حماد غزنوی

کاش ہم نئی غلطیاں کرتے

کاش ہم نئی غلطیاں کرتے

ہم خود کو دہراتے ہیں، جو کر چکے ہیںوہی دوبارہ کرتے ہیں، سہ بارہ کرتے ہیں اور کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ سیانے کہتے ہیں خود کو دہرانے سے بہتر ہے کسی دوسرے کو دہرا لیا جائے۔کسی بھی معاشرے کو آگے بڑھنے کیلئے نئی غلطیاں کرنا ضروری ہوتا ہے جب کہ منجمد معاشرے نئی غلطی کرنے کے سرے سے اہل ہی نہیں ہوتے۔یوں سمجھئے کہ جہانِ نو کی نمود تازہ افکار اورتازہ غلطیوں پر ہوا کرتی ہے۔ ایک بیماری ہے (بولیمیا)، جس کا مریض تھوڑی دیر میں بہت سا کھانا کھا لیتا ہے، اور پھر قے کر کے وہ کھانا جسم سے نکال دیتا ہے، جسے binging اور purging کہا جاتا ہے، یہ دماغی مرض نوجوان لڑکیوں میں پایا جاتا ہے جو اپنے وزن اور جسمانی ساخت کے بارے مسلسل متفکر رہتی ہیں۔یعنی بولیمیا ایک دائرہ ہے، کھائو اور نکالو، بِنجنگ اور پرجِنگ، کھاتے جائو نکالتے جائو، ایک ہی بے کار عمل دہراتے جائو، دہراتے جائو۔ ایک لایعنی اور بے سُود چکر میںگھومتا ہوا بولیمیا کا مریض نئی غلطی کرنے کا اہل نہیں ہوتا۔
ایمان داری سے بتائیے کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہم من حیث القوم بولیمیا کے مریض ہیں؟ ہماری پچھتر سالہ تاریخ بِنجنگ اور پرجِنگ کی تاریخ ہے، خوردن و اِستِفراغ کا کریہہ عمل ، ایک لایعنی چکر، ایک لاحاصل چرخہ، وہی پُرانی غلطیاں ہم نئے وُفور سے دہراتے ہیں، وہی بے مقصدیت، وہی صِفر جمع صِفر، وہی بِنجنگ وہی پرجِنگ ۔

کچھ سال پہلے ہمیں بتایا گیا کہ کراچی کے ایک صاحب ہیں ان کا نام لینے پر پابندی لگا دی گئی ہے، پھر ایک جاتی عمرا کے مکین تھے جن کے بارے یہی حکم صادر ہوا، اب میڈیا چسکے لے لے کر ایک صاحب کو ’قاسم کا ابا‘ کہہ رہا ہے۔ایسی جبری پابندیوں پر جو لوگ کل خوش تھے آج منہ بسورے پھرتے ہیں، اور کل تک جن کے منہ لٹکے ہوئے تھے آج صف بہ صف بغلیں بجاتے نظر آتے ہیں۔ یہ سب تماشا کل بھی اتنا ہی لایعنی تھاجتنا آج ہے۔

یہ بولیمیا نہیں تو اور کیا ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ ابو ٹیریان ملٹری کورٹس کو آئین و قانون کا روشن ترین مظہر گردانتے تھے اور ابو مریم کہا کرتے تھے کہ ملٹری کورٹس کا انصاف کے نظام میں وہی مقام ہے جو موسیقی کی دنیا میں فوجی بینڈ کا ہوا کرتا ہے۔آج صورتِ احوال اس کے یک سر برعکس ہے۔ حکومتی وزراء آج کل فوجی عدالتوں کے گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار دیکھنے کے متمنی ہیں۔

تیغِ ستم وہی ہے گلے بدلتے رہتے ہیں۔ پہلے ایک گروہ کو دُرے مارے جاتے ہیں اور دُوسرا پُر خروش تالیاں پیٹتا ہے اورپھیپھڑوں کی تمام تر توانائی بروئے کار لاتے ہوئے نعرہ زنی کرتا ہے کہ ’اور زور سے مارو‘، پھر دُوسرے گروہ کی برہنہ پشتوں پر چابک زنی کی جاتی ہے اور پہلا گروہ رقصِ انبساط میں مگن ہو جاتا ہے۔ پہلے صحافی اٹھائے جاتے تھے اور کچھ لوگ کہتے تھے یہ صحافی نہیں لفافی ہیں، اب صحافی اٹھائے جاتے ہیں اور ہم کہتے ہیں یہ صحافی تھوڑی ہیں یہ تو ’پالتو‘ ہیں، یہ تو ان کے گھر کا جھگڑا ہے، ہمارا ان سے کیا تعلق۔کون صحافی ہے کون نہیں، یہ فیصلہ کرنے میں ہم سب آزاد ہیں، لیکن آئین میں انسانی حقوق تو سب کے یکساں ہیں، خواہ آپ انہیں لفافی سمجھیں یا ’گیلا تیتر‘۔

منہ سے لفظ آئین نکل گیا جس کیلئے معذرت چاہتا ہوں۔ جون بھائی کہتے ہیں’ ’اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر…..کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی‘‘۔کل نیب کے چیئر مین کا ایک بیان نظر سے گزرا، موصوف فرما رہے تھے اب نیب صرف میرٹ پر کیس بنائے گا۔پچھلے چیئرمین جاوید اقبال بھی کہتے تھے میں فیس نہیں کیس دیکھتا ہوں ۔ ناصر کاظمی یاد آگئے جو وحشت میں ہر فیس کو چوم لیا کرتے تھے۔ نیب کی تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی، اب یہ دیوار ثریا تک ٹیڑھی جائے گی۔ لیکن ہم باز ہی نہیں آتے۔کھاتے جاتے ہیں اور اُلٹی کرتے جاتے ہیں۔
جہاز وہی ہے، پہلے اس میں لوگ بھر بھر کے بنی گالا لائے جاتے تھے، اب وہی لوگ واپس لے جائے جا رہے ہیں، پہلے طوق پہنایا گیا تھا، اب اتارا جا رہا ہے۔ یہ پاکستان استحکام پارٹی کوئی نئی پارٹی تو نہیں ہے، اس کا شجرہ ریپبلکن پارٹی اور کنونشن لیگ سے جا ملتا ہے، اور بھی دس بارہ جماعتوں کا نام اس ضمن میں لیا جا سکتا ہے۔ پھر وہی ایلیکٹ ایبلز، پھر وہی ضمیر فروشی، پھر وہی ہانکا، پھر وہی ریوڑ، پھر وہی مشقِ لا حاصل۔ پاکستان استحکام پارٹی بنانے والے نئی غلطی کرنے کی اہلیت بھی نہیںرکھتے۔عوام اس پارٹی سے کیا توقع باندھ سکتے ہیں؟

کہ یہ جماعت ملک کی نیّا منجدھار سے نکال کر آسودہ ساحلوں تک لے جائے گی؟ کیا کوئی ذی ہوش یہ گمان رکھتا ہے؟ ہاں، ایک کام یہ جماعت ضرور انجام دے سکتی ہے اور وہ ہے ایک معلق پارلے منٹ کا ظہورممکن بنانا، تاکہ سیاسی زلزلے ایک جنبشِ ابرو کے پابند رہیں۔ صفر جمع صفر جمع صفر۔ پچھلے ہفتے نہ چاہتے ہوئے بھی سالانہ بجٹ پر ایک نظر پڑی، وہی دہائیوں پرانا بجٹ، بس وزیرِ خزانہ بدلتا رہتا ہے۔ بجٹ کا خُلاصہ ہے ’’دے جا سخیا راہِ خدا‘‘ ۔ ہر سال پچھلے سال سے زیادہ قرض کی ضرورت ہوتی ہے، اور اب تو سو فی صد انحصار قرض پر ہے۔یعنی ملکوں ملکوں کاسہ بہ دست گھومنا ہو گا، قریہ قریہ صدا لگانا ہو گی۔انوکھی ریاست بنائی ہے جہاں غریبوں سے ٹیکس لے کر امراء کو تیرہ ارب ڈالر کی سب سبسڈی دی جاتی ہے یعنی قرض کی مے کے جام پہ جام لنڈھائے جاتے ہیں۔کاش، ہم نئی غلطیاں کرنے کی صلاحیت رکھتے۔
ایک دو دفعہ قے کرنے سے ہی پسلیوں میں درد ہونے لگتا ہے، اور بولیمیا کے مریض کا تو انجر پنجر ہِل کے رہ جاتا ہے۔ اب آپ کو سمجھ آئی یہ ملک کیوں کراہ رہا ہے!

اپنا تبصرہ بھیجیں