افضال ریحان

ہماری سیاست کا مستقبل؟

ان دنوں احباب اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ ہماری مستقبل کی سیاست کا بیانیہ یا منظرنامہ کیا ہوگا؟ اس میں جناح تھرڈ کی حیثیت کیا ہوگی؟کیا اکتوبر،نومبر میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن ہوسکیں گے؟ یا وہ اگلے برس کے مارچ اپریل تک چلے جائیں گے؟ کیا نوازشریف کی سزائیں ختم کردی جائیں گی، وہ اپنی پارٹی کی قیادت سنبھالتے ہوئےخود انتخابی مہم چلا سکیں گےاور چوتھی بار وزیراعظم بن سکیں گے؟ نئے انتخابی اتحاد کس طرح تشکیل پائیں گے کون کس کے ساتھ مل کر الیکشن لڑے گا اور یہ کہ اگلے انتخابی نتائج کیا ہونگے؟ کنگز پارٹی کا اعزاز کسے حاصل ہوگا؟جن لوگوں کو پاکستانی سیاست کی تھوڑی بھی سمجھ بوجھ ہے وہ یہ ادراک کرسکتے ہیں کہ جس لیڈر یا پارٹی کو ہٹایا جاتا ہے اُسے اُسی موقع پر منعقد ہونیوالے انتخابات میں نہیں لایا جاتا، چاہے وہ کتنا ہی پاپولر کیوں نہ ہو۔ ایک بات خود ہمارے عوام کے اذہان میں بیٹھی ہوئی ہے کہ وہ ہٹائی گئی پارٹی کو ووٹ نہیں دیتے،خاص طور پر جس پر یہ ٹھپہ لگ جائے کہ طاقتوروں نے اُسے نہیں آنے دینا۔ ہمارے لوگ بالعموم جیتنے والی پارٹی کے ساتھ جاتے ہیں ، اسی طرح کے اندازے طاقتوروں کے بھی ہوتے ہیں اگر انھیں خدشات ہوں کہ ’’ملک دشمن‘‘لوگ آگے آ سکتے ہیںتو طاقتور الیکشن ملتوی کروا دیتے ہیں یا پھر ایسے طریقے سے کرواتے ہیں جن میں مطلوبہ نتائج کی یقین دہانی ہو۔ ایوب سے ہوتے ہوئے ملاحظہ کرتےجا ئیں،چھپن کے آئین کا لازمی تقاضا فریش مینڈیٹ کا حصول تھا مگر ایوب نے یہ تقاضا پورا نہ ہونے دیا اور جب وہ انتخابی معرکے میں گئے تو جیسے تیسے اپنی جیت کو یقینی بنایا۔ جنرل یحییٰ نے اگرچہ منصفانہ انتخابات کروائے مگر ان غیر متوقع انتخابی نتائج کو قبول کیا گیا نہ ان پر عملدرآمد ہونے دیا گیا۔ یحییٰ خان نے ملک تڑوانا قبول کرلیا لیکن عوامی مینڈیٹ کے سامنے سرنگوں ہونا قبول نہ کیا۔ ضیاء الحق اور پرویز مشرف کیاجوڑ توڑ کرتے پائے گئے اس کی تفصیل میں گئے تو دیگر تمام سوالات چھوٹ جائیں گے۔ جن جنرلز نے مارشل لاء نہیں لگایا، انہوں نے بھی سیاست کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کیلئے کیا کیا مہارتیں دکھائیں ان کی ایک طویل تاریخ ہے۔ باقی سب کوچھوڑتے ہوئے جنرل باجوہ کےکردار کو ہی بطور مثال سمجھا جاسکتا ہے۔ دیکھا جائے تو اس وقت ہم 2018ء کی صورتحال میں کھڑے ہیں۔کوئی مانےیا نہ مانے2018ء میں ن لیگ کی جیت یقینی تھی،اس حوالے سے درویش کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ آج پھر وقت نے نوازشریف کو واپس اُسی مقام پر لاکھڑے کیا ہے۔ بلاشبہ وہ اپنے ساتھ مولانافضل الرحمن جیسےاتحادیوں کو ضرور اکاموڈیٹ کرینگے لیکن ان کے پاس’’استحکامِ پارٹی‘‘ کے لوگوں کو ٹکٹیں دینے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر یا بہت کم ہے کیونکہ ن لیگ کے اپنے لوگ بھی ایسے کسی رویے کو پسند نہیں کرینگے۔ مقابلہ بہرحال ون ٹو ون ہی ہونا ہے، اگر پی ٹی آئی کا ہوا قائم رہتا تو عین ممکن تھا کہ ن اور پی پی والے انتخابی ایڈجسٹمنٹ کرتے،تاہم اب بدلےن لیگی اتحاد کے بالمقابل پی پی کی قیادت میں دوسرا اتحاد بنے گا جس میں اے این پی کے علاوہ جناح ثالث کے بھگوڑے بھی شامل ہونگے۔ اسلام آباد سنگھاسن پر اس کو بیٹھنا ہے جس کوپنجاب فتح کرنا ہے۔ پنجاب کی صورتحال اس وقت سب سے دلچسپ ہے۔ ہمارے شیخ چلی کو ابھی تک یقین نہیں کہ وہ فارغ ہوچکے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ان کےچاہےسبھی لیڈرکچلے جائیں لیکن اُن کا ووٹر اُن کے ساتھ ہے یہ ایک جعلی متھ ہے جو شیخ اور بیرسٹر جیسے لوگ پھیلاتے اور تیس مارخان کو بے وقوف بناتے ہیں۔ اس وقت استحکام پارٹی کے پاس لیڈروں کی تو بہتات ہے لیکن کارکنوں کی کمی ہے جبکہ پی پی کے پاس پنجاب کیلئے مناسب لیڈروں کا شدید بحران ہے اور یہ بحران استحکام پارٹی کے ملاپ یا تعاون سے دور کیاجاسکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ طاقتوروں کا ہاتھ کس کے سر پر ہوگا؟ اس امر کا امکان بھی موجود ہے کہ بچی کھچی پی ٹی آئی شاہ محمود کی قیادت میں تحریکِ لبیک سے سمجھوتہ کرنے تک پہنچ جائے۔ البتہ اس کی ترجیح پی پی بھی ہوسکتی ہے لیکن جناح ثالث تنہا پرواز کو ترجیح دے گا،حالانکہ ان کی نااہلی یقینی ہے،جو ملک بدری یا جیل یاترا تک جاسکتی ہے۔ درویش برسوں سےعرض کرتا چلا آرہا ہے کہ پی ٹی آئی کوئی سیاسی پارٹی نہیں، یہ تو جناح تھرڈ کا فینز کلب یا پریشرگروپ ہے جوتیس مارخان کی نااہلی پر بکھر جائے گا۔ اب پی ٹی آئی کے اس خلا کو جناح تھری کے منحرفین پی پی کے ساتھ مل کر پورا کرنے کی کاوش کرسکتے ہیں۔ ہمارے بہت سے تجزیہ نگارن لیگ کے بالمقابل شاہ محمود کی پارٹی کو دیکھ سکتے ہیں لیکن درویش کی نظر میں پیپلز پارٹی کے ساتھ استحکام پارٹی اور ق لیگ مل سکتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ نوازشریف کے مقدمات کس طرح اور کب ختم ہونے ہیں؟جو بھی صورتحال ہو نوازشریف کے لئے لازم ہے کہ وہ 14اگست کو بہرصورت وطن واپس آجائیں اُن کا لاہور میں بھرپور استقبال ن لیگیوں کیلئے طاقت کا اظہار ہوگا۔ الیکشن کب ہوناہے اس میں ابھی تھوڑا اُلجھاؤ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں