ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی 85ویں برسی۔۔۔

‏نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
زرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

آج 21 اپریل ہے اقبال کو ہم سے بچھڑے پچاسی برس ہوچکے ہیں ان تمام سالوں میں ہم نے اقبال پر ہزاروں صفحات لکھ ڈالے ۔ ان کے فلسفۂ خودی ، فلسفۂ زماں و مکاں ، عقل اور عشق ، قرآن سے شغف ، عشقِ رسول ، ان کے اسفار ، کون سا گوشہ ایسا ہے جس کو ہمارے پیشہ ور ماہرینِ اقبالیات نے چھوڑ رکھا ہے ۔
ان کے کلام کی مقبولیت کا بھی کوئ اندازہ نہیں کر سکتا ہر اہل اور نا اہل نے اسے اپنی آواز دی اور اسے بلندی پر پہنچنے کے لۓ زینہ کی طرح استعمال کیا ۔
——-
رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
—————–
حکیم الامت نے مرض کی تشخیص کی ، وجہ بتائ اور نسخہ تجویز کیا اور ہم صرف اس موضوع پر ہی بات نہیں کرتے ہیں
سارا کلامِ اقبال جو فارسی اور اربو کے تقریباً بارہ ہزار اشعار پر مشتمل ہے پڑھ ڈالیۓ لیکن آپ صرف ایک ہی نتیجہ پر پہنچیں گے
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اجالا کردے
احیاء کی چار بنیادی جہتیں ہیں ۔ فکری احیاء ، اخلاقی احیاء ، منظم تبدیلی اور قوت
اور حکیم الامت نے اس کا علاج اپنے ان چار اشعار میں پیش کردیا ہے ۔ جن میں دس نکات پیش کۓ ہیں سات عوام و خواص کے لۓ اور تین خواص کے لۓ ۔
قرآن کی آیت ہے
كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ-(۱۱۰)
اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لۓ میدان میں لایا گیا ہے ۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو ، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو ۔
یہ وہی مضمون ہے جو سورۂ بقرہ کے سترہویں رکوع میں بیان ہو چکا ہے ۔ نبیِ عربی صلی اللہ علیہ و سلم کے متبعین کو بتایا جارہا ہے کہ دنیا کی امامت و رہنمائ کے جس منصب سے بنی اسرائیل اپنی نا اہلی کے باعث معزول کۓ جا چکے ہیں اس پر اب تم معمور کۓ گۓ ہو ۔ اس لۓ کہ اخلاق و اعمال کے لحاظ سے اب دنیا میں سب سے بہتر انسانی گروہ بن گۓ ہو اور تم میں وہ صفات پیدا ہوگئ ہیں جو امامتِ ؑادلہ کے لۓ ضروری ہیں ۔ یعنی نیکی کو قائم کرنے اور بدی کو مٹانے کا جذبہ و عمل اور اللہ واحدۂ لا شریک کو اعتقاداً اور عملاً اپنا الٰہ اور رب تسلیم کرنا ۔ لہذا اب یہ کام تمہارے سپرد کیا گیا ہے اور تمہیں لازم ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور ان غلطیوں سے بچو جو تمہارے پیش رو کر چکے ہیں ۔
تفہیم القران مولانا مودودی
بنیادی شرط ہے صداقت ، شجاعت اور عدالت
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جاۓ گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
اور اس کو حاصل کرنے کی تین بنیادی چیزیں ہیں
یقینِ محکم ، عمل پیہم اور عشق
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
ان دو شعروں میں چھ نکات بیان ہوۓ ہیں جو عام اور خاص سب کے لۓ ضروری ہیں لیکن اگلے شعر میں رہنما کے خواص بیان کۓ ہیں کہ رہنمائ کے لۓ بلند نگاہ یعنی دور اندیشی کے ساتھ بلند مقصد ، لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور محبت اور خلوص
نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
اور اس کے ساتھ قوت ۔ یہاں پر قوت سے مراد شمشیر و سناں ہی نہین بلکہ عوامی طاقت کے بھی آتے ہیں
رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم
عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد
ہندستان میں مسلمانوں کے مسائل کی اہم وجہ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری ‘ مرعوبیت ‘ اور ‘ احساسِ کمتری ‘ ہے اور جب تک ہم اس سے چھٹکارا نہیں پاتے اور خود کو مساوی حقوق کا حامل نہیں سمجھتے ہمارے مسائل کم نہیں ہوں گے ۔ مجھے اقبال کا مصرعہ ہمیشہ یاد آتا ہے
عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد
عصا ہمارے ہاتھ میں ہے ہم ایک قوت رکھتے ہیں لیکن استعمال نہپیں کرتے ۔
2014ء سے ہمارا ووٹنگ فیصد برابر گھٹتا جارہا ہے اور نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ 2019ء کے الکشن میں یہ فیصد گھٹ کر تقریباً بیس فیصد رہ گیا ہے
شورش کاشمیری نے ایک جگہ لکھا ہے
” کئ صدیوں سے مسلمان عوام کو اسلام سے اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنا زیادہ مسلمان خواص نے اسلام سے اٹھایا ہے ۔ ”
ایک اور جگہ انہوں نے مسلم نفسیات کا تجزیہ کیا ہے
” مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہر سیاسی تنظیم اور ہر سیاسی تحریک میں جذبات کی مخلوق رہے ان کی صحیح سیاسی تربیت بہت کم ہوئ وہ بعجلت اکھٹا ہوتے اور بسرعت بکھر جاتے ہیں ۔ انہوں نے مدت سے سوچنا ترک کردیا ہے وہ تاریخ سے زیادہ سیاست کے اور سیاست سے زیادہ صحافت کے کھلاڑی رہے انہیں نصب العین سے کمتر اور نعروں سے زیادہ دلچسپی رہی انہوں نے اصولوں سے زیادہ شخصیتوں پر انحصار کیا ۔ ”

اپنا تبصرہ بھیجیں