رانا اعجاز حسین چوہان

سماجی انصاف

رانا اعجاز حسین چوہان

معاشی ترقی کے لیے سماجی انصاف بہت اہمیت رکھتا ہے، تاریخ شاہد ہے کہ دنیا میں اقوام نے ترقی اس وقت کی جب انہوں نے اپنے شہریوں کو ہر شعبۂ زندگی میں مساوی مواقع فراہم کئے ۔ اور اگر ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات مثلاً صحت، تعلیم، رہائش، پینے کا صاف پانی وغیرہ دینے میں ناکام ر ہے تو اس کا لازمی نتیجہ معاشرتی بے اطمنانی ، لاقانونیت، مایوسی، معاشی بد حالی اور ترقی کی نمومیں نمایاں سست روی کی صورت نکلتا ہے ۔ اور جب معاشرے میں لوگوں کو انصاف کے یکساں مواقع نہیں ملتے تواس سے بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں ، معاشرے میں غربت، کرپشن اور جرائم میں اضافہ ہوتا ہے ، اور لوگ جنگ و جدل کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سماجی انصاف کا عالمی دن منانے کی قرارداد 2007ء میں منظور کی اور ہر سال 20 فروری کو سماجی انصاف کا دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جاتا ہے ۔ اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ تمام ریاستیں اور حکومتیں اپنے شہریوں کے لیے مساوی حقوق کو یقینی بنائیں، غربت کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں اور سب کو روزگار کے بھرپور و یکساں مواقع فراہم کئے جائیں۔ دنیا میں ترقی کرنے والی اقوام نے اپنے شہریوں کو صرف صنعتی ترقی اورآگے بڑھنے کے مواقع ہی نہیں دیے بلکہ اپنے پورے معاشرے پرانصاف کو غالب کرکے انہیں بہت سی فکروں اور پریشانیوں سے آزاد کیا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کا شماربھی ان ممالک میں ہوتا ہے جس کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ یہاں پرسماجی انصاف کی حالت کچھ زیادہ بہترنہیں، لوگ پینے کے صاف پانی ، صحت و تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں جبکہ صرف پچاس فیصد پاکستانیوں کو بنیادی سہولتیں میسر ہیں ۔ اقربا پروری اور عدم مساوات کے سبب پاکستان میں معاشی ترقی انتہائی سست روی کا شکار ہے ۔ رول آف لا انڈیکس میں دنیا کے 126ممالک میں پاکستان 118ویں نمبر پر ہے جبکہ انسانی ترقی کے عالمی انڈیکس میں پاکستان کا نمبر 154واں ہے (اس انڈیکس میں کل 189ممالک شامل ہیں)۔ حکومتی اقدامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافے کے باوجود معاشرے میں روز بروز بڑھتے جرائم، چوریاں، ڈکیتیاں ،رسہ گیری اور رہزنی کے واقعات لمحہ فکریہ ہیں ۔ جبکہ معاشرے کی درست تشکیل و تعمیر کے لیے سماجی انصاف بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
اگر مذاہب کی بات کی جائے تو ہمارا دین اسلام سماجی انصاف اور معاشرتی مساوات کا قائل ہے ۔ حجۃ الوداع کے موقع پر خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے آخری خطبے میں انسانوں کے درمیان ہر طرح کی تفریق کو رد کرتے ہوئے معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام پر زور دیا تھا۔ اقوام و مذاہب کے تقابلی مطالعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام سماجی انصاف کی فراہمی اور معاشرتی مساوات کا سب سے بڑا علمبردار ،قائل اورسچا داعی مذہب ہے، جس نے معاشرے میں موجود تمام انسانوں کو ایک جیسے مقام سے نوازا ہے۔ اسلام میں رنگ و نسل، قوم و قبیلہ،ذات پات، دولت و ثروت،اختیار و اقتدار، غریب و امیر،پختون و پنجابی،سندھی ، بلوچی ، سرائیکی وغیرہ ہونے پر کوئی امتیاز روا نہیں رکھاگیا، بلکہ اس کی تقسیم کا واحد قاعدہ واصول صرف اور صرف ’’تقویٰ و للہیت‘‘ پرقائم ہے۔ اللہ ربّ العزت کا ارشاد ہے ’’ اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرداور ایک عورت سے پیدا کیا ہے۔اور تم کو مختلف شاخوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسروں کو پہچان سکو، اللہ کے نزدیک زیادہ متقی ہی عزت والا ہے‘‘۔ بلا امتیاز عدل و انصاف کا قیام اسلامی معاشرے کا ایک اہم اور بنیادی ستون ہے، بلاشبہ عدل و انصاف ہی کی وجہ سے ہی حقدار حق پالیتا ہے اور مجرم سزا۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’ جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو‘‘۔ خاتم انبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’ جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں انہیں اسی چیز نے ہلاک کیا کہ جب ان میں سے کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے، اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر سزاجاری کردیتے، اور اللہ کی قسم اگرمحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کریگی تو میں اس کا ہاتھ بھی ضرور کاٹوں گا‘‘۔ لیکن اگر ہم آج کے معاشرے میں اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں سماجی انصاف کی صورتحال اسلامی تعلیمات کے بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے، کیونکہ ہم اسلام کی روشن تعلیمات کو پس پشت ڈال کر اغیار کی ننگی تہذیب کے دلدادہ ہو چکے ہیں، اسی وجہ سے معاشرے میں محبت و الفت ناپید ہوگئی ہے اوربدامنی و انتشار بڑھ گیا ہے۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں امن و امان قائم ہو سکتا ہے الفت و محبت کے جذبات پیدا ہوسکتے ہیں ، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم مسلمان صحیح طور پر تعلیمات اسلام کے مطابق دیانتدارانہ زندگی گزارنے والے بن جائیں۔اور ہماری حکومت وسائل کی منصفانہ تقسیم ، غربت کے خاتمے اور سستے اور فوری انصاف کی فراہمی ، روز گار کے مواقع ، اعلیٰ تعلیم، معیاری صحت کی سہولیات سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی آسان بنائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں