yasir peerzada

پاکستان کے 67 ٹن سونے کے ذخائر

آج کل جب میں صبح گھر سے نکلتا ہوں تو عموماً گاڑی میں ریڈیو پر خبریں سنتا ہوں ، یہ خبریں بھارت کے کسی ایف ایم اسٹیشن سے نشر ہوتی ہیں اور گو کہ ’شدھ ہندی‘ میں ہوتی ہیں، مگر سمجھنے میں مشکل نہیں ہوتی کیونکہ اِن میں سوائے بھارت سرکارکے کارناموں کے اور کچھ نہیں ہوتا۔اگر میں اِن خبروں میں سے پروپیگنڈا اور دروغ گوئی کا عنصر نکال بھی دوں تو پیچھےاتنا کچھ ضرور بچ جاتا ہے جسے سُن کر دل بیٹھ سا جاتا ہے۔اِن خبروں سے پتا چلتا ہے کہ بھارت اب وہ نہیں رہا جو آج سے تیس بتیس سال پہلے ہوا کرتا تھا ، اُس وقت ہم بھارت کے ہم پلہ تھے بلکہ سچ پوچھیں تو آگے تھے۔آج حال یہ ہے کہ بھارت جی 20 کے سربراہی اجلاس کی مقبوضہ کشمیر میں میزبانی کرتا ہے اور چین کے سوا تمام ممالک اُس میں شرکت کرتے ہیں، بھارت کاشمار اِس وقت دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں ہوتا ہے ،اُس کے زر مبادلہ کے ذخائر اور برآمدات کا حجم ہم سے کئی گنا زیادہ ہے،اُس کے تقریباً تمام بڑے شہر آئی ٹی کے گڑھ بن چکے ہیں،بھارتی فلمیں اب پوری دنیا میں ریلیز ہوتی ہیں اوراربوں روپے کا کاروبار کرتی ہیں۔میں ہندوستان کی مزید کامیابیاںگنوا کر یہ فہرست طویل بھی کرسکتا ہوں مگر کوئی فائدہ نہیں، خواہ مخواہ دل ہی جلے گا۔
ہندوستان میں یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوااور نہ ہی ہندوستان کی ترقی کسی پنڈت کی دعاکی بدولت ممکن ہوئی ہے۔1991 میں بھارت کی حالت اس سے بھی بدتر تھی جتنی آج ہماری ہے،بھارتی زرمبادلہ کے ذخائر صرف تین ہفتوں کی درآمدات کے لئے باقی رہ گئے تھے۔بھارتی اخبار دی ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق نہرو اور اندرا گاندھی کے دور میں پرمٹ راج تھا یعنی خیر اندیش سوشلسٹ حکمران طے کرتے تھے کہ عوام کو کس چیز کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت کیسے پوری کرنی ہے، سرکار کی اجازت کے بغیر کچھ بھی درآمد یا تیار نہیں کیا جا سکتا تھا، ہر کام کے لئے لائسنس لینا لازمی تھا، پیداواری صلاحیت بڑھانے پر شاباش نہیں دی جاتی تھی بلکہ جیل بھیج دیا جاتاتھا کہ صنعتکار نے لائسنس میں متعین کی گئی مقدار سے زیادہ پیداوار کیوں کی۔سرکار کی اِن پالیسیوں کی وجہ سے عام استعمال کی اشیاکی دستیابی عذاب بن چکی تھی، 1970 کی دہائی میں گاڑی کے لئے سات سال اورا سکوٹر کے لئے نو سال تک قطار میں کھڑے رہنا پڑتا تھا،حتّی کہ گھڑی کی تیاری پربھی حکومتی اجارہ داری تھی اور گھڑی حاصل کرنا اتنا مشکل تھا کہ یہ اکثر دلہن کے جہیز کا حصہ ہوتی تھی،سیمنٹ کی اتنی کمی تھی کہ لوگوں کو سیمنٹ کی بوریاں حاصل کرنے کے لئے قطاروں میں انتظار کرنا پڑتا تھا۔یہ تھی ہندوستان کی حالت۔
اور پھر 1991آ گیا۔بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر جو جنوری میں سوا ارب ڈالر کے قریب تھے ،چھ ماہ بعد نصف رہ گئے ۔اِس صورتحال میں بھارتی سرکار نے آئی ایم ایف سے سوا دو ارب ڈالر قرض لینے کا فیصلہ کیا اور بدلے میں ضمانت کے طور پر 67ٹن سونا گروی رکھوا دیا، یہ سونا ہوائی جہازوں میں بینک آف انگلینڈ اور یونین بینک آف سویٹزرلینڈ بھیجا گیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ جو گاڑی یہ سونا لے کر ہوائی اڈے جا رہی تھی راستے میں اُس کا ٹائر بھی پنکچر ہوا۔سرکار کو اپنے اِس فیصلے کی بھاری قیمت چکانی پڑی اور چند ماہ میں وزیر اعظم چندر شیکھرکی حکومت گرگئی اور اس کی جگہ نرسمہاراؤ پردھان منتری بن گئے اور من موہن سنگھ اُن کے وزیر خزانہ۔نئی سرکار نے بھارت کی معیشت کو آزاد کرکے پرمٹ راج ختم کر دیا، انگریزی میں بولے تو اکانومی کو لبرلائز کر دیااورمعیشت میں بنیادی اصلاحات کیں۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ بھارت نے کوئی انوکھا کام نہیں کیا، اُس وقت ترقی پذیر ممالک لبرلائزیشن کی پالیسیوں کی طرف ہی گامزن تھے، پاکستان میں بھی یہی پالیسیاں اپنائی گئیں ، آج ہمیں جو بیرونی سرمایہ کاری، ملٹی نیشنل کمپنیاں، بینک اور ٹیلی کام کمپنیاں نظر آتی ہیں ،یہ انہی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔بھارتی صنعتکار کے لئے یہ پالیسیاں ہواکا تازہ جھونکا ثابت ہوئیں،ہندوستان میں بیرونی سرمایہ کاری آئی، لوگوں کا کاروبار پھیلا، نوکریاں ملیں اور معیشت کا پہیہ چل پڑا ، اس کے بعد بھارت نے پیچھے مڑ کرنہیں دیکھا۔
میں کوئی ماہر معیشت تو نہیں جو بتا سکوں کہ اِس وقت پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو مزید آزاد کرنے کی کتنی گنجائش ہے مگر یہ بات ضرور جانتا ہوں کہ پاکستان میں اب بھی کاروبار کرنا آسان نہیں،کاروبار میں آسانی کے اشاریے میں ہمارا نمبر 108 واں ہے،جبکہ بھارت کا 63 واں۔ اِس پوزیشن اور اِن غیر یقینی حالات میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لئے راغب کرنا بے حد مشکل کام ہے۔ ہماری حکمت عملی تو یہ ہونی چاہئے کہ تمام غیر ضروری اجازت ناموں اور این او سی کی خرافات کو ختم کردیں ،آخر این او سی اور اجازت نامے کی شرط رکھ کر آج تک ہم نےکون سا تیر مار لیا ہے جو اب مار لیں گے ! دوسری بات سونے کے ذخائر گروی رکھنے کی ہے،اِس وقت ہمارے پاس بھی لگ بھگ اتنے سونے کے ذخائر ہیں جو 1991میں بھارت نے گروی رکھے تھے،آئی ایم ایف چاہے تو اپنے رکن ملک کو دیا گیا قرض سونے کی شکل میں واپس لے سکتا ہے لہٰذا پاکستان کے پاس یہ آپشن موجود ہے کہ وہ اپنا سونا گروی رکھ سکتا ہے مگر یہ آخری آپشن ہونا چاہئے، بالکل اُس غریب کی طرح جو ساہوکار کے خوف سے بیوی کا بچا کھچا زیور بیچ کر اپنی جان چھڑاتا ہے۔ اگر ہمیں یقین ہو کہ اِس طریقے سے ہماری جان چھوٹ جائے گی اور ہم اپنی معیشت میں اصلاحات کرکے اسے درست سمت پر ڈال دیں گے تو یہ کام کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن مصیبت یہ ہے کہ اِس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اپنا بچا کھچا مال و متاوع گروی رکھ کر بھی ہمیں عقل آجائے گی اور ہم سدھر جائیں گے ۔یہ کام صرف اُس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب معیشت کا کوئی روڈ میپ ہمارے سامنے ہو، اصلاحات کاپیکیج متعارف کروایا جائے جس کے ساتھ اہداف مقرر کئے جائیں جو مخصوص مدت میں حاصل کرنے ضروری ہوں، اِن جامع اقدامات کے بعد ہی کوئی ایسا کام کیا جا سکتا ہے جو بھارت نے 1991 میں کیا ورنہ ہم ایسے ہی ٹھیک ہیں، کم ازکم جورو کا زیور تو پاس ہے!

اپنا تبصرہ بھیجیں