Doctor Ijaz ahmed

کالے کوٹ کی حرمت

پیشہ کوئی بھی ہو برا نہیں ہوتا۔ لیکن ہرپیشے میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں الگ سوچ اور ظرف رکھتے ہیں۔
وکالت کا شعبہ انتہائی قابل احترام اور باوقار ہے۔ اس شعبے سے وابستہ لوگوں کو پڑھا لکھا قانون کی سمجھ بوجھ
رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس ملک کے بانی خود ایک بہت اچھے قابل وکیل تھے۔
جس وجہ سے اس وکالت کے پیشے کو اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
جس طرح ایک مچھلی سارے پانی کو گندا کر دیتی ہے اسی طرح وکالت کے پیشے سے منسلک

کچھ لوگ اپنے کالے کوٹ پہننے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ شریف لوگوں کی عزتیں پامال کرتے ہیں۔ جس وجہ سے معاشرے میں کالے کوٹ کی بے توقیری نمایاں ہو رہی ہے۔ کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل

ہوتی ہیں جس میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ قانون کے محافظ کس طرح قانون کو پامال کر رہے ہیں۔
کوئی بھی ادارہ یا شخص ان کے شر سے محفوظ نہیں ہے اور ان کالی بھیڑوں کو قانون کی گرفت میں

لانے کے لئے کوئی بھی مجاز اتھارٹی پوری طرح سے ورکنگ میں نہیں ہے۔
اگر پولیس سے ایسے وکلاء حضرات کی چیرہ دستی سے بچنے کے لئے ان کی خدمات لینے کی کوشش

کی جائے تو وہ خود صمم بکمم کی تصویر بن جاتے ہیں ۔ آف دی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ ہم بے بس ہیں ہمیں آخر کار وہیں جا کر پیش ہونا ہوتا ہے۔ جہاں یہ لوگ ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔
ایک وقت تھا جب پولیس کے بارے میں لوگوں کے ازہان میں منفی سوچ پنپ رہی تھی اب جب

سے چوہدری افتخار کی عدلیہ آزادی تحریک کامیاب ہوئی ہے۔ بہت سے وکلاء کے پر پرزے نکل آئے ہیں ۔ وہ خود کو قانون سے بالا تر سمجھتے ہیں۔ چھوٹی عدالتوں کے ججز کی بے حرمتی کی ویڈیوز بھی اس بات کی گواہی دے رہی ہیں۔ کہ کوئی ایسا قانون ان پر لاگو نہیں ہوتا
جس سے یہ شریف لوگوں کو ڈرانے دھمکانے عزتیں پامال کرنے پر ان کی پکڑ ہو سکے ان کے لائسینس

منسوخ کئے جا سکے۔ اب تو نوبت یہاں تک آ چکی ہے ایک رشتہ کروانے والے نے بتایا کہ اگر لڑکا وکیل ہو

تو لڑکی والے اس میں دلچسپی نہیں لیتے کچھ لوگوں کے غلط رویے کی وجہ سے سب لپیٹ میں آرہے ہیں۔
اسی طرح دوکاندار حضرات ان لوگوں سے بہت تنگ ہیں ایک دوکاندار بتا رہا تھا کہ اگر کوئی

کالا کوٹ پہن کر کچھ خرید کرنے آئے تو ہماری کوشش ہوتی کہ اس بندے کو کچھ بھی فروخت نہ کیاجائے جب اس کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے بتایا کہ ہم جو پروڈکٹ فروخت کرتے ہیں وہ کسی کمپنی کی بنی ہوتی ہے ہم اپنا جائز منافع لے کر اس کو فروخت کر دیتے ہیں۔
وہ پروڈکٹ خراب بھی ہو سکتی ہے ۔ اس کا کلیم کمپنی کی ذمہ داری تصور کرنی چاہئےنہ کہ

اس فروخت کنندہ کے سر جس نے سو پچاس کا منافع کمایا ہواب کچھ وکلاء حضرات نے یہ وتیرہ

بنا لیا ہے کہ کنزیومر کورٹ کے قانون کی آڑ میں دوکاندار کو نوٹس بھیج کر بلیک میل کرتے ہیں۔ دوکاندار کی مجبوری کہ وہ دوکان بند کر کے کورٹ کچہری کے چکر نہیں لگا سکتا ہے اور یہ بات ان کالی بھیڑوں

کو اچھے سے معلوم ہوتی ہے۔
ان کی ویسے تو وکالت چلتی نہیں ایسے دیہاڑیاں لگا کر گزر بسر کرتے ہیں۔ جس سے اس قابل احترام پیشے پر ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے؟
بار کونسلز کو چاہئیے کہ ایسے عناصر کو اپنی صفوں سے نکال باہر کریں جو قانون کا غلط استعمال

کرتے ہیں اگر کوئی صحافی ایسا کرتا ہے تو اس کو زرد صحافت سے موسوم کیا جاتا ہے جو وکیل قانون کا غلط استعمال کرے اس کو کالی وکالت کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اسی طرح ایک پراپرٹی ڈیلر نے بتایا کہ اگر ہمیں پتہ چل جائے کہ یہ وکیل ہے تو کرائے دار نہیں بناتے

ذرا سوچئے کہ صرف چند لوگوں کی نا عا قبت اندیشی کی وجہ سے پوری وکیل برادری کی عزت پر حرف آرہا ہے۔تمام بار کونسلز کو اس نقطہ پر غور کرنا ہو گا اپنی کالے کوٹ کی حرمت کو بر قرار رکھنے کے لئے نئے سرے سےکوڈ آف کنڈکت ترتیب دینے ہوں گے جو وکلاء غلط پریکٹس میں ملوث پائیں جائیں ان پر فوری ایکشن ہونا چاہئی
ے اور ہر شہری کو بار کانسلز تک رسائی آسان بنانی چاہئے تا کہ کالے کوٹ کی دست برداری سے

محفوظ رکھا جا سکے ۔ اور جو لوگ اس طرح کی حرکتیں کرتے ان کو ان کی اوقات میں رکھا جا سکے آج سے اس پر عمل کریں گے تو شاید معاشرے میں کالے کوٹ کی حرمت اور وقار میں بہتری آئے
نہیں تو ہم دیکھ ہی رہے ہیں موجودہ سیاسی صورتحال میں وکلاء کےسیاسی ونگ کس طرح اپنے لیڈروں کی شان میں رطب السان ہیں۔ حیرت ہوتی کہ اگر یہ پڑھے لکھے قابل لوگ جن کو ہم نے آئیڈیالائیز کیا ہوا ہے

کیسے سیاسی لوگوں کا پانی بھر رہے ہیں تو شرم سے گردن جھک جاتی ہے۔
خدارا اپنی عزت نفس کا خیال کریں کچھ نہیں تو کالے کوٹ کی حرمت کو مدنظر رکھیں۔ اپنے دل میں خوف خدا رکھیں کہ غلط بیانی اور قانون کا غلط استعمال کر کے کسی مظلوم کہ آہ سے بچیں۔ مظلوم کی آہ بہت جلدی اوپر جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں