ستیش کوشک، اک عہد تمام ہوا

ستیش کوشک، اک عہد تمام ہوا

ستیش کوشک نے صرف ہنسایا ہی نہیں بلکہ انہوں نے رلایا بھی ہے۔ میں صرف اج ان کے جانے پر رونے کی بات نہیں کررہا۔ وہ صرف کامیڈین نہیں تھے بلکہ بطور فلم ڈائریکٹر اس نے کئی بڑی فلمیں بنائیں جن میں سے کچھ اس کیلئے ڈیزاسٹر ثابت ہوئیں۔ مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اور پھر ستیش کوشک نے تیرے نام کے ذریعے دھماکہ کر ڈالا۔ گو کہ یہ تمل فلم کا ری میک تھا مگر انکی ڈائریکشن میں بنی یہ فلم کامیڈی کے بجائے ٹریجڈی پر مبنی تھی جو کہ بلاک بسٹر ثابت ہوئی۔ جبکہ خود ستیش کوشک کی زندگی بھی ٹریجڈی سے عبارت تھی مگر وہ اپنے دکھوں پر مسکرا کر اگے بڑھ جاتے تھے۔ قصہ مختصر جب دلیپ کمار کی دیوداس ریلیز ہوئی تو اس بارے پڑھا تھا کہ اس دور میں ہر نوجوان دیوداس کی طرح برباد دِکھنے کی خواہش و ایکٹنگ ضرور کیا کرتا تھا۔ اور یہی کچھ تیرے نام کے وقت بھی ہوا۔

جبکہ تیرے نام کی ریلیز کا دور میری نوعمری کا ہے سو مجھے یاد ہے ان دنوں سی ڈی سنٹر پر کیسے رش ہوا کرتا تھا۔ کرائے پر ملنے والی سی ڈی منہ مانگی رقم دینے پر بھی کئی دنوں تک دستیاب نہیں ہوتی تھی۔ باقاعدہ ایڈوانس بکنگ میں نام لکھے جاتے تھے۔ اور جسے سی ڈی مل جاتی تھی تو اس دن کمپیوٹر یا سی سی ڈی کے سامنے درجن سے زیادہ چوکرے بھیٹک وحجروں میں اکھٹے ہوجاتے تھے۔ جبکہ ہر مارکیٹ میں نائیوں کی دکانوں پر الگ سے رش ہوا کرتا تھا۔ نائیوں نے بھی سلمان خان کے تیرے نام بالوں کے پوسٹر لگوا دیئے تھے۔ جن لڑکوں کے بال بڑے تھے وہ تیرے نام اسٹائل میں بال کٹوانے کا نائی سے کہا کرتے تھے۔ اور جن کے بال چھوٹے تھے وہ بال بڑھا کر اس انتظار میں تھے کہ پھر نائی سے تیرے نام والی کٹنگ کرائیں گے۔

دلیپ کمار کے بالوں کے اسٹائل کو اس دور میں نوجوانوں نے خوب کاپی کیا تھا جس پر کرشن چندر نے دلیپ کمار کا نائی نام سے افسانہ بھی لکھا جس میں ایک شخص خود کو دلیپ کمار کا نائی کہہ کر لوگوں کو چونا لگواتا ہے۔ خیر دلیپ کمار کے بعد اگر کسی کے بالوں کا اسٹائل گلی گلی مشہور ہوا، تو وہ تیرے نام میں سلمان خان کے بالوں کا اسٹائل تھا اور اس دور کو ہم نے نا صرف دیکھا بلکہ خود بھی ان متاثرین میں شامل تھے۔ جب کسی کو اس اسٹائل میں دیکھا جاتا تو اسے ضرور چھیڑا جاتا کہ لو بھئی “تیرے نام” جارہا ہے۔ خیر ناچیز تو دلیپ کمار کے بالوں کے اسٹائل سے بھی بہت متاثر رہا ہے۔

بس سلمان خان اور دلیپ کمار کے بالوں کے اسٹائل میں فرق اتنا سا ہے کہ دلیپ کمار کے بال اصلی تھے جبکہ سلمان خان نے تیرے نام کیلئے ویگ کا استعمال کیا تھا۔ اور یوں ہم سبھی نقلی بالوں کے شکار ہوگئے۔ بہرحال اگر تب انوراگ کیشپ کی تجویز مان لی جاتی تو بہت سے متاثرین کے بعد میں دل نہ ٹوٹتے۔ سلمان خان نے انوراگ کش کی اس تجویز کا بُرا منایا کہ وہ اپنے بال بڑے کرلے اور یوں انوراگ کو فلم سے الگ کردیا گیا۔ مگر پھر سوال اٹھتا ہے کہ کیا پھر فلم تیرے نام کو اتنی شہرت نصیب ہوتی؟ میرا خیال ہے شاید اتنی نہیں۔ اپ کا کیا خیال ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں