مظہر برلاس

طارق ملک! ہم شرمندہ ہیں

طارق ملک! ہم شرمندہ ہیں

عملی زندگی کے ابتدائی ایام میں منو بھائی اور پروفیسر فتح محمد ملک راولپنڈی کے ایک اخبار سے منسلک تھے۔ دونوں پوار مہینہ دفتر کی کینٹین سے چائے اور رس ادھار کھاتے رہے۔ تنخواہ ملی تو راولپنڈی کے ایک بازار سے گزرتے ہوئے روٹی کی خوشبو نے منو بھائی کو بے چین کر دیا، انہوں نے فتح محمد ملک سے کہا آج بتیس دنوں بعد تو روٹی کھا لیں۔ منو بھائی کے والد ریلوے ملازمت کے سلسلے میں اٹک، پنڈی اور کلیام میں رہے، ان کا ایک حوالہ وزیرآباد بھی ہے۔ چکوال کے تاریخی قصبے بھون کےوسیع کھیتوں میں پھیلی سرسوں کے بسنتی رنگ کی یادیں لئے فتح محمد ملک نے عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا۔ پھر منو بھائی لاہور جا بسے اور فتح محمد ملک نے راول دیس میں پڑھانا شروع کیا۔ فتح محمد ملک کے گھر میں دیانتداری کا یہ عالم تھا کہ ایک بیٹا جوتے خریدتا تو دوسرے سے کہا جاتا تمہارے جوتے اگلے مہینے آئیں گے ، تنخواہ میں گنجائش نہیں ۔ پروفیسر فتح محمد ملک نے اولاد کو رزق حلال سے پالا۔ اقبالیات کے یہ ماہر جرمنی بھی رہے، پاکستان میں کئی ذمہ دار عہدوں پر کام کیا۔ کچھ آسودگی آئی تو توجہ بچوں کی تعلیم پر مرکوز کر دی۔ فتح محمد ملک خود تو ذہین و فطین تھے ہی ان کی ساری اولاد ذہین و فطین ہے ۔ان میں سے ایک طارق ملک ہے ، جس نے چیئرمین نادرا کی حیثیت سے استعفیٰ دیا ہے۔ دوسرے بیٹے طاہر ملک یونیورسٹی میں استاد ہیں جبکہ سب سے چھوٹے بیٹے عدیل ملک آکسفورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں ۔ یہ خاندان پاکستان کا عاشق ہے۔
فی الحال طارق ملک کی بات کرتے ہیں،جس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا زمانہ معترف ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کے دور میں چیئرمین نادرا بنے۔ انہوں نے صلاحیتوں کا لوہا منوایا، انڈیا کو پیچھے چھوڑا اس لئے کئی ملکوں نے پاکستان سے مستفید ہونے کا فیصلہ کیا، ان ملکوں نے کہا کہ ہمیں بھی ایسا سسٹم بنا دیں۔ طارق ملک کامیاب رہے۔ پھر 2013ء کے الیکشن ہوئے ، دھاندلی کا شور مچا، چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیاگیا،حکومت ہیرا پھیری کرنا چاہتی تھی مگر چکوال کا چاند آڑے آ گیا۔ اس وقت ن لیگ کی حکومت تھی۔ ایک جرات انکار پر وزیر داخلہ نے ایف آئی اے سمیت کئی اداروں کو طارق ملک کے پیچھے لگا دیا۔ ظلم تو یہ تھا کہ سرکاری غنڈوں کی گاڑیاں طارق ملک کی زیر تعلیم بیٹیوں کا پیچھا کرتیں۔ بالآخر طارق ملک کو جانا پڑا۔ وہ ملک سے باہر گیا تو اسے کئی ملکوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا پھر وہ یونائیٹڈ نیشنز میں اہم عہدے پر ذمہ داریاں ادا کرنے لگا۔ 2018ء میں الیکشن ہوئے تو پی ٹی آئی نے اقتدار میں آتے ہی نادرا میں پروفیشنل چیئرمین لگانے کا فیصلہ کیا۔ درخواستیں مانگی گئیں ، طارق ملک کو دھرتی کی محبت اور چکوال کی چاندنی نے مجبور کیا کہ وہ بھی اپلائی کرے حالانکہ وہ پاکستان سے گیا تھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ، اس کے کلیجے میں کرب تھا،اسے دھرتی سے دکھ ملا تھا۔خیر! دنیا بھر سے جو ایک سو امیدوار شارٹ لسٹ کئے گئے، ان میں طارق ملک ٹاپ پر تھے۔ حکومت نے انہیں چیئرمین بنا دیا، وہ سیاسی مداخلت کے بغیر کام کرنے لگے پھر پاکستانی قوم کی بدقسمتی کہ رجیم چینج کے نام پر ان لوگوں کو مسلط کر دیا گیا جن کے نزدیک کسی کا باصلاحیت اور اصول پسند ہونا جرم ہے،ن لیگ کے اس دور میں بھی طارق ملک کو پرانے مناظر کا سامنا تھا۔ لاکھوں ووٹوں کی ہیرا پھیری کا حکم تھامگر چکوال کا چاند پھر آڑے آ گیا ۔ پرانے گھٹیا حربوں کے بعد انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔ شاندار الفاظ میں لکھے گئے استعفے میں چند باتیں ایسی ہیں جو پاکستانی قوم کو برسوں ڈستی رہیں گی۔ انہوں نے لکھا “مجھ سے جن سمجھوتوں کی توقع کی جا رہی ہے وہ میری اقدار سے زیادہ اہم نہیں ،میری جگہ کسی حاضر سروس یا ریٹائرڈ کو لگانے کی بجائے کسی پروفیشنل کو لگا دینا کیونکہ نادرا کسی سیاسی تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا”۔
محب وطن طارق ملک مڈل کلاس کے ماتھے کا جھومر ہے ۔ اس ذہین ترین اور اصول پسند شخص کا سیاسی مکاروں کے ساتھ چلنا مشکل تھا۔ اس کے استعفے سے پوری قوم شرمندہ ہے کہ ہمارے ہاں کسی اہل اور باصلاحیت آدمی کا چلنا کتنا مشکل ہے۔ کتنے ذہین ترین پاکستانی اس لئے باہر چلے گئے کہ یہاں ان کے ٹیلنٹ کی قدر ہی نہ کی گئی۔ حکمرانوں نے طارق ملک سے استعفیٰ تو لے لیا مگر شاید انہیں یاد نہیں کہ ظلم اور خوف سے گلیاں تو سنسان کی جا سکتی ہیں، دل نہیں جیتے جا سکتے۔ دل جیتنے کے لئے ظلم کا راستہ چھوڑنا پڑتا ہے۔ ایسے حکمران لانے والوں کے لئے افتخار عارف کا شعر پیش خدمت ہے

میں نے ایک اور بھی محفل میں انہیں دیکھا ہے
یہ جو تیرے نظر آتے ہیں یہ سب تیرے نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں