حضرت منصور حلاج رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ہمشیرہ الله کی ولیہ تھیں

حضرت منصور حلاج رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ہمشیرہ الله کی ولیہ تھیں۔ ہر روز چپکے سے بغداد کے صحرا میں جاتیں اور الله کی یاد میں مصروف ہو جاتیں۔ جب فارغ ہوتیں تو ایک جام نصیب ہوتا جسے وہ پی کر رات کی تاریکی میں گھر لوٹ آتیں۔ جب حضرت منصور رحمۃ اللّٰہ علیہ کو پتہ چلا کہ ان کی بہن رات کو گھر نہیں ہوتیں، نہ معلوم کہاں جاتی ہیں۔ ایک رات وہ ان کی تاک میں رہے، جب وہ حسب معمول صحرا کی طرف چلیں، منصور ان کے پیچھے پیچھے ہو لئے۔ حتی کہ وہ متعینہ مقام پر پہنچ کر اپنے معمول کے مطابق یاد الہٰی میں مصروف ہو گئیں۔ جب فارغ ہوئیں تو جنت سے شراب طہور کا ایک جام اسرار الہی سے لبریز پیش ہوا، آپ پینے لگیں۔ منصور نے فریاد کی، اس کو بھی دیں، اس پر انہیں بہت رنج ہوا کہ آج اس کا راز کھل گیا۔
اس نے بچا ہوا پیالہ منصور کو دے دیا۔ جسے اس نے پیا اور پیتے ہی بول اٹھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔انا الحق انا الحق

منصور کو یہ نعمت مفت عطا ہوئی، وہ اس کی تاب نہ لا سکے۔ اسی جام کو ان کی بہن بیس سال پیتی رہی لیکن ڈکار تک نہ لی۔ منصور نے ایک دن پیا اور وہ بھی بچے ہوئے دو گھونٹ اور بول اٹھے، ” انا الحق “۔۔۔۔

بغداد میں شور مچا۔ معاملہ قاضی کے سامنے پیش ہوا۔ شاہ جنید رحمۃ اللّٰہ علیہ سے فتویٰ طلب کیا گیا۔ آپ نے خرقہ اتارا اور شرعی لباس پہن کر ظاہر پر فتویٰ دیا۔ شاہ منصور رحمۃ اللّٰہ علیہ پر اسرار الہی کے افشا کی تعزیر نافذ ہوئی اور بندی خانے میں بھیج دیئے گئے۔
محبت کا غلبہ تیز ہوا۔
بندی خانے کی سزا منصور کو اس کے اعلان سے نہ روک سکی۔ شاہی حکم سے منصور پر پتھراؤ کیا گیا۔ شاہ شیخ شبلی رحمۃ اللّٰہ علیہ منصور کے حال کا محرم تھا۔ شریعت کے احکام کے احترام میں منصور کو پتھر کی بجائے پھول مارا، جس پر وہ دھاڑیں مار کر رویا۔
اس لیے کہ شبلی اس کے راز کا محرم تھا۔
منصور علیہ الرحمہ کا کھانا پینا بند کیا گیا۔ تیسرے دن آپ کے لیے کھانا آیا۔ ایک سائل نے سوال کیا کہ اللہ کے نام پر کچھ دو۔ آپ نے وہی کھانا اسے دے دیا۔یہ سخاوت کی حد تھی۔

جب انہیں سولی پر لٹکانے کا وقت آیا۔ منصور نے تازہ خون کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے منہ پر مل لیا۔
پوچھا یہ کیوں؟
کہا قید و بند کی صعوبت سے میرا رنگ پیلا پڑ گیا۔ کہیں لوگ یہ نہ سمجھیں کہ منصور کا رنگ سولی کے خوف سے اترا ہے۔ سولی کے تختے پر کھڑے ہو کر یہ کہا کہ

کھینچ لو کھینچ لو اب احمد مختار (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ سلم) کی خاطر

عرش لرزنے لگا۔ کائنات کی ہر شے تھرا اٹھی۔ قلوب دھڑکنے لگے۔ آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔ اشکبار ہوئیں اور دریا بہا ڈالے۔ منصور نے سولی پر لٹک کر عشق کی داستان کو ایک انوکھے باب سے آشنا کرایا۔

شاہ منصور علیہ الرحمہ کا یہ قصہ اب بھی کسی سے نہیں سنا جاتا۔ جہاں شروع ہوتا ہے، وہیں حال وارد ہوتا ہے۔
منصور معرفت کے امام کے مقام پر جاں بحق ہو کر واصل باللہ ہوئے۔

لیے پھرتی تھی بلبل چونچ میں گل
شہید ناز کی تربت کہاں ہے

“مقالات حکمت” (ابو انیس حضرت صوفی برکت علی لدھیانوی رحمۃ اللّٰہ علیہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں