zahid saeed

دل کی ویرانی سمیٹی، شاعری تخلیق کی

دل کی ویرانی سمیٹی، شاعری تخلیق کی
ہم نے وحشت کے مقابل اِک ہنسی تخلیق کی

ورنہ جاں لے لیتی یہ حد سے بڑھی حَسّاسیت
سو جتن سے ہم نے آخر بے حِسی تخلیق کی

بندشِ اِمروز و فردا سے، عناصِر سے پرے
اپنے اندر ہم نے دنیا اک نئی تخلیق کی

پہلے، سنتے ہیں یہاں خوش خوش رہا کرتے تھے لوگ
بس خدا نے ایک دن پھر آگہی تخلیق کی

ایک دم بھی تھا یہاں مشکل، سو آخر ہم نے بھی
پھول کچھ دامن پہ کاڑھے اور خوشی تخلیق کی

باپ ورثے میں یہ عادت دے گیا مجھ کو سعیدؔ
وقفِ ظلمت کر کے خود کو، روشنی تخلیق کی

اپنا تبصرہ بھیجیں