (1966) فیم معروف فلمساز اور ہدایتکار اقبال شہزاد نے ملتان روڈ پر ہی ‘سنے ٹل سٹوڈیو’ قائم کیا تھا۔ 1973ء میں چوہدری ثنا اللہ نے ملتان روڈ پر ہی واقع ‘ثنائی سٹوڈیو’ قائم کیا تھا۔ لاہور کے ان نگار خانوں کے علاوہ کراچی میں بھی پانچ فلم سٹوڈیوز تھے جو ‘ایسٹرن سٹوڈیو’ ، ‘ماڈرن سٹوڈیو’ ، ‘انٹرنیشنل سٹوڈیو’ ، ‘کراچی سٹوڈیو’ اور ‘نوویٹاس سنے لیبارٹری’ کے نام سے ریکارڈز پر موجود ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں