آغا وقار ھاشمی

مولفِ نہج البلاغہ سید رضی

محمد بن حسین الموسوی المعروف سید رضی سن 970 عیسوی / 359 ھجری میں بغداد میں پیدا ہوئے، آپ کا سلسلہ نسب 6 پشتوں پر امام موسی کاظم علیہ السلام سے ملتا ہے، آپکے والد ابو احمد حسین بن موسی اپنے دور کے مشہور عالم اور نقیب النقبا کے عہدے پر فائز اھل عراق میں ایک معروف شخصیت تھے، انہیں کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک کے حرم میں مدفون ہونے کی سعادت حاصل ہے،
سید رضی کی والدہ نام فاطمہ تھا جن کا کہ سلسلہ نسب امام زین العابدین علیہ السلام سے ملتا ہے، یہ سید رضی والدہ ہی تھیں کہ جن کی فرمائش پر شیخ مفید نے معروف کتاب ” احکام النساء” تالیف کی، جس میں خواتین سے متعلق فقہی احکامات کو اکٹھا کیا گیا تھا،
انہی کی درخواست پر شیخ مفید نے سید رضی اور انکے بھائی سید مرتضی کو اپنی شاگردی میں لیا تھا، یہ بھی ایک دلچسپ واقعہ ہے جو کہ ابن الحدید نے اپنی شرح نہج البلاغہ میں لکھا ہے کہ شیخ مفید کو ایک رات خواب میں سیدہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہ نے دو بچوں کو اپنی شاگردی میں لینے کا حکم دیا، اگلے دن سید رضی اور سید مرتضیٰ کو لے کر انکی والدہ شیخ مفید کے پاس آئیں اور ان سے اپنے بیٹوں اپنی شاگردی میں لینے کی درخواست کی تو شیخ مفید ایک رات قبل کے خواب کا مقصد سمجھ گئے اور دونوں بچوں کو شاگردی میں لے لیا،
سید مرتضیٰ بھی اپنے وقت کے جلیل القدر عالم اور شاعر ہوئے، انہوں نے 20،000 سے ذائد شعر کہے اور بہت سی کتابیں فقہ، اصول فقہ، کلام، ادب، عربی گرائمر، کے موضوعات پر تالیف کیں، انہوں نے 81 سال کی عمر میں وفات پائی،
دوسری طرف سید رضی کی زندگی کا دورانیہ تو صرف 45 سال رہا، اور ان 45 سالوں میں 20 سال انہوں نے نہج البلاغہ کی تالیف پر صرف کیے، یعنی 20 سال مسلسل کلام امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کے خطبات، خطوط، احادیث کی تلاش اور تدوین میں گزارے،
نہج البلاغہ میں امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے کلام پر کام کیا، اسکے علاوہ قرآن میں کلام اللہ، کلامِ رسول مقبول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی کتب تالیف کیں،
سید رضی کی نہج البلاغہ کے علاوہ دیگر تالیفات میں سے چند کے نام،

1) تلخیص البیان فی المجازات القرآن
2) مجازات الاطہار النبوہ ( رسول اللہ ص کے کلام پر)
3) خصائص آئمہ علیہ السلام
4) معانی القرآن
5) دیوان الشیر (شعری مجموعہ)

سید رضی نے اپنی آدھی زندگی جس کام میں صرف کی آج انکی محنت سے سبھی عالم اسلام (شیعہ، سنی) یکساں مستفید ہو رہا ہے، کلام امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کو لوگوں تک اس خوبصورت انداز میں پہنچانے سید رضی پر سلام ہو.

اپنا تبصرہ بھیجیں