مظہر برلاس

مستقبل کا سیاسی نقشہ

آج کل طرح طرح کی باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ کوئی کہتا ہے الیکشن ہوگا ، کوئی کہتا ہے نہیں ہوگا۔ کسی کے نزدیک بلاول بھٹو وزیراعظم بن رہا ہے اور کسی کے نزدیک کوئی اور ۔ کوئی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی باتیں کرتا ہے تو کوئی کہتا ہے ہم سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں کریں گے۔ کچھ کا دعویٰ ہے کہ قاسم کے ابو کو نہیں آنے دیا جائے گا۔ کچھ کی نظریں صدارت پر لگی ہوئی ہیں۔ اس عجیب و غریب منظر میں ہم بھی مستقبل کا سیاسی نقشہ پیش کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں اندرونی لڑائی جاری ہے ۔اب اس میں شدت آ گئی ہے چند دنوں میں ایک دوسرے کو آنکھیں دکھائی جائیں گی۔ آزاد کشمیر میں ہونے والے ایک ضمنی الیکشن نے لڑائی کو بے نقاب کر دیا ہے ۔

یہاں سے پیپلز پارٹی کے ضیاء قمر ، ن لیگ کے مشتاق منہاس اور پی ٹی آئی کے کرنل ضمیر ضمنی الیکشن لڑ رہے تھے۔ یہاں بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز نے الگ الگ جلسے کئے۔ پی ٹی آئی کا کوئی جلسہ نہ ہو سکا کیونکہ پی ٹی آئی زیر عتاب ہے۔ مبینہ طور پر مقامی طاقتور نے طاقت کا وزن پیپلز پارٹی کے پلڑے میں ڈالا تو ن لیگ پریشان ہو گئی۔ الیکشن سے ایک روز پہلے نواز شریف نے ایک اہم طاقتور کو فون کیا اور کہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ ہمارا امیدوار جیتنا چاہیے۔ وہ طاقتور متحرک ہوا ، آخری رات پانسہ پلٹنے کی کوششیں کی جانے لگیں۔ جماعت اسلامی کے اہم رہنما کو کہیں لے جایا گیا۔ حلقے کی دیگر مقبول شخصیات پر بھی دباؤ ڈالا گیا۔ ایسے میں پی ٹی آئی کے امیدوار کرنل ضمیر کے بریگیڈیئر بھائی نے دباؤ قبول نہ کرتے ہوئے اپنے ووٹ پیپلز پارٹی کے امیدوار ضیاء قمر کو ڈلوا دئیے ۔

جب یہ بات ایک انتہائی اہم ترین طاقتور شخصیت کے علم میں لائی گئی تو اس نے کہا بس جو جیتتا ہے اسے جیتنے دو۔ الیکشن کی شام ن لیگ نے دھاندلی کی آواز بلند کی اور پھر دو روز بعد ضیاء قمر کے والد سردار قمر زمان نے سب کچھ بتا دیا ۔ ان کی گفتگو وائرل ہو چکی ہے۔ پی پی اور ن کی دوسری لڑائی پی سی بی کی چیئرمین شپ پر ہو رہی ہے جبکہ تیسری لڑائی روہنگیا مسلمانوں کے چار لاکھ ووٹوں پر ہے۔ ایک لڑائی منصب صدارت پر بھی ہونے والی ہے۔
ایک اور لڑائی پی ڈی ایم کے اندر ہو رہی ہے۔ مولانا ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے سلسلے میں کئے گئے وعدوں پر عہد شکنی ہو رہی ہے۔ ان سے تو صدارت کا وعدہ تھا، ایک صوبے کی وزارتِ اعلیٰ کا بھی، لیکن جب سے پرویز خٹک پی ٹی آئی چھوڑ کر سرگرم ہوئے ہیں تو مولانا نے اہم ترین شخصیات کے سامنے شکوؤں کے انبار لگا دئیے ہیں۔ پنجاب میں الیکٹیبلز( مضبوط امیدواروں) پر لڑائی ہو رہی ہے ۔ ان میں سے کچھ آصف علی زرداری نے ہتھیا لیے ہیں ، باقی جہانگیر ترین کی کشتی میں بیٹھ گئے ہیں مگر یہ کشتی دریا میں اترتے ہی ہچکولے کھانے شروع ہو گئی ہے بلکہ بھنور میں پھنس گئی ہے۔

اس کشتی سے لوگ چھلانگیں لگانا شروع ہو گئے ہیں۔ اس دوران پی ٹی آئی کی توڑ پھوڑ کا عمل جاری ہے مگر ووٹر نہیں ٹوٹ رہا۔ قاسم کے ابو کے ووٹ پہلے سے بڑھ گئے ہیں ، اس صورتحال نے حکمرانوں کی نیندیں خراب کر دی ہیں۔ کوئی اگست میں تو کوئی اکتوبر میں الیکشن کی بات کرتا ہے، کوئی 13 اگست سے دو چار روز پہلے اسمبلی برخاست کر کے تین مہینے کے لئے الیکشن ٹالنا چاہتا ہے، کوئی چھ مہینے تو کوئی ایک سال مدت بڑھانے کی بات کرتا ہے۔ کوئی معاشی ایمرجنسی کی باتیں کرتا ہے مگر مستقبل کے سیاسی آئینے میں یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اگر الیکشن ہوئے تو قاسم کا ابو جیت جائے گا۔ پی ٹی آئی کے نوجوان امیدوار بڑے بڑے سیاستدانوں کو شکست فاش دیں گے اور اگر الیکشن نہ ہوئے تو پھر چھ مہینے سال کی بات نہیں، ڈھائی تین سال کے لئے اور لوگ اقتدار میں آ جائیں گے کیونکہ موجودہ حکمران معاشی میدان میں شاندار نتائج دکھانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں اور لانے والوں کے لئے بھی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ یاد رہے کہ بعض بین الاقوامی ادارے معاشی امداد کو انتخابات سے مشروط کر رہے ہیں ۔ حالیہ بجٹ میں جو اعلانات کئے گئے ہیں ملکی خزانہ ان کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ بقول فرحت عباس شاہ

ہر لحظہ سر عام ترا پیچھا کریں گے
ترے ہی کئے کام ترا پیچھا کریں گے
تو مجھ کو ڈراتا تھا تو اب خوف کے سائے
ہر روز صبح و شام ترا پیچھا کریں گے
پچھتاوے ڈسیں گے تجھے تنہائی میں آ کر
اور گلیوں میں الزام ترا پیچھا کریں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں